قومی سلامتی پالیسی اورملکی سلامتی کے تقاضے

قومی سلامتی پالیسی اورملکی سلامتی کے تقاضے

وفاقی کا بینہ نے قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کو یک طرفہ ا ور غیر مشروط جنگ بندی کرنا ہوگی۔اس پالیسی کا باضابطہ اعلان آج قومی اسمبلی میں کیا جائے گا۔وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے ولے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر داخلہ نے ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اجلاس میں قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔کابینہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عسکریت پسند جہاں بھی حملہ کریں گے ، ان کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔اگر کسی جگہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے شواہد ملے تو وہاں کارروائی کی جائے گی۔سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر بھی دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا۔مذاکرات اور آپریشن ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔ پالیسی میں اس عزم کا اظہا ر کیا گیا ہے کہ غیر ریاستی کرداروں سے مذاکرات صرف آئین کے تحت کئے جائیں گے۔ اجلاس میں وزراءکی اکثریت نے رائے دی کہ دہشت گردی کرنے والے گروپوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھا جائے، ان گروپوں کو الگ کرکے طالبان کے ان گروپوں سے مذاکرات جاری رکھے جائیں جو امن پسند ہیں اور آئین کو تسلیم کرتے ہیں۔قومی اتھارٹی برائے انسداد دہشت گردی کو مزید فعال ، متحرک اور منظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں ایک داخلی سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا۔اس کا انتظامی کنٹرول وزیر داخلہ کے پاس ہوگا۔اس کے سربراہ وزیر اعظم ہوں گے۔وزرائے اعلی، تینوں مسلح افواج کے سربراہ اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اس کے رکن ہوں گے۔

ادھر شمالی و جنوبی وزیرستان میں مشتبہ ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں کی بمباری سے 33جنگجو ہلاک اور سو لہ ازبک باشندے گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے وادی شوال کے علاقوں کو نشانہ بنایا اور دہشت گردوں کے گو لہ بارود کے ذخائر بھی تباہ کردئیے ہیں۔ وزیرستان کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی شروع کردی گئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق بہت سے طالبان رہنما افغانستان منتقل ہوگئے ہیں اوربہت سے دہشت گردوں نے شہروں میں پناہ لینا شروع کردی ہے۔ تاہم ایسی خبریں عوام میں خوف پیدا کرنے کے لئے بھی پھیلائے جانے کا امکان ہے۔

بہت سے سیاسی رہنماﺅں کی طرف سے وفاقی کابینہ کی طرف سے قومی سلامتی پالیسی کے طریق کار پر اعتراضات کئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ مناسب یہ تھا کہ منظوری سے پہلے اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جاتی یا پھر اس سلسلے میں کم از کم بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اعتماد میں لیا جاتا اسی صورت میں اسے قومی پالیسی کا نام دیا جاسکتا تھا۔ اس طرح کے اعتراضات اپنی جگہ لیکن حکومت کی طرف سے بحث کے لئے یہ پالیسی بہر حال پا رلیمنٹ میں پیش کی جارہی ہے ۔ جس کا مقصد یہی ہے کہ اس کے جن پہلوﺅں پر نظر ثانی کے سلسلے میں اتفاق رائے ہو جائے وہاں نظر ثانی کرلی جائے اور اسے مجموعی طور پر قومی امنگوں کی آئینہ دار اور قومی سلامتی کی حقیقی معنوں میں ضامن بنا دیا جائے۔ اب جبکہ وفاقی کابینہ نے فوج کو طالبان کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار دے دیا ہے ، الطاف حسین اپنی تقریر میں یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ فیصلے کا وقت آگیا ہے پاکستان کو بچا لیں یا جمہوریت کو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپریشن میں حکومت ساتھ نہ دے تو فوج ٹیک اوور کرلے۔انہوں نے کہا کہ میں آمریت کو پسند کرتا ہوں نہ دعوت دے رہا ہوں لیکن ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کو بچانا ہے یا جمہوریت کو۔

