وقت کی اہمیت

وقت کی اہمیت

ڈاکٹر شبیر احمد ظہیر

اسلام میں وقت کی اہمیت یہ ہے،کہ اسلام نے عبادات کے اوقات کا تعین کیا ہے،نماز کے اوقات مقرر کر دیئے گئے ہیں،فجر کی نماز کا وقت طلوع آفتاب سے قبل صبح صادق رکھا گیا ہے،ظہر کا وقت نصف النہار سے بتایا گیا ہے،عصر کا وقت سورج کے ڈھلنے کے بعد سے شروع ہوتا ہے، مغرب کا وقت غروب آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے اور عشاء کا وقت رات میں رکھا گیا ہے،یہ اس لئے ہے،کہ زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہو اور روز مرہ کی زندگی ایک نظام الاوقات کے مطابق بسر ہو، اس کی وجہ یہ ہے،کہ گزرا ہوا وقت پھر واپس نہیں آتا،اس گزرے ہوئے وقت میں ہم نے جو بھی عمل کیا،اچھا یا برا،اس کی سزا یا جزا ہم کو ملے گی۔

’’جس نے ذرا برابر بھی اچھا عمل کیا،اس کو اس کا بدلہ ملے گا اور جس نے ذرا برابر بھی برا عمل کیا اس کا بھی بدلہ ملے گا‘‘۔

ایک آیت کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،کہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ ،ہر ساعت،ہر دن ہماری عمروں کو کم کرتا جا رہا ہے اور ہماری موت کو قریب تر کر رہا ہے اور ایک ایسا دن آ جائے گا،جس میں انسان اپنے عمل کے لئے بدلہ لے گا،اس لئے اسلام نے اللہ سے ثواب کی امید اور عذاب سے خوف کی بنیادوں پر مختلف قسم کی عبادات فرض کر کے اللہ کے تقرب کا وسیلہ حاصل کرنے کی دعوت دی،چنانچہ نماز کی طرح روزہ کے اوقات کا بھی تعین کیا،یعنی سال کے 365 دنوں میں صرف انتیس) (29 یا تیس) (30 دن کے لئے دن کی روشنی میں کھانے پینے پر پابندی لگادی، صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک،تا کہ انسان کو بھوک اور پیاس کی شدت کا اندازہ ہو اور یہ معلوم ہو،کہ رزق بھی اللہ عطا کرتا ہے،اگر اس کی شان قہاری حرکت میں آجائے اور کھانے پینے کی اشیاء کو روک لے تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟

چنانچہ قرآن مجید میں ایک جگہ ارشاد خداوندی ہے،کہ آپ کہہ دیجئے اے نبیؐ !کہ کیا خیال ہے، تمہارا اگر یہ میٹھا جاری پانی خشک ہو جائے،تو کون تمہارے پاس یہ میٹھا پانی لا سکتا ہے؟

تو معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کے دروازے، اُس کا فضل و کرم اور لطف و احسان کا معاملہ اُس وقت ہوتا ہے،جب ہم اُس کی طرف سے عائد کردہ اوقات کار کی پابندی کریں،یعنی نماز،روزہ،زکوٰۃ اور حج کے بارے میں اس کے احکام کا اتباع کریں، اللہ کی رحمت،مغفرت اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کی سعی کریں اور وہ اس طور پر کہ ان اوقات میں عبادات کی پابندی کر کے نیکیوں اور اعمال کی بلند عمارت تعمیر کریں،اللہ کی بارگاہ میں کسی نیکی کے قبول ہونے علامت یہ ہے،کہ اس نیکی کے بعد پھر نیکی کرے،کہ ہم اعمال صالحہ پر قائم رہیں،اللہ کی اطاعت،تلاوت قرآن مجید اور تمام فرائض کی تکمیل کریں اور حرام امور سے اجتناب کریں۔

سال کے بارہ مہینوں میں رمضان ا لمبارک کا ایک مہینہ ہمیں اسی تربیت کے لئے عطا کیا گیا ہے، کہ ہم پاکیزگی اختیار کریں،روزے کی غرض و غایت تقویٰ و طہارت رکھی گئی،تقویٰ یہی ہے،کہ خواہشات نفسانی کو حاکم نہ بنایا جائے،لذات دنیوی ہی کو مال نہ سمجھا جائے،بلکہ نفس کے سرکش گھوڑے کی مہار شریعت و سنت کی گرفت میں دے کر اسے صحیح حالت پر رکھا جائے اور زندگی کے اصل مقصد سے غفلت نہ برتی جائے۔یہی اسلام میں وقت کی اہمیت کا تقاضا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1