سیف سٹی منصوبہ دسمبر تک مکمل ہو گا

سیف سٹی منصوبہ دسمبر تک مکمل ہو گا
سیف سٹی منصوبہ دسمبر تک مکمل ہو گا

  


وطن عزیز اپنی تاریخ کے نازک دور سے گذر رہا ہے ۔ معصوم بچوں ، عورتوں،بوڑھوں اور عام شہریوں کی جان سے کھیلنے والوں کی سفاکیت نے پوری قوم کو دہشت گردی کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر یکسو کردیا۔ 18 کروڑ عوام پاکستان بچانے کی جنگ میں حکومت پاکستان اور پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ کیونکہ اس جنگ میں جیت ہی واحد آپشن ہے۔ پنجاب پر ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کیلئے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اسی لئے اس بڑے مقصد کے حصول کیلئے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے اعلان کے بعد پنجاب میں برق رفتار اقدامات کئے گئے تاکہ معاشرے کے مقتدر اور بااختیار طبقوں کو دہشتگردی کے خلاف متحرک کیا جائے۔پنجاب بھر کے کمشنروں، آرپی اوز، ڈی سی اوز اور ڈی پی اوزکی اعلیٰ سطح کی سکیورٹی کانفرنس بلائی گئی جس میں سرکاری مشینری کو دہشتگردی اور انتہاپسندی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل دیاگیا۔مختلف مکاتب فکر کے جیدعلمائے کرام اور مشائخ عظام کا اجلاس بھی طلب کیاگیا جس میں علمائے کرام کو منبر و محراب سے دہشتگردی کے خلاف فکری اور نظریاتی جنگ میں اپنی ذمہ داری بطریق احسن ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔

وزیراعظم کودہشت گردی سے نمٹنے کیلئے متفقہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے اس رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ملک بھر میں جاری آپریشن کے دوران 19272 مشتبہ افراد گرفتار کئے گئے۔ ملک بھر میں 19784 آپریشن کئے گئے۔ سب سے زیادہ پنجاب میں 11634 آپریشن کئے گئے۔ سب سے زیادہ سندھ سے 3733 گرفتاریاں کی گئیں۔ 5066 افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کیاگیا۔ فنڈز منتقلی کے 32 مقدمات درج اور 26 گرفتار کئے گئے۔ ہنڈی کے ذریعے منتقل 75.8 ملین روپے کی رقم برآمد کی گئی۔ نادرا کی مدد سے 57.6 ملین سمز کی تصدیق کی گئی۔ ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 1250 آپریشن کئے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں عوام اور میڈیا کو اعتماد میں لینے کیلئے خصوصی طور پر ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور پوری قوم نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں ، ان کے حماتیوں اورسہولت کاروں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ صف آراء ہے۔اسلام کے نام پر قتل و غارت اورکفر کے فتوے کسی صورت جائز نہیں اورنہ ہی حکومت ایسے فتوے جاری کرنے کی اجازت دے گی۔پنجاب میں غیر قانونی طورپر رہنے والے افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھجوائیں گے۔اس حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے سروے کیا جارہا ہے۔ دینی مدارس میں زیر تعلیم ایسے طلباء و طالبات جن کے ویزے کی معیاد ختم ہوچکی ہے انہیں بھی ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ صوبائی ایپکس کمیٹی کی باہمی مشاورت سے فوجی عدالتوں میں بھجوانے کیلئے دہشت گردی کے 43مقدمات وفاقی حکومت کو بھیج دےئے گئے ہیں جن میں سے 10فائنل ہوچکے ہیں۔ ایک ہزار بائیو میٹرک مشینیں بھی منگوائی جارہی ہیں جن کے ذریعے سے کومپنگ آپریشن کر کے کسی بھی جگہ مشکوک شخص کی نشاندہی کی جاسکے گی۔ گاڑیوں کی سیکننک کے لئے جدید سکینرز بھی منگوائے جارہے ہیں۔دہشت گردی پاکستان کا نمبر ون دشمن ہے۔ ملک کو دہشت گردی ،انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کی لعنت سے نجات دلانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کسی قسم کی غفلت برداشت کرے گی نہ اس کا موقع ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 50ہزار پاکستانی جام شہادت نوش کرچکے ہیں جن میں فوج،پولیس کے افسر اور جوان،سیاستدان اوران کے عزیز و اقارب،بچے اور عام پاکستانی شامل ہیں۔ 16 دسمبر 2014کو دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کا لہو بہایا،بے گناہ ننھے پھولوں کے خون کے طفیل پشاور سے لیکر کراچی تک پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکجان دوقالب ہوچکی ہے۔عوام کے اتحاد اورقوت سے دہشت گردی کے اژدھے کا سر کچل کر دم لیں گے۔دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ کے حوالے سے وزیراعظم محمد نوازشریف کی سربراہی میں تواتر سے اجلاس ہورہے ہیں جن میں سیاسی،عسکری اور مذہبی قیادت شرکت کررہی ہے۔پوری قوم دہشت گردوں کو شکست فاش دینے کیلئے پرعزم ہے۔ وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ موقع ضائع ہواتو آئندہ نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ملک سے غربت ، جہالت،بے روزگاری ،کرپشن کے خاتمے اوروسائل میں اضافے کیلئے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کرنا ہوگا،اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ قائدؒ واقبالؒ کے تصورات کے مطابق پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے اورقیام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والوں کے سنہرے خوابوں کو تعبیر دینے کیلئے دہشت گردی کے اژدھے کاسرکچلنا وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں وال چاکنگ،اشتعال انگیز تقاریر،لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال،مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر کی تقسیم و اشاعت کے قانون پر سختی سے عملدر آمدکرایا جارہا ہے۔ قوانین میں ترامیم کر کے سزاؤں کو مزید سخت کیا گیا ہے۔صوبائی ایپکس کمیٹی فعال طریقے سے کام کررہی ہے اور فوری او رموثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مدارس ،سکولوں اوریونیورسیٹوں کے نصاب میں تحمل ،برداشت،بردباری ،امن،محبت اورایثار کے اضافی مضامین کو نصاب کا حصہ بنانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

صوبے میں جدید تربیت سے لیس انسداددہشت گردی فورس تشکیل دی گئی ہے جس کا پہلا بیچ پاس آؤٹ ہوچکا ہے۔ انسداددہشت گردی فورس کوجدید آلات اور ہیلی کاپٹر بھی فراہم کریں گے۔انسداددہشت گردی فورس پڑے لکھے نوجوانوں مشتمل ہے جنہیں میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا ہے اور اس فورس کا دوسرا بیچ اپریل جبکہ تیسرا بیچ اگست میں پاس آؤٹ ہوگا۔ صوبے میں ریپڈ رسپانس فورس کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ پاک افواج اور دوست ممالک کے تعاون سے انہیں تربیت دی جارہی ہے۔ لاہور میں جنوبی ایشیاء کی جدید ترین فرانزک لیب بھی کام کررہی ہے اور اس لیب کی برانچیں صوبے کے 9ڈویژنوں میں قائم کی جارہی ہے۔ سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز لاہور سے کردیا گیا ہے جو دسمبر تک مکمل ہوگا اوراس کا دائرہ صوبے کے پانچ بڑے شہروں تک پھیلایا جائے گا۔پنجاب کے تمام مدارس کی ڈیجیٹل میپنگ کی جا رہی ہے۔موثرانٹیلی جنس نظام کی بدولت ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔انٹیلی جنس ونگ کو مضبوط بنارہے ہیں۔عوام کی جان ومال کا تحفظ اوردہشت گردی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اوراس مقصد کیلئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر اخراجات اپنے وسائل سے کررہی ہے اور اس مقصد کیلئے اسے وزیراعظم محمدنوازشریف کی مکمل رہنمائی حاصل ہے۔

وزیراعلی محمد شہبازشہریف نے پر عزم اور پر اعتماد لہجے میں بتایا کہ اچھے اوربرُے دہشت گردوں کا کنفیوژن ختم کر کے تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کی جارہی ہے اوراس مقصد کیلئے سیاسی ،عسکری اورمذہبی قیادت یکسو ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیر ملک ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کرسکتااورنہ ہی اسے قائدؒ و اقبالؒ کے تصورات کے مطابق صحیح معنوں میں فلاحی ریاست بنایا جاسکتا ہے۔ اگر آج ہم نے اس موقع کو گنوا دیااوردہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنا کردارادا نہ کیا توپاکستان کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکے گا۔میرا ایمان ہے کہ ایک دن آئے گا پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا اور ملک امن وسلامتی کا گہوارہ بنے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بندوق کی گولی کے ساتھ تعلیم،صحت ،انصاف،معاشی سرگرمیوں کے فروغ،غربت