دستی نے ’دستی دستی‘سب کو’ دھو‘ دیا

دستی نے ’دستی دستی‘سب کو’ دھو‘ دیا
دستی نے ’دستی دستی‘سب کو’ دھو‘ دیا

  

گلوبل پِنڈ ( محمد نواز طاہر)پاکستانی میڈیا کی بریکنگ نیوز نے پاکستان کی اشرافیہ کو ہلا کر رکھ دیا ۔( یہ صرف دل کی تسلی کیلئے ہے ورنہ شرم کی بات نہیں رہی) خبر یہ تھی کہ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوں کی آرام گاہیں (فیڈرل لاجز ) نشے سے مخمور رہتی ہیں ، وہاں سے بد بو اٹھتی رہتی ہے اور باقی سب رنگینیاں بھی فضاﺅں ، ہواﺅں اور دلانوں میں مچلتی نظر آتی ہیں ۔۔۔۔یہ بات بھی غالباً ’نشے‘ میں ہی کی گئی ہے کیونکہ بات کرنے والے جمشید دستی بھی حالیہ الیکشن میں عوامی طاقت کے نشے میں ہیں۔یہ نشہ ذوالفقار علی بھٹو کوبھی تھا جو پھانسی چڑھا دیئے گئے اور نواز شریف کو بھی 12اکتوبر1999ءمیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاگیا تاہم و ہ بھٹو نہ ہونے کی وجہ سے بھٹو بننے سے بچ گئے اور پھر’ بھٹو ‘ہی نے انہیں واپس ایوانِ وزیراعظم میں پہنچادیا اور آج کل خاصے نشے میں معلوم ہوتے ہیں کیونکہ انہیں طاقت دینے والے ان کے بازو دن بدن کمزور ہورہے ہیں بلکہ یوں سمجھیئے کہ مہنگائی ، بے امنی ، کرپشن اور نا انصافی کا کینسر چاٹ رہا ہے جبکہ ان کے اپنے سیاسی گرو ضیا ءالحق کی طرح زیادہ توجہ بذریعہ شہباز شریف سپورٹس کی طرف ہے، خود شہباز شریف کو مال روڈ سے زیادہ ترکی کی ’ دوشیزہ ‘ شاہراہیں بھاتی ہیں جنہیں وہ شاہدرہ سے گجومتہ کے بعد ہر شہر کو ’میٹرو‘ میں بدلنا چاہتے ہیں جبکہ تعلیمی ادارے اور دورداز علاقوں کے طبی ادارے ، روزگار ، زراعت ان کے ایجنڈے میں دکھائی نہیں دیتی ، ان علاقوں کے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جس طرح لاہور کے باقی علاقوں کی سفری سہولیات نظر انداز کرکے صرف میٹرو کا پیٹ بھرا جارہا ہے اسی طرح باقی شہروں کے ساتھ بھی ہوگا ۔ ایک طرف ترکی اور دوسری جانب ایتھوپیا کی جھلک ہوگی۔

جمشید دستی کی بریکنگ نیوز کے بعد میں ڈیفنس سے اچھا خاصا ’تنگ پھنگ‘ہوکر عوامی آبادی تک پہنچا تو عوامی سواری ’چاند گاڑی میںبھارتی فلم شرابی کا گانا ’نشہ ہوتا شراب میں تو ناچتی بوتل ‘ کان اور دماغ پھاڑ رہا تھا ، مجھے اس گانے سے شراب کی مہک ڈیفنس میں گھومنے والی گاڑیوں اور چلتے پھرتے ہر نسل اور جنس کے شہریوں سے اٹھنے والی ’بُو‘ کی طرح محسوس ہونے لگی ۔۔۔بھارتی گانے کایہ مصرعہ بہت مقبول ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی یہ استعمال ہوتا رہا ہے لیکن اسے پذیرائی نہیں ملی جبکہ شرابی اپنے لطف کا اسی جملے سے دفاع کرتے آئے ہیں ۔ ان کی یہ بات ان کی حد تک بڑئی مدلل ہے مگر حقیقی وکیمیائی طور پر درست نہیں کیونکہ شراب کا مخمور ، بے سدھ یا مدہوش کردینا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ کسی بھی صورت جسم میں تحلیل نہ ہو۔

