صوبائی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتال سیاست کا اکھاڑہ بن گئے

صوبائی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتال سیاست کا اکھاڑہ بن گئے

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارلحکومت کے سرکاری ہسپتال سیاست کے اکھاڑہ بن گئے ہیں۔آئے روز ہڑتالوں،مظاہروں اور دھرنوں کے باعث روزانہ آؤٹ ڈور میں دور دراز سے آئے ہوئے مریض د ن بھر ذلیل وخوار ہونے کے بعدواپس لوٹ جانے پر مجبور ہیں جبکہ گزشتہ 10روز میں لاہور کے ہسپتالوں میں ہڑتالوں اور احتجاجوں کے باعث سینکڑوں مریضوں کے آپریشن بھی ملتوی ہو چکے ہیں تاہم محکمہ صحت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے دوسری طرف یونین کے نمائندوں اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کے درمیان مارکٹائی معمول بن چکا ہے۔بتایا گیا ہے کہ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں اس وقت سیاست عروج پر ہے ہسپتالوں کے حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہے ہسپتالوں پر حکومت اور محکمہ صحت کا کنٹرول نہیں رہا اور یہاں ہسپتالوں کا کنٹرول محض یونین بازوں کے ہاتھ میں ہے۔جس کے باعث ہسپتالوں کی انتظامیہ بھی بھیگی بلی کا کردار ادا کر رہی ہے۔شیخ زید ہسپتال میں دس روز سے پیرا میڈیکل سٹاف ینگ ڈاکٹرز اور ایپکا احتجاج پر ہے جن کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال میں بورڈ آف گورنرز اور سروس سٹرکچر کا نفاذ کیا جائے۔کچے اورکنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے جبکہ ان ہڑتالوں کے باعث شیخ زید ہسپتال کئی دنوں سے میدان جنگ بنا ہوا ہے اور یہاں 80فیصد سے زائد مریض واپس لوٹ رہے ہیں۔جونئیر ڈاکٹروں کی سنئیر ڈاکٹروں سے ہاتھا پائی ،ان پر تشدد،پیرا میڈیکل کے گروپوں میں تصادم اور وائی ڈی اے کی ہڑتالوں کے باعث حالات کشیدہ ہیں ۔گنگا رام ہسپتال،پی آئی سی،جناح ہسپتال،چلڈرن،میاں منشی،کوٹ خواجہ سعید،سید مٹھا،ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ،،لیڈی ویلنگٹن،لیڈی ایچسن میں بھی سیاست عروج پر ہے۔ہسپتالوں کی انتظامیہ اور محکمہ صحت بے بس دیکھائی دے رہے ہیں اور مریض ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔اس حوالے سے وائی ڈی اے کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عامر بندیشہ،پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر جاوید چوہان اور ایپکا کے رہنما چوہدری مختار کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے مسائل حل کر د ے وہ کبھی احتجاج نہیں کریں گے اور ہسپتالوں میں سیاست اور احتجاجو ں کی ذمہ دار محکمہ صحت اور پنجاب حکومت ہے۔اس حوالے سے سیکرٹری صحت جواد رفیق نے کہا کہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے جتنے مسائل اس دور میں حل ہوئے ہیں ان کی مثال نہیں ملتی۔سروس سٹرکچر پر عملدرآمد ہو رہا ہے ،انہوں نے روز نامہ پاکستان کی بات سے اتفاق کیا کہ ہسپتالوں میں یونین بازی پر پابندی ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ان کے مطالبات منظور کیے جائیں گے اور بعد میں حکومت کو ہسپتالوں میں سیاست پر پابند ی کی تجویز دیں گے۔

مزید : علاقائی