حضرت علیؓ کا مکتوب گورنر مصر کے نام (4)

حضرت علیؓ کا مکتوب گورنر مصر کے نام (4)
حضرت علیؓ کا مکتوب گورنر مصر کے نام (4)

  


امامت:دیکھو،جب امامت کونا تو ایسی امامت نہیں کہ لوگ نماز ہی سی بیزار ہوجائیں اورایسی امامت بھی نہیں کہ نماز کا کوئی رکن ضائع ہوجائی۔یادرکھو،نمازیوں میں ہر قسم کی لوگ ہوتی ہیں ،تندرست بھی اور بیمار بھی اور ضرورت مند بھی ،رسول اللہ جب خود مجھی یمن بھیجنی لگی تو میں نی عرض کیاتھا،یارسول اللہ ! امامت کسی طرح کرونگا؟،جواب ملاکہ ،تیری نیازویسی ہو جیسی سب سی کم طاقت رونمازی کی ہوسکتی ہی اور تومومنوں کیلئی رحیم ثابت ہونا۔یہ بھی ضروری ہی کہ رعایا سی تمہاری روپوشی کبھی لمبی نہ ہو۔رعایا سی چھپانا حاکم کی تنگ نظری کی ثبوت ہی۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہی کہ حاکم رعایا کی حالات سی بی خبر ہوجاتاہی ۔جب حاکم رعایا سی ملنا جلنا چھوڑ دیا ہی تو رعایا بھی ان لوگوں سی ناواقف ہو جاتی ہی جواس پر دی میں ہو گئی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہی کہ بڑی لوگ بری بن جاتی ہیں۔اچھائی برائی بن جاتی ہی اور برائی اچھائی ۔حق اور باطل میں تمیز اٹھ جاتی ہی اور تو کھی بات ہی کہ حاکم بھی آدمی ہوتا ہی اور ان سب باتوں کو جان نہیں سکتاجو اس سی چھپالی جاتی ہیں حق کی سرپر سینگ نہیں کہ دیکھتی ہی سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہہ دیا جائی۔

سوچو تو تم دو میں سی ایک قسم کی آدمی ہوں گی،یا تو حق کی مطابق خرچ کرنی میں سخی ہوں گی،ایسی ہوتو تمہیں چھپنی کی ضروری ہی کیا ہی ،حق کی طرف سی جو کچھ تمہاری ذمی واجب ہو چکاہی۔اسی اداکروگی یا اور کئی نیک کام کرگزرو گی اور یاپھر تم بخل وضغ کی آزمائش میں ڈالی گئی ہو تو اس صورت میں بھی چھپنا غیر ضروری ہی کیونکہ اس قماش کی آدمی سی لوگ بڑی جلدی مایوس ہوکر خودہی کنارہ کشی اختیار کرلیتی ہیں حالانکہ واقعہ یہ ہی کہ تم سی لوگوں کی زیادہ تر ضرورتیں ایسی ہوں گی جن سی تم پر کوءبوجھ نہ پڑی گا۔وہ کسی ظلم کی شکایت لی کر آئیں گی یا کسی معاملی میں انصاف کی طالب ہونگی۔تمہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیئی کہ حاکم کی درباریوں اور مصاحبوں میں خود غرضی ،تعلی زیادتی ،بدمعاملگی ہوا کرتی ہی۔ان کی شرسی مخلوق کو بچانی کی صورت یہی ہی کہ ان کی برائیوں کی سرچشمی ہی بند کردیئی جائیں۔

خبر دار! کسی مصاحب یارشتہ دار کو جاگیر نہ دینا۔ایسا کرو گی تو یہ لوگ رعایا پر ظلم کریں گے۔خود فائدہ اٹھائےں گے اور دنےا و آخرت مےں مخلوق خدا کی بدگوئی تمہارے سرپڑے گی۔حق کسی کے خلاف پڑے اس پر حق ضرورنافذ کرنا چاہےئے،چاہے تمہارا عزےز قرےب ہو ےا غےر اس بارے مےں تمہےں مضبوط اور ثواب خداوندی کا آرزو مند رہنا ہوگا۔حق کا وار خود تمہارے رشتہ داروں اور عزےز ترےن مصاحبوں پر کےو ں نہ پڑے۔خوش دلی سے ےہ گوارا کرنا ہوگا۔