سیاسی حکومت اور فوج الطاف حسین کے کہے بغیر ہی طالبان کے سلسلے میں ایک صفحے پر ہیں۔ لیکن الطاف حسین بلا سبب دونوں میں اختلاف و انتشار کی باتیں کررہے ہیں، اس وقت دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاک فوج کارروائیاں کررہی ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق ان موثر اور کامیاب کارروائیوں سے دہشت گردوں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور یہ سب ان کی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے بہت سے اہم لیڈر مارے گئے ہیں اور باقی بھاگ کر افغانستان میں چلے گئے ہیں۔ وزیرستان کے علاقے سے آبادی کی نقل مکانی بھی شروع ہوچکی ہے۔ اب یہ حکومت کا کام ہے کہ قبائلی علاقوں سے دوسرے علاقوں میں جانے والے لوگوں کی اچھی طرح چیکنگ کرائے ۔ انہیں صرف مخصوص علاقوں میں آپریشن ختم ہونے تک رہنے کی اجازت ملنی چاہئے، جہاں ان کی کڑی نگرانی کی جاسکے ، کیونکہ ان کا تعلق بہر حال ایسے علاقوں سے ہے جہاں عشروں سے دہشت گردوں نے پناہ لئے رکھی اور جن کے بہت سے گھروں میں پلنے والے اب بھی دہشت گردی میں مصروف ہیں۔ دہشت گردوں کی طرف سے کراچی کوہاٹ ، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے بعض شہروں کا رخ کرنے کی اطلاعات بھی ہیں ۔ کراچی میں قانون شکنوں کے ٹھکانوں تک پہنچنے اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کے لئے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع ہے۔ ملک کے بہت سے لوگوں کی یہی خواہش تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جائے۔ جب آپریشن شروع ہوتا ہے تو اس سے بہت سے ایسے گروہ اور سیاسی حلقے معترض ہونے لگتے ہیں جن کے مفادات پر زد پڑتی ہے اور جن کی جماعتوں سے تعلق رکھنے اور کارکن کہلانے والے دہشت گرد اور سنگین جرائم میں ملوث لوگ پکڑے جاتے ہیں۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ میڈیا کے ایک سیکشن میں بھی اس سلسلے میںغیر محتاط رویہ اختیار کرکے ساری صورت حال کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ غیر محتاط تقریریں کرنے والے لیڈر تو بہترین کوریج حاصل کرتے ہی ہیں لیکن دہشت گردوں کے ایسے بیانات بھی نمایاں جگہ پارہے ہیں جن میں افواج پاکستان اور سیکورٹی فورسز کا ساتھ دینے والوں کو عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے خلاف اسلام قرار دئیے گئے قوانین کے سلسلے میں پارلیمنٹ کی بے حسی کی خبروں کی اشاعت سے بھی ان دہشت گردوں کے بیانات کو تقویت ملنا( یا کم از کم کنفیوژن پیدا ہونا) یقینی ہے جو موجودہ پاکستانی آئین کو غیر اسلامی قرار دے کر اپنی مذموم دہشت گرد کارروائیوں کے لئے عوامی تائید کی توقع رکھتے ہیں۔

آزادی صحافت اور قوم کے مختلف طبقات کے اختلافی خیالات کو سب تک پہنچانا ایک بات ہے لیکن جنگ کی صورت میں دشمن فریق کی دھمکیوں اور پروپیگنڈے پر مشتمل بیانات کو سامنے لانا اپنے ہی ملک میں جنگ کے دوران دشمن کی آواز کو بلند کرکے سیکورٹی فورسز کا ساتھ دینے والوں کو خوفزدہ کرنے والی بات ہے۔ ایسے بیانات کی اشاعت حیرت اور افسوس کا باعث ہے۔ جنگ کے دنوں میں میڈیا ،حکومت اور اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کی تائید و حمایت کے برعکس کوئی کام نہیں کرتا۔ اپنے دفاع اور سلامتی کی جنگ میں اپنی قوم کا حوصلہ بلند کیا جاتااور اس کے ا پنے موقف کے حق بجا نب ہونے کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ جب ایک شخص پورے جوش و خروش سے اپنے دفاع میں مصروف ہو اس کے ہاتھ پکڑنے اور دوسرے کو وار کرنے کا موقع دینے والا کسی طرح اس کا خیر خواہ ہونے کا دعویدار نہیں ہوسکتا۔دشمن کا سب سے بڑا حربہ یہی ہوتا ہے کہ جنگ کے دنوں میں مخالف کی صفوں میں کنفیوژن اور اپنے مقصد کے سلسلے میں بے یقینی پیدا کردی جائے۔ قوم اپنے دفاع اور اپنے دشمن کے سلسلے میں بھی یکسو نہ رہے۔ خود کو کمزور اور بے بس محسوس کرے ، دشمن کو بہت خوفناک اور طاقتور محسو س کرتے ہوئے خوفزدہ ہوجائے۔

