ایف آئی اے کے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم نے کام شروع کر دیا

ایف آئی اے کے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم نے کام شروع کر دیا

اسلام آباد(اے این این)فیڈل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) کے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم نے کام شروع کر دیا ہے، نیشنل رسپانس سیل سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹ ، ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے،انٹرنیٹ اور موبائل فون پر دھمکی ، فراڈ ، منی لانڈرنگ ، لاٹری کے جعلی خواب دکھانے والوں کی گردن دبوچنے کیلئے کام فوراً حرکت میں آئے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے سائبر کریم کی روک تھااور مجرموں کی گردن دبوچنے کیلئے ایف آئی اے کے نیشنل ریسپانس سینٹرفارسائبر کرائم نے کام شروع کر دیا ہے ۔ نیشنل رسپانس سینٹر فاسائبر کرائم انٹرنیٹ یا موبائل فون کے ذریعے کوئی مالی فراڈ یا جعلسازی کرے، کسی کے بنک اکاونٹ تک رسائی حاصل کرے۔ لاٹری یا نوکری کا جھانسہ دے کر پیسے بٹورے یا بھتہ مانگے، کسی کو دھمکی دینے یا تنگ کرنے، ای میل یا کسی سوشل میڈیا اکاونٹ کو ہیک کرنے ، کسی کی شناخت کا استعمال ،منی لانڈرنگ ، چربہ سازی یا انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس کی خلاف ورزی میں ملوث ،الیکٹرانک دہشت گردی یا کمپیوٹر وائرس پھیلانے والوں کیخلاف فوری حرکت میں آئے گا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کی گردن دبوچے گا ۔ ایف آئی اے نے عوام کو آگاہی دینے کے لیے طلبہ پر مشتمل سائبر اسکاوٹس کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ حکام کا دعوی ہے کہ مجرم اب بچ نہیں پائیں گے، شکایات درج کرانے کا طریقہ بھی انتہائی آسان ہے، ویب سائٹ nr3c.gov.pk بھی ہے اور فون نمبر 9911 ہے۔ ڈائریکٹر نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم یاسین فاروق کے مطابق ہم نے سائبر ریسکیو سروس شروع کی ہے 9911، اپ پورے پاکستان میں جہاں ہوں 9911ڈائل کریں اور آگے آپ کو 24گھنٹے اور ہفتے کے 7دن آپ کو الرٹ آفیسر جو سائبر کرائم جانتا ہوگا آپ کو گائیڈ کرے گا اور شکایت درج کرے گا۔ سائبر کرائم کی شکایات درج کرانے کے لیے راولپنڈی، اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، اگر جرم بیرون ملک سے کیا گیا ہو تو مجرم کا پیچھا متعلقہ سفارتخانے کے ذریعے بھی کیا جائے گا۔

مزید : علاقائی