بے شک تم بھی آدمی ہو اور تمہےں خوش دلی سے کوفت ہوسکتی ہے،لےکن تمہاری نگاہ ہمےشہ نتےجے پر رہنی چاہےئے۔ےقےن کرونتےجہ تمہارے حق مےںاچھا ہی ہوگا۔اگر رعاےا کو تم پر کبھی ظلم کا شبہ ہو جائے تو بے دھڑک رعاےا کے سامنے آجانا اور اس کا شبہ دور کردےنا۔اس سے تمہارے نفس کی رےاضت ہوگی۔دل مےں رعاےا کےلئے نرمی پےدا ہوگی اور تمہارے عذرکا بھی اظہار ہوجائے گا۔ساتھ ہی تمہاری ےہ غرض بھی پوری ہوجائے گی کہ رعاےا حق پر استوارہے۔

دےکھو،جب دشمن اےسی صلح کی طرف بلائے جن مےں خدا کی رضا مندی ہوتو انکار نہ کرنا کےونکہ صلح مےں تمہاری فوج کےلئے آرام ہے اور خود تمہارے لئے بھی فکروں سے چھٹکارا اور امن کا سامان ہے لےکن صلح کے بعد دشمن سے خوب چوکس خوب ہوشےار رہنا چاہےئے کےونکہ ممکن سے صلح کی راہ سے اس نے تقرب اس لئے حاصل کےا ہو کہ بے خبری مےں تم پر ٹوٹ پڑے لٰہذا بڑی ہوشےاری کی ضرورت ہے ۔اس معاملے مےںحسن ظن سے کام نہےں چل سکتا اور جب دشمن سے معاہدہ کرنا ےا اپنی زبان اسے دے دےنا تو عہد کی پوری پابندی کرنا۔زبان کا پورا پاس کرنا۔عہدکو بچانے کےلئے اپنی جان تک کی بازی لگادےنا کےونکہ سب باتوں مےں لوگوں کا اختلاف رہا ہے مگر اس بات پر سب متفق ہےں کہ آدمی کو اپنا عہد پورا کرناچاہےئے۔مشرکوں تک نے عہد کی پابندی ضروری سمجھی تھی حالانکہ مسلمانوں سے بہت نےچے تھے اس لئے کہ تجربوں نے انہےں بتادےاتھاکہ عہد شکنی کا نتےجہ تباہ کن ہوتا ہے۔لٰہذا اپنے عہد،وعدے،زبان کے خلاف کبھی نہ جانا۔دشمن سے دغابازی نہ کرنا کےونکہ ےہ خدا سے سر کشی ہے اور خداسے سرکشی بے وقوف وسرکش ہی کےا کرتے ہےں۔

معاہدے: عہد کےا ہے؟ خدا کی طرف سے امن وامان کا اعلان ہے جواس نے اپنی رحمت سے بندوں مےں عام کردےا ہے۔عہدخدا کا حرم سے جس مےں سب کو پناہ ملتی ہے اور جس کی طرف سبھی دوڑتے ہےں ۔خبردار! عہد وپےمان مےں کوئی دھوکہ،کوئی کھوٹ نہ رکھنا اور معاہدے کی عبارت اےسی نہ ہونے دےنا کہ گول مول مبہم ہو،کئی کئی مطلوب اس سے نکلتے ہوں۔اگر کبھی اےسا ہو جائے تو عہددے چکنے کے بعد اےسی عبارت سے فائدہ نہ اٹھا نا اور ےہ بھی ےادرہے کہ معاہدہ ہو چکنے کے بعد اگر اس کی وجہ سے پرےشانی لاحق ہو تو ناحق اسے منسوخ نہ کردےنا۔پرےشانی جھےل لےنا،بد عہدی کرنے سے کہےں بہتر ہے۔بد عہدی پر خداتم سے جواب طلب کر گا اور دنےا وآخرت مےں اس کے مواخذے سے کہےں مفرنہ ہوگا۔

خون ناحق

خبر دار! خون ناحق نہ بہانا کےونکہ خونر ےزی سے بڑھ کر بدانجام،نعمت کا ڈھانے والا مدت کوختم کرنے والا کوئی کام نہےں۔قےامت کے دن جب خداکا دربار عدالت لگے گا تو سب سے پہلے خون ناحق ہی کے مقدمے پےش ہونگے اور خدا فےصلہ کرےگا۔ ےادرکھو ، خونرےزی سے حکومت طاقت ورنہےں ہوتی بلکہ کمزورپڑکرمت جاتی ہے اور ےہ تو کھلی بات ہے کہ قتل عہد مےں تم نہ خدا کے سامنے کوئی عذرپےش کرسکتے ہو نہ مےرے سامنے ،لےکن اگر سزا دےنے مےں تمہارے کوڑے، تکواراور ہاتھ سے نادانستہ اسراف ہوجائے تو حکومت کے غرے مےں مقتول کا خون بہا اس کے وارثوں کے حوالے کرنے سے بازنہ رہنا۔

خبر دار! خود پسندی کا شکار نہ ہونا ۔ نفس کی جوبات پسند آئے اس پر بھروسہ نہ کرنا ۔ خوشامدپسندی سے بچنا کےونکہ شےطان کے لئے ےہ زرےں موقع ہوتا کہ نےکو کاروں کی نےکےوں پر پانی پھےر دے۔

خبردار! رعاےا پر کبھی احسان نہ جتانا۔جو کچھ اس کےلئے کرنا اسے بڑھا چڑھا کہ نہ دکھانا اور وعدہ خلافی بھی کبھی نہ کرنا۔احسان جتانے سے احسان مٹ جاتا ہے۔بھلائی کو بڑھا کر دکھانے سے حق کی روشنی چلی جاتی ہے اور وعدہ خلافی سے خدا بھی ناخوش ہوتا ہے۔اور حق کے بند ے بھی ۔اللہ تعالی فرما چکا ہے ،خدا کو نہاےت ناپسند ہے کہ اےسی بات کہو جونہےں کرتے ہو۔

جلد بازی سے کام نہ لےنا۔ہر معاملے کو اس کے وقت پر ہاتھ مےں لےنا اورانجام کو پہنچا دےنا۔نہ وقت سے پہلے اس کےلئے جلدی کرنا نہ وقت آجانے پر تساہل برتنا۔اگر معاملہ مشتبہ ہوتو اس پر اصرار نہ کرنا۔روشن ہو تو اس مےں کمزوری نہ دکھانا۔ اصل ےہ ہے کہ ہر کام اس وقت پر کرنا اور ہر معاملے کو اس کی جگہ رکھنا۔ کسی اےسی چےز کو اپنے لئے خاص نہ کرلےنا جس مےں سب کا حق برابر ہے اور نہ اےسی باتوں سے انجان بن جانا جوسب کی آنکھوں کے سامنے ہےں۔خود غرضی سے جو کچھ حاصل کرو گے تمہارے ہاتھ سے چھن جائے گا اور دوسروں کو دے دےا جائے گا۔جلد ہی تمہاری آنکھوں پر سے پردے اٹھ جائےں گے اور مظلوم سے جو کچھ لے چکے ہو ،اس کی دادرسی ہوگی۔

دےکھو !اپنے غصے ،طےش کو اور ہاتھ ،زبان کو قابو رکھنا۔سزادےنے کو ملتوی نہ کردےنا،ےہاں تک کہ غصہ ٹھنڈا ہواجائے۔اس وقت تمہےں اختےار ہوگا کہ جو مناسب سمجوکرو۔مگر اپنے آپ پر قابو نہ پاسکو گے۔جس تک پروردگار کی طرف واپسی کا معاملہ تمہارے خےالات پر غالب نہ آجائے ۔ گزری ہوئی منصف حکومتوں نےک دستوروں، ہمارے نبی کے واقعات اور کتاب اللہ کے فرائض ہمےشہ ےادرکھنا تاکہ اپنی حکومت کے معاملات مےں ہمارے عمل کی پےروی کرسکو۔

حضرت علیؓ نے فرماےا

تمہےں پوری کوشش سے مےری ہداےتوں پر عمل کرنا چاہےئے جو اپنی اس وصےت مےں لکھ چکا ہوں۔مےرا ےہ عہد تم پر حجت ہے اور اس کے بعداپنے نفس کی خواہشوں کا ساتھ دےنے مےں کوئی عذرنہ پےش کرسکوگے۔ مےں اللہ بزرگ وبرتر سے دست بدعا ہوں جس کی رحمت وسےع اور قدرت عظےم ہے۔کہ مجھے اور تمہےں اس راہ کی توفےق بخشے جس مےں اس کی رضامندی اور مخلوق کی بھلائی ہے۔ساتھ ہی بندوں مےں نےک نامی اور ملک کےلئے ہر طرح کی اچھائی ہے اور ےہ کہ اس کی نعمت ہم پر پوری ہو۔اس سے عزت افزائی بڑھتی اور ےہ کہ مےرا اور تمہارا خاتمہ سعادت وشہادت پر ہو۔بے شک ہم اللہ کی طرف رغبت رکھتے ہےں ۔والسلام علیٰ رسول والسلام علی ابن طالب اللہ کا بندہ۔ (ختم شد) ٭

مزید : کالم