وہ طالبان جو افغانستان میں اپنی آزادی کے لئے جنگ لڑ رہے تھے اور جن سے بہت سے لوگوں کے لئے ہمارے ہاں ہمدردی تھی ان کو پاکستان بھاگ آنے پر قبائلی علاقوں میں پناہ ملتی رہی۔ حکومت کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی کہ نہ ہم اپنے علاقوں سے دوسرے ملکوں میں کسی کو حملے کرنے کی اجازت دیں گے نہ دوسروں کے علاقوں سے آکر اپنے ہاں کسی کو حملے کرنے دیں گے۔ طالبان سے ہمدردی پیدا کرنے کا سلسلہ اس طرح سے بڑھایا گیا کہ پاکستان میں ہونے والی ہرطرح کی دہشت گردی کے لئے بھی ایک مذہبی طبقے کے دلوں میں گنجائش پیدا ہوگئی۔ بڑھتے بڑھتے ان لوگوں نے ہماری دفاعی تنصیبات اور سیکورٹی فورسز پر بھی حملے شروع کردئیے۔ دشمن نے مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت جہاد کا نام مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی راہیں تلاش کرلیں اور عالم اسلام کی سب سے بڑی دفاعی طاقت کو جہاد کے نام ہی سے کمزور کرنے کے بہانے تراش لئے گئے۔ اسلامی نظام کا نفاذ اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے ، اس کے نفاذ کے لئے جنرل ضیاءالحق اور ان کا ساتھ دینے والی تمام تر مذہبی جماعتیں بھی دس سال کے طویل عرصہ میں کوئی حل نہ نکال سکیں ،معروضی صورت حال میں جو کچھ ممکن تھا ، اسلامی نظام کے سلسلے میں کردیا گیا۔ اس سے آگے کی بات لوگوں کا خود اپنی زندگیوں پر اسلام کو نافذ کرنا ہے۔ جس سلسلے میں کوئی کسی پر کسی طرح کا جبر نہیں کرسکتا۔ لیکن دہشت گردی کے سلسلے میں ہمارے دشمنوں نے لوگوں کے اذہا ن میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مسئلہ کو اس طرح ٹھونسا کہ انہیں گمراہ کرکے اسلامی ملک سے متصادم کردیا ۔ میڈیا کے وہ لوگ جو ایسے گمراہ لوگوں کے موقف سے قطعاً متفق نہیں ہیں ان کی طرف سے بھی اس موقع پر اسلامی نظام کے معاملات کو اچھالنا یا طالبان کی دھمکیوں کی اشاعت یہ ظاہر کررہی ہے کہ قومی سطح پر حکومت اپوزیشن اور مسلح افواج کے اتفاق رائے کے باوجود یہ لوگ دشمن کی پروردہ قوتوں کی کمزوری یا خاتمہ ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ ایک طرف سے حکومت سے آپریشن کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں اور دوسرے طرف سے گمراہ لوگوں کی ہلا شیری کا سامان بھی کیا جارہا ہے۔ حکومت کو اس موقع پر واضح اور دو ٹوک پالیسی کے اعلان کے بعد اس جنگ کے موقع پر میڈیا کے ذریعے ایسی کنفیوژن اور بے یقینی پیدا کرنے والوں پر بھی نظر کرنی چاہئے۔  ٭

مزید : اداریہ