شانِ رسالت میں گستاخی کی سزا اور آزادئ اظہار رائے

شانِ رسالت میں گستاخی کی سزا اور آزادئ اظہار رائے

تحریر:۔ جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری

رسول رحمتؐ تو رحمت و عافیت کا وہ میٹھا اور ٹھنڈا جھرنا ہیں جو جنم جنم کے پیاسوں کی پیاس بجھاتا اور ان کی نسلوں کو سیراب کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی پاک تعلیمات نے تو دنیا کے سنوارنے اور نکھارنے میں ایسا اعلیٰ کردار ادا کیا کہ یگانے اور بیگانے یکساں جھوم جھوم اٹھے۔ بقول کنور مہندر سنگھ بیدی ؂

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں

دنیا کی تمام اقوام کے انصاف پسند اور غیر متعصب مفکرین نے پیارے رسولﷺ کو اپنے اپنے انداز میں (اور بعض نے مسلمانوں سے بھی بڑھ کر) نذرانۂ عقیدت پیش کیا لیکن چند ازلی بدبخت و سیاہ باطن ہیں جو انسانیت کے محسن اعظمؐ اور دنیا پر مجسم رحمتؐ کے حضور گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں کا کوڑھ ہے جو وہ زندگی کے اندھیارے دور کرنے اور تابناکیاں بکھیرنے والے چاند پر تھوکنے کی جسارت کرتے ہیں، ان کا تھوکا چاند تک کہاں پہنچے گا، خود ان کے اپنے چہرے پر آن گرتا ہے اور گرتا چلا جاتا ہے۔ آمنہ کا لعلؐ، مکہ کا درِ یتیم تو کائنات کا وہ عظیم ہے کہ تمام تر عظمتیں اور رفعتیں جس کے قدموں کی خاک پر قربان ہو جائیں بلکہ جو اس کے ذکرِ رفیع کے ساتھ اپنے کو خاص کر لے قدرت اس پر بھی عظمتوں اور فضیلتوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اس کی ناموس کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی کہ اس کا تو مالکِ کائنات خود محافظ ہے۔ یہ تو درحقیقت ہم مسلمانوں کی غیرت اور غیرتوں کی تپیدگی کا امتحان ہوتا ہے کہ ہم کس قدر مضطرب و بے قرار ہوتے ہیں۔

ازلی بدبخت و سیاہ باطن، سازش در سازش کرتے چلے جا رہے ہیں کہ کسی طور مسلمانوں کے تن سے ’’روح محمدﷺ‘‘ کو نکال دیں۔ اسی خاطر چند سال قبل انہوں نے ڈنمارک کے ایک چیتھڑے اخبار میں پیارے رسولﷺ کے خاکے اڑانے کی جسارت کی، پھر ناروے کے بدباطنوں نے یہی بھیانک چال چلی، دنیا بھر کے مسلمان تڑپ اٹھے، سر ہتھیلیوں پر لئے دیوانہ وار میدان میں نکل پڑے، جگہ جگہ اپنے خون کے نذرانے دے کر ناموس رسالت سے اپنے تعلق کی گواہی دی۔ امت مسلمہ، عوامی حیثیت میں تو سراپا احتجاج رہی مگر حکمران مصلحتوں کا شکار بنے رہے۔ اگر اس وقت مسلم حکومتیں بھرپور اقدام کرتیں اور ’’گربہ کشتن روزِ اول‘‘ کے مصداق ڈنمارک ناروے کی ناک مٹی میں رگڑ دیتیں تو نہ کسی امریکی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ پر کسی اور کو خاکوں کے توہین آمیز مقابلے کی جرأت ہوتی اور نہ کسی بدباطن کو ناروا فلم بنانے کی۔