نشہ صرف شراب ہی نہیں کئی اور چیزوں میں بھی ہے البتہ کچھ دور سے محسوس کرلیے جانے والی نشہ آور اشیاءمیں شراب کے ساتھ چرس بھی سرِفہرست ہے، ایک نشہ اور خماری دولت و اختیار میں بھی ہے جوباقی سب سے زیادہ محسوس اور تکلیف دہ ہوتا ہے ۔

مجھے پھر جمشید دستی یاد آگئے ،انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کی ، پارلیمنٹ کے بارے میں ایسی داستانیں عام ہیں اور یہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں ، پچھلے دنوں کوئٹہ میں ایم پی اے ہاسٹل میں قیام کے دوران رات گئے ایک ملازم نے ہماری محفل کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا وہ ایک کمبل کی قربانی کا تقاضا کر رہا تھا ، تھوڑی تحقیق سے اس کی مجبوری نے ہمیں قربانی پر مجبور کردیاکیونکہ وہاں ایک منتخب عوامی نمائندے کے مہمان بے سدھ ، دھت اول فول بک رہے تھے اور دھمکی دے رہے تھے کہ اگر فوری طور پر کمبل نہ ملا تو سر مار کر شیشے توڑ دیں گے ۔پنجاب میں بھی صورتحال اس سے مختلف ہرگز نہیں ۔ بڑے بڑے نامور اور معززین کو لوگوں نے صرف پارلیمنٹ کے لاجز ہی نہیں بلکہ فلیٹیز ہوٹل کی عام دیواروں نے جنس کے لحاظ کے بغیر غسل خانوں کی دیواروں جیسے پردے ڈالنے کی ناکام کوشش کی ۔

ایسے ہی واقعات کتابوں کی شکل میں چھپ چکے ہیں ، گزری دیڑھ دہائی کی بات ہے جب ایک کتاب ’ پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک‘ کئی لوگوں کو اپنے نام سے شائع کرنے کیلئے پیش کی تھی ،جنہوں نے پیش کی وہ جمہوریت کی مخالف مقامی ’را‘ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

جب جمشید دستی نے پارلیمنٹ میں پارلیمنٹ کے لاجز کی صورتحال’ دستی دستی ‘اڑا دی تو اس پر شدیدردِ عمل سامنے آیا ہے کہ پارلیمنٹ ہی جمشید دستی کی سزا کا تعین کرےگی ،جی ہاں پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے ، عدلیہ کی طرح وہ بھی عدل کے بجائے اپنی سوچ اور نظریہ ضرورت کے تحت کوئی بھی فیصلہ اور حکم صادر کرسکتی ہے لیکن یہ ضرور دیکھنا ہوگا کہ جب جمشید دستی کو نااہل قراردیا گیا تھا تو ان کے علاقے کے عوام نے انہیں دو حلقوں سے اہل قراردیکر پارلیمنٹ میں بھیج دیا ۔اب اگر انہوں نے عوامی نمائندگی کا جرم عوامی، ناک ، آنکھ اور زبان کے استعمال سے کیا ہے تو عوام کو خوا ص کے غیض و غضب کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے کیونکہ انصاف پسند چودھری جب میراثی کے بیٹے سے زیادتی پر اپنے انصاف کی دھاک بٹھانے کے لیے غیرجانبدارانہ فیصلہ صادر کرتا ہو تو میراثی کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بدلے میں اس ( چودھری) کے بیٹے کی قمیض پھاڑ دے ۔ ۔ ۔

مزید : بلاگ