قانونی تقاضے نہ نبھانے پر ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے پراجیکٹ کالعدم قرار دیدیا گیا

 قانونی تقاضے نہ نبھانے پر ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے پراجیکٹ کالعدم قرار دیدیا ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے 27ارب کے ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے کے لئے اراضی ایکوائر کرنے کا ہنگامی طریقہ کار اختیار کرنے کا اقدام غیرآئینی قرار دیتے ہوئے لاہورکی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ کالعدم کر دیا،مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ ، مسٹر جسٹس امین الدین خان اور مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا پر مشتمل فل بنچ نے اس سلسلے میں دائر حاجی امانت علی ،مسعود صادق سمیت بیس سے زائد شہریوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا بادی النظر میں شہرمیں کوئی ہنگامی صورتحال نہیں ہے جس کے پیش نظر شہریوں کے حقوق نظر انداز کر کے حکومت ان کی اراضی ایکوائر کر لے۔درخواست گزاروں کے وکلاء کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ گلبرگ سے براستہ شادمان موٹروے ٹو تک نالے پر ایکسپریس وے تعمیرکی جا رہی ہے اور حکومت نے ایکپریس وے کی تعمیر کیلئے پنجاب لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ سترہ کی ذیلی دفعہ چار کے تحت ہنگامی صورتحال کو جواز بناتے ہوئے 1284کنال اراضی ایکوائر کرنے کے نوٹیفکیشن جاری کئے مگر ان مراسلوں میں ہنگامی صورتحال کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی ، وکلاء کے مطابق قانون میں دیئے گئے نارمل طریقہ کار کی موجودگی میں ہنگامی طریقہ کار کے تحت اراضی ایکوائرنہیں کی جا سکتی کیونکہ ایسے طریقے سے حکومت کو زمین دینے والے شہریوں کو مناسب قیمت نہ ملنے کا خدشہ ہے،فل بنچ کے روبرو بھی یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت ترقیاتی منصوبوں کی مد میں اضلاع کے ساتھ اور صحت اور تعلیم سمیت دیگر شعبوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے، پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل اور ایل ڈی اے کی طرف سے فل بنچ کو بتایا گیا کہ سڑکیں بنانا حکومت کا کام ہے، عدلیہ کا کام نہیں، فل بنچ کو حکومتی دائرہ کار میں کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہے ، شہریوں کی طرف سے سول عدالتوں میں مقدمہ بازی سے بچنے کیلئے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ 17کی ذیلی دفعہ 4 کے نوٹیفکیشن کا سہارا لیا گیا، ایکسپریس وے سے گلبرگ، کینٹ اور ڈیفنس کے رہائشیوں کو براہ راست موٹر وے تک رسائی ہو گی اور کار استعمال کرنے والے 6 لاکھ افراد مفید ہوں گے جن کی یومیہ تعداد 40سے 50ہزار افراد بنتی ہے ،فل بنچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت مکمل کرتے ہوئے تمام درخواستیں منظور کرتے ہوئے 27ارب کے ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے کے لئے اراضی ایکوائر کرنے کا اقدام غیرآئینی قرار دیتے ہوئے شہرکی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ کالعدم کر دیا، عدالت نے اپنی مختصر حکم میں کہا ہے کہ بادی النظر میں شہرمیں کوئی ایمرجنسی نہیں جس کے پیش نظر شہریوں کے حقوق نظر انداز کر کے حکومت انکی اراضی ایکوائر کر لے۔فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ محکمہ ماحولیات سے بھی اس منصوبے کی منظوری نہیں لی گئی ۔محکمہ ماحولیات سے منظوری لینا ایک قانونی تقاضا ہے جسے پورا نہیں کیا گیا اس بناء پر بھی اس پروجیکٹ کو کالعدم کیا جاتا ہے ۔ کالعدم قرار

مزید : صفحہ آخر