خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی فوری نجکاری کی جائے

خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی فوری نجکاری کی جائے

لاہور(کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چےئرمین خواجہ ضرار کلیم نے خسارے میں چلنے والے پبلک سیکٹر کی فوری نجکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے قومی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے اور اس کی وجہ سے عوام کی مشکلات حل کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری سے نہ صرف حکومت خسارے سے بچ گی ہے بلکہ عوام کو بھی پہلے سے بہتر سہولتیں مل رہی ہے جبکہ پی آئی اے کے ایک جہاز پر 675ملازمین ہیں اس طرح قومی ائیرلائن پر ہونے والا 30ارب کا خسارہ قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھی تین سال کیلئے نجی شعبہ کے سپرد کر دیا جائے تو انہیں یقین ہے کہ 3سالوں میں حاصل ہونے والا ریونیو دوگنا ہو جائے گا۔گیس کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ ضرار کلیم نے کہا کہ اس معاملے کو حکومت کی طرف سے سنجیدگی سے لیا جانا انتہائی ضروری ہے جب تک ملک سے گیس اور بجلی کا بحران ختم نہیں کیا جاتا تب تک ملک کی انڈسٹری بحال کرنے کا خواب ادھورا رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت فرنس آئل اور دھاتی سکریپ پر عائد 5فیصد ر یگولیٹری ڈیوٹی کو بھی ختم کرئے جس کی وجہ سے لاگت میں مزید اضافہ ہو گااور سمگلنگ کو بھی تقویت ملی گی،فیڈرل بورڈ آف ریونیو متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود ہمارا موقف سنے کا وقت نہیں دے رہا۔

،اگر حکومت کے ادارے بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لیں بغیر معاشی پالیساں ترتیب دے گی تو دونوں فریقین میں اعتماد کامزید فقدان پید اہو گا۔زراعت کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل طرز کی پالیسی زراعت کے سکیٹر کے لئے بھی ترتیب دی جائے تو اس شعبہ سے مزید انکم حاصل کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سمگلنگ کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں جس سے جائز امپورٹ کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

مزید : کامرس