آج مسلمان ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں لیکن یہ احتجاج بھی پہلے کی طرح صرف عوامی حلقوں تک محدود ہے، مسلم حکمران، گستاخانِ امریکہ و یورپ کے خلاف کسی بھرپور عملی احتجاج و اقدام کے لئے تیار نہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ عالم اسلام کی عزت، پیارے رسولؐ کی عزت و ناموس ہی میں ہے، اگر ہم ناموسِ رسالتﷺ کی حفاظت نہ کر پائے تو یقیناًہماری اپنی اور عالم اسلام کی عزت بھی باقی نہ رہے گی۔ ہماری حقیقی قوت کا سرچشمہ، رسول رحمتؐ کی ذاتِ گرامی ہی ہے۔ اس کی حفاظت، اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنے میں ہماری زندگی ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ تمام حکومتی ذرائع استعمال کر کے ان گستاخوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے اور وہ اقدامات کئے جائیں کہ آئندہ کسی کو ایسی غلیظ سازش کرنے کی جرأت تو درکنار سوچنے تک کی ہمت نہ ہو۔ ضرورت یہ بھی ہے کہ مختلف ممالک میں مختلف با وسائل اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو صرف اسلام کی صحیح تعلیمات پیش کریں اور متعصب غیر مسلموں کی سازشوں اور غلط بیانیوں کا علمی انداز میں پردہ چاک کریں۔ خصوصاً رسول رحمتؐ کی سیرت طیبہ کو اجاگر اور مقامی زبانوں میں عام کیا جائے۔ دشمنانِ اسلام کے اشکالات و اعتراضات کا علمی بنیادوں پر جواب دیا جائے اور سب سے بڑھ کر امتِ مسلمہ کی وحدت کا سامان پیدا کیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیارے رسولؐ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں دردناک اور سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی قابلِ گردن زدنی ہے۔ نبی رحمتؐ نے خود اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصاً فتح مکہ کے موقع پر) معاف فرما دیا لیکن چند بدبختوں (جو نظم و نثر میں آپ کی ہجو کرتے تھے) کے بارے میں فرمایا: ’’اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو بھی انہیں واصلِ جہنم کر دیا جائے۔‘‘ یہ حکم (نعوذ باللہ) آپﷺ کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کہ آپﷺ کے بارے میں تو صحابہ کرامؓ کی گواہی موجود ہے کہ آپﷺ نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔ یہ حکم اس لئے تھا کہ ناموسِ رسالتؐ میں گستاخی کی جسارت کرنے والا، دوسروں کے دل سے رسول اللہﷺ کی عزت و توقیر گھٹانے کی کوشش اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بونے کی سازش کرتا ہے۔ اس لئے کسی گستاخی کو ’’تہذیب و مصلحت‘‘ کے نام پر برداشت کر لینا، اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ ذاتِ رسالت مآبؐ چونکہ ہر زمانے کے مسلم معاشرے کا مرکز و محور ہے اس لئے جو زبان آپؐ پر طعن کے لئے کھلتی ہے اگر اسے کاٹا نہ جائے اور جو قلم آپﷺ کی گستاخی کے لئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑا نہ جائے تو اسلامی معاشرہ اعتقادی و عملی فساد کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ پیارے رسولﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا (امام ابن تیمیہؒ کے الفاظ میں) ساری امت کو گالی دینے اور ہمارے ایمان کی جڑ کاٹنے کی کوشش کرتا ہے اور ہمیں ذہنی و قلبی تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مسلمانوں کے ایمان اور غیرت کو بچانے کے لئے ایسے گستاخوں کی سزا صرف ان کا خاتمہ ہی ہے۔

گستاخان یورپ گاہے گاہے کائنات کی سب سے عظیم و افضل ہستی کی شانِ اقدس میں گستاخی کی جسارت کر کے دنیا میں سب سے زیادہ بسنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں اور پھر اس کو ’’آزادئ اظہار رائے‘‘ کے نام پر جاری رکھنے پر اصرار بھی کرتے ہیں حالانکہ رائے کی آزادی اور کسی کی دل آزاری میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دنیا کے کسی معاشرے میں رائے کے اظہار کی ایسی آزادی نہیں کہ جس کی چاہا عزت خاک میں ملا دی اور جس کے چاہا دل کے پرخچے اڑا دئیے۔ ہر معاشرے نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اظہار رائے کی حدود مقرر کی ہیں۔ حقائق تک کو بیان کرنے کے لیے بھی حدود و قیود پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یورپ و امریکہ میں بھی جہاں فحاشی و عریانی عروج پر ہے، بچوں میں جنسی ہیجان پیدا کرنے والی فحش نگاری، مذہبی و نسلی منافرت پھیلانے والی تحاریر و تقاریر پر پابندی ہے۔ آسٹریا، بیلجئم، فرانس، جرمنی، اسرائیل، ایتھوپیا، پولینڈ، رومانیہ، چیکو سلواکیہ، سوئٹزرلینڈ وغیرہ میں عالمی جنگوں کی تباہی کے انکار کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہے۔ یورپ کے اکثر ممالک میں ’’ہولو کاسٹ‘‘ کے انکار بلکہ اس کے بارے میں یہ تک کہنے کی اجازت نہیں کہ ’’اس میں ہلاک شدہ یہودیوں کی تعداد مبالغہ آمیز ہے۔‘‘

1984ء میں ایک سکول ٹیچر ’’جیمز کنگ‘‘ نے ہولوکاسٹ کے بارے میں چند الفاظ کہے تھے، اس کو نوکری سے برخاست کر کے سزا دی گئی۔ کینیڈا کے ’’ارنسٹ رنڈل‘‘ کو ہولوکاسٹ کے بارے میں تضحیکی انداز اپنانے پر 15 ماہ قید کی سزا ہوئی۔ کینیڈا ہی کے ’’کن میک وے‘‘ کو انٹرنیٹ پر مضمون لکھنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ آسٹریا کے ایک لکھاری ’’ڈیوڈ ارونگ‘‘ نے لکھ دیا کہ ’’60 لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کی بات مبالغہ آمیز ہے۔‘‘ اس کو 17 سال بعد (فروری 2006 میں) گرفتار کر کے تین سال کی سزا دی گئی۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے بارے میں تقریر کی تو پورے یورپ نے شدید احتجاج کیا تھا۔ یورپ کے بعض ممالک میں ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے انکار پر 20 سال تک کی سزا مقرر ہے۔ ایرانی صدر احمدی نژاد کی تقریر پر یہودی تنظیم کے صدر کا بیان شائع ہوا ہے کہ ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے انکار کا مطلب 60 لاکھ یہودیوں کو دوبارہ قتل کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

اظہار رائے کی آزادی کی بات کرنے والے یورپ و امریکہ کی اپنی حالت یہ ہے کہ ’’وہاں بھی کوئی کھل کر ان کے دستور، اقتدار اعلیٰ یا پالیسیوں پر بات نہیں کر سکتا۔ صرف یورپ و امریکہ کیا پوری دنیا میں ہتک عزت، توہین عدالت کے قوانین موجود ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں وہاں کے دستور یا اقتدار اعلیٰ سے بغاوت یا باغیانہ اظہار رائے کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے اور مجرموں کے لئے موت تک کی سزا موجود ہے۔ اسی طرح مقدس ہستیوں، مقدس مقامات اور مقدس اشیاء کی توہین پر سزا کا قانون بھی اکثر (بلکہ تمام) ممالک میں موجود ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق اکثر ممالک میں بلاس فیمی لاء Blas Phemy Law ایک لفظ موجود ہے۔ خصوصاً آسمانی صحائف اور آسمانی ادیان سے تعلق رکھنے والی اقوام میں انبیاء و رسلؑ کی توہین قابل سزا جرم ہے۔ قدیم ایران میں تین قسم کے جرم تھے:

(1) خدا کے خلاف، (2) بادشاہ کے خلاف،

(3) انسانوں کے ایک دوسرے کے خلاف۔

ہندو مت میں سنیارتھ پرکاش (چمپوتی 71-71) صفحہ 297 کے مطابق ’’ناسٹک (مذہب بیزار) کے لئے خشک لکڑی کی طرح جلا کر اس کی جڑ ختم کر دینے کا حکم ہے۔‘‘

چین جہاں آج کل کوئی دینی و مذہبی جماعت نہیں، وہاں بھی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین، فوجداری جرم ہے۔ 29 مارچ 1990ء کو چین کے صوبے سی چوان میں وانگ ہونگ‘ نامی شخص کو جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مہاتما بدھ کے مجسمے کا سر کاٹا تھا، سزائے موت سنائی گئی تھی۔ افغانستان میں طالبان نے بدھ کے مجسمے کو گرایا تو یورپ و امریکہ نے کتنا شور مچایا تھا؟؟

یہودیوں کے ہاں خدا، رسولؑ ، یوم سبت اور ہیکل کی توہین جرم تھی اور ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سردار کاہن نے اسی طرح کا الزام لگا کر پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ تفصیل (کتاب مقدس احبار باب 24 فقرہ 16 اور متی کی انجیل باب 26 فقرہ 63-25) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ’’رسولوںؑ کے اعمال‘‘ کے مطابق مسیحی مبلغ متقنس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری پولس پر یلغار انہی الزامات کے بہانے کی گئی تھی۔ رومن ایمپائر میں جب شہنشاہ جئینین (قسطنین) عیسائی ہوا تو قانون میں انبیاءؑ بنی اسرائیل کی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین جرم قرار پایا۔ روس میں بھی یہ قانون جاری رہا۔ انقلاب کے بعد مقدس انبیاءؑ کی جگہ سٹالن نے لے لی۔ لینن کے ساتھ ٹرائسسکی کا المناک انجام اس کی مثال ہے جو بھاگ کر امریکہ چلا گیا مگر وہاں بھی جان نہ بچ پائی۔ برطانیہ کا کامن لاء توہین مسیح، بائبل کی اہانت وغیرہ کو ’’بلاس فیمی لاء‘‘ کے زمرے میں قابل سزا جرم قرار دیتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجین جلد 2 صفحہ 242، بائبل آف میتھیو Mathew یعنی متی کی انجیل 12-28 کے حوالے سے اور بائبل، کتاب استثناء باب 17 کے مطابق ’’انبیاءؑ اور ان کے ساتھیوں کی توہین کرنے والے کی سزا موت ہے۔‘‘ چنانچہ مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کو جان سے مارا جاتا رہا ہے۔ مثلاً 1553ء میں برطانیہ (الزبتھ دور) میں پانچ افراد کو، 1553ء میں ہنگری میں ڈیوڈ نامی پادری کو، 1600ء میں روم کے بروٹو نامی شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ برطانیہ میں 1821ء سے 1834ء تک 73 افراد کو مار دیا گیا۔ یہ سزا امریکہ میں بھی دی جاتی رہی۔ 1968ء کے بعد امریکہ میں کوئی مقدمہ دائر نہیں ہوا کہ مذہبی اور عدالتی امور الگ الگ کر دئیے گئے تھے۔ پھر بھی چند سال قبل ڈیوڈ نامی شخص کو اس کے 300 ساتھیوں سمیت اس لئے جلا دیا گیا کہ اس نے دعویٰ کیا تھا: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح اس میں حلول کر گئی ہے۔‘‘

برطانیہ کے ڈینس لی مون نے (جو کہ گے نیوز کا ایڈیٹر تھا) ایک مزاحیہ نظم لکھی، پھر معافی بھی مانگی اور وضاحت کی کہ محض تفریح طبع کی خاطر ایسا کیا۔ پھر بھی جیوری نے اس کو سزا سنا دی۔ وہ اپیل لے کر ہاؤس آف لارڈز میں گیا مگر سزا بحال رہی۔

27 جنوری 2003ء میں ٹیلی گراف میں اسرائیلی وزیراعظم کا کارٹون شائع ہوا کہ وہ فلسطینی بچوں کی کھوپڑیاں کھا رہا ہے۔ یہودیوں کے احتجاج پر معذرت کی گئی۔ اٹلی کے وزیراعظم نے حضرت عیسیٰؑ کی مشابہہ حکومت کی بات کی، پھر اس پر معذرت کی۔ محمد علی (کلے) نے ویت نام جنگ کے متعلق امریکی پالیسی پر بیان دیا، اس کا عالمی چمپیئن کا ٹائٹل چھین لیا گیا۔ الجزیرہ ٹی وی نے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں دکھائیں، احتجاج کیا گیا بلکہ اس کے آفس پر بمباری کر کے تباہ کر دیا گیا اور عملے کے لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔ اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد کونڈالیزا رائس نے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی بات کی، اس پر ایک فلسطینی اخبار نے کارٹون بنا کر کونڈا کا مذاق اڑایا تو امریکی محکمہ خارجہ نے شدید احتجاج کیا، مثالیں بے شمار ہیں۔ ۔۔۔

15 اپریل 2008ء کو فرانس کی پارلیمنٹ نے خواتین کو وزن کم کرنے پر ابھارنے والے اشتہارات شائع کرنے کو جرم قرار دیا اور اس کی خلاف ورزی پر 2 سال قید اور 30 ہزار یورو جرمانے کی سزا قرار دی اور اگر کوئی خاتون مر گئی تو اشتہاری کمپنی یا میگزین و اخبار کے ایڈیٹر کو 3 سال قید اور 45 ہزار یورو کی سزا کا اعلان کیا۔ فرانس کے وزیر صحت نے اس موقع پر کہا کہ ’’نوجوان لڑکیوں کو وزن گھٹانے کے لئے کم خوراکی پر مائل کرنا، اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ ایسے پیغامات، موت کے پیغامات ہیں۔‘‘

ہر ملک میں اظہار رائے کے لئے حدود متعین ہیں، اس لئے گستاخانِ یورپ کی خباثتوں اور مسلمانوں کی دل آزاری کے اقدامات پر اس بہانے کو استعمال کرنا ایک طرح کی واضح دہشت گردی ہے۔ خود ڈنمارک کے اسی اخبار (سلنڈر پوسٹن) کہ جس نے خاکے اڑانے کی جسارت و سازش کی تھی، 2004 میں اس کے کارٹونسٹ ’’کرسٹوفر زیلر‘‘ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاکے بنانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ ’’اس سے عیسائیوں کے جذبات مجروح ہوں گے‘‘ یعنی یورپ و امریکہ کے گستاخ جان بوجھ کر مسلمانوں کو آزار پہنچاتے ہیں۔

مذہبی عقیدتیں نازک اور حساس ہوتی ہیں، ان کا تعلق دماغ سے زیادہ دل کے ساتھ ہوتا ہے۔

صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبریل نے

جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول

دل کے ہاتھوں مجبور عقیدت مند کبھی اپنی مقتدا اور مقدس ہستیوں پر حرف زنی و حرف گیری قبول نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ انعام میں ہے: معبودان باطلہ کو بھی گالی نہ دو کہ کہیں ان کے ماننے والے سچے اللہ کو بے علمی سے گالی نہ دے دیں۔‘‘

دنیا میں جہاں بھی مذہب اپنے زندہ شعور کے ساتھ موجود ہے، وہاں اس مذہب کے بانیان و مقتدا کی توہین پر کڑی سے کڑی سزائیں رکھی گئی ہیں۔ البتہ اگر کسی جگہ عیاشی ہی کو بطور مذہب اپنا لیا جائے تو سوچ کے دھارے بدل جائیں گے اور وہاں کے مردہ ضمیر ’’آزادئ رائے‘‘ کے نام پر سب کچھ سہہ جاتے اور قبول کر لیتے ہیں۔ قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے کہ ’’نمرود کے دور میں حضرت ابراہیمu نے اپنے باپ آذر سے بتوں کے بارے میں جب کہا: ’’اے میرے باپ! ان کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ (مریم)

تواس نے کہا تھا: ’’اگر تو باز نہ آیا تو تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا۔‘‘ (مریم)

پھر جب حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑ ڈالا تو بت پرستوں نے مشورہ کیا کہ کیا سزا دی جائے تو وہ لوگ پکار اٹھے: ’’کہنے لگے اسے جلادو۔‘‘ (انبیاء)

گویا اگر مذہبی عقیدتیں باقی ہوں تو جھوٹے مذہب بھی اپنی مقتدر ہستیوں کی توہین پر سنگسار کرنے اور جلانے پر تلے نظر آتے ہیں۔ تیسری صدی عیسوی میں ایران میں بہر ام اول کے دور میں مانی کو مذہبی عقائد کی توہین کرنے کے جرم میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی کھال اتار کر اور اس میں بھس بھر کر جندلی شاہ پور کے دروازے پر لٹکا دیا گیا بلکہ مانی کے بارہ ہزار پیروکار بھی قتل کر دئیے گئے۔ سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر کیوں مجبور کیا تھا؟ انہی مذہبی عقائد کی خلاف ورزی پر۔ عیسائی ادوار میں گلیلیو کو سزائے موت کا حکم کیوں ہوا؟ جادو گرنیوں کے نام پر ہزاروں عورتوں کو کیوں جلایا گیا؟ محض اسی باعث۔ ہندوؤں کے ہاں ’’ویدوں کی نندنا یعنی بے قدری کرنے والا ناستک ہے‘‘ اور ’’جو ناستک ویدوں کے علم کا مخالف ہو اس بد ذات کو جڑ بنیاد کے ساتھ ناس (تباہ) کر دیا جائے۔‘‘ بائبل کتاب ’’خروج‘‘ میں ہے ’’تم سبت کو ماننا وہ تمہارے لئے مقدس ہے جو کوئی اس کی بے حرمتی کرے گا وہ ضرور مار ڈالا جائے گا‘‘ (اعمال بال ۲۱، فقرہ ۲۷۔۳۶) بائبل کی کتاب ’’استثناء‘‘ میں ہے ’’اگر کوئی گستاخی سے پیش آئے اور کاہن کی بات اور قاضی کا کہا نہ مانے، وہ شخص مار ڈالا جائے۔‘‘

اٹھارویں صدی تک برطانیہ وغیرہ میں توہین مسیح کی سزا موت ہی رہی ہے۔ چند مثالیں جو ہمارے سامنے آئی ہیں، 1553ء (الزبتھ دور) میں 7 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔ 1559ء میں ہنگری میں ڈیوڈ نامی پادری کو سزائے موت ملی، 1600 میں روم میں بروٹو نام کے شخص کو مار ڈالا گیا۔ 1833ء تک تھوڑے عرصے میں برطانیہ میں 72 افراد اس جرم کی سزا میں مارے گئے۔ اب اگرچہ برطانیہ میں کامن لاء Common Law ہے پھر بھی اس کی رو سے جو توہین مسیح یا کتاب مقدس کی سچائی کا انکار کرے وہ بلاس فیمی Blas phemy کا مرتکب ہو گا اور اس کی سزا تخت و تاج برطانیہ یا حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم کے مطابق عمر قید تک ہو سکتی ہے۔

لندن کے اخبار The Times کے مطابق برطانوی عدالت نے 27 اگست 1988ء کو Gay News کے ایڈٹر ’’ڈینز لیمور‘‘ (جس نے 1987ء کو ایک نظم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تضحیکی الفاظ لکھے تھے) کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ’’خلوص اور احترام کا ماحول ہی بلاس فیمی کے منافی نہیں، دیکھنا پڑتا ہے کہ اس طرح کے الفاظ و اقدامات سے عیسائی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں؟ اس بارے میں واضح قانون موجود ہے، ہر وہ پبلی کیشن، بلاس فیمی متصور ہو گی جو خدا، یسوع مسیح یا بائبل کے بارے میں دشنام طرازی، توہین آمیز اور مضحکہ خیز مواد پر مشتمل ہو۔ قانون آپ کو یہ اجازت دے سکتا ہے کہ عیسائی ملک پر حملہ کریں، تختہ الٹ دیں یا عیسائی مذہب کا انکار کر دیں لیکن مذہب کے بارے میں ’’نازیبا‘‘ اور ’’غیر معتدل‘‘ الفاظ و اقدام کی اجازت ہر گز نہیں۔‘‘

گستاخانہ کلمات اور بے ادبی کی سزا اور حوصلہ شکنی کے لئے دنیا کے کئی ممالک میں قوانین موجود ہیں، مثلاً

(1) آسٹریا (آرٹیکل 188، 189 کریمنل کوڈ)

(2) فن لینڈ (سیکشن 10 چیپٹر 17 پینل کوڈ)

(3) جرمنی (آرٹیکل 166 کریمنل کوڈ)

(4) ہالینڈ (آرٹیکل 147 کریمنل کوڈ)

(5) سپین (آرٹیکل 525 کریمنل کوڈ)

(6) آئرلینڈ (آئرلینڈ کے دستور کے آرٹیکل، 40, 6, 1 کے مطابق کفریہ مواد کی اشاعت ایک جرم ہے۔ منافرت ایکٹ 1989ء کے امتناع میں ایک گروہ یاجماعت کے لئے مذہب کے خلاف نفرت بھڑکانا بھی شامل ہے۔

(7) کینیڈا (سیکشن 296 کینیڈین کریمنل کوڈ) کہ عیسائی مذہب کی تنقیص و تضحیک ایک جرم ہے۔

(8) نیوزی لینڈ (سیکشن 123) نیوزی لینڈ کرائمز ایکٹ 1961) مثال کے طور پر عیسائی دنیا میں گرجوں کے تقدس کو قانون کا درجہ حاصل ہے، بعض یورپی ممالک کے دساتیر میں ان کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ڈنمارک کے دستور کی سیکشن 4 (سٹیٹ چرچ) کی مثال موجود ہے جس میں کہا گیا ہے اوینجیلیکل لوتھرن پروٹسٹنٹ) چرچ ڈنمارک کا ریاستی قائم کردہ چرچ ہو گا اور اس کی مدد و اعانت ریاست کے ذمہ ہوگی۔

آزادی تقریر و تحریر ایک بنیادی حق تو ہے مگر یہ مطلق حق نہیں، اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ڈنمارک‘ ناروے کے گستاخوں کی طرف سے خاکوں کی اشاعت پر کہا تھا: ’’میں بھی آزادی تقریر و تحریر کا احترام کرتا ہوں مگر یہ آزادی مطلق نہیں ہوتی۔‘‘ سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا تھا: ’’آزادئ رائے کا ہم سب احترام کرتے ہیں لیکن بے عزتی اور اشتعال انگیزی کی کوئی چھوٹ نہیں دی جا سکتی، میرے خیال میں ان خاکوں کی بار بار اشاعت زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔‘‘

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بیان جاری ہوا تھا ’’یہ خاکے واقعی توہین آمیز اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا موجب ہیں۔‘‘

ان تمام کے باوجود گستاخان یورپ و امریکہ مسلمانوں کے دل خون کر رہے ہیں اور مسلسل دل آزاری کرتے چلے جا رہے ہیں، کیوں۔۔۔؟؟

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کے مطابق ’’اپنے خیالات، معلومات اور آراء کا گورنمنٹ کی پابندیوں سے آزاد ہو کر اظہار کر سکنا، آزادئ اظہار رائے کہلائے گا کینیڈین سپریم کورٹ نے آزادئ رائے کے بارے میں اہم مقاصد بیان کئے کہ (1) جمہوریت کے فروغ کے لئے، (2) ریاستی یا گروہی زیادتیوں کی روک تھام کے لئے، (3) حقیقت کی تلاش کے لئے ہر فرد آواز اٹھا سکتا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا، آزادئ رائے کی تعریف کے ساتھ ساتھ ہر اس گفتگو یا رائے پر پابندی کی بات کرتا ہے جو واضح حقیقی خطرے کا موجب ہو، یعنی (1) کسی پر بہتان لگایا گیا ہو، (2) فحاشی کی موجب ہو، (3) کسی پر دباؤ ڈال کر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے ’’اعلامیہ برائے سیاسی و سماجی حقوق ’’جو جنرل اسمبلی نے 1966 میں منظور کیا تھا آرٹیکل 20 تشدد کے فروغ، نسلی تعصب، مذہبی منافرت اور کسی بھی قسم کے امتیازی روئیے پر مبنی تقریر و تحریر پر پابندی کی بات کرتا ہے۔

اظہار رائے کی بے مہار اور کھلی آزادی، نسلی، گروہی، لسانی و علاقائی عصبیتوں کے فروغ اور باہمی فساد و جدال کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی کے عقائد اور مذہب کی تضحیک کے ذریعے قتل و غارت گری کی راہ بھی کھل سکتی ہے۔ اسی لئے تقریباً ہر جمہوری ملک میں اسے قانونی طور پر روکا گیا ہے اور قابل تعزیر جرم گردانا گیا ہے۔ خود ڈنمارک (جہاں سب سے پہلے خاکوں کی بدطینتی سامنے آئی تھی) کا قانون بھی خاموش نہیں۔ وہاں بھی ناموس مذہب کا قانون ’’بلاس فیمی لا‘‘ عرصے سے موجود ہے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 140 کے مطابق ’’جو لوگ کسی مذہبی برادری کی عبادات اور مسلمہ عقائد کا کھلا مذاق اڑائیں یا ان کی توہین کریں، ان کو جرمانے اور قید کی سزا دی جائے گی۔

یورپ و امریکہ کو اپنی تہذیب و تمدن پر بہت ناز ہے۔ ایک طرف تو پرندوں اور جانوروں کے تحفظ اور آرام کا خیال کرتے ہیں لیکن جب اسلام اور مسلمانوں کا معاملہ آ جائے تو ان کے بعض شہریوں کی سوئی ہوئی حیوانیت کیوں جاگ اٹھتی ہے؟ پیارے رسولﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کے ذریعے صرف مسلمانوں کے کلیجے کو ہاتھ ڈالنا، مضطرب کرنا اور زندگی تلخ تر بنانا ہی ان کا مقصد کیوں بن جاتا ہے۔۔۔؟؟

مزید : ایڈیشن 1