وکلاءتشدد کیس: طاقت نہیں انصاف کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا،لاہور ہائیکورٹ

وکلاءتشدد کیس: طاقت نہیں انصاف کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا،لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے وکلاءتشدد کیس میں ایس ایچ او سمن آباد کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب،ڈی آئی جی آپریشنز سمیت دیگر مدعا علیہان کو ذاتی حیثیت میں جواب سمیت طلب کرلیا۔سماعت کے موقع پربابر وحید ایڈووکیٹ کے وکلاءنے عدالت کو آگاہ کیا کہ وکلاءنے پولیس اہلکاروں کو کسی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے بلاجواز چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔درخواست گزار وکیل کے ہمراہ بڑی تعداد میں وکلاءکے عدالت میں پیش ہونے پرعدالت نے سخت اظہار برہمی کیا۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے طاقت کی بنیاد پر فیصلہ نہیں سنانا بلکہ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے فیصلہ سنانا ہے۔ وکلاءکا اس طرح کااکٹھ عدالتی روایات کے منافی ہے۔وکلاءکو مل کر عدلیہ کے ادارے کی ساکھ برقرار رکھنی ہو گی۔جبکہ دوسری طرف وکلاءنے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید ڈار کے روبرو دائر اخراج مقدمہ کی درخواست میں عدالت سے پولیس کاروائی روکنے کی استدعا کی۔جس پر عدالت نے پولیس کووکلاءکے خلاف درج مقدمہ میں کاروائی روکنے کی ہدائت کرتے ہوئے ایس ایس پی اینویسٹی گیشن کو سات مارچ کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

طاقت ،انصاف

مزید : صفحہ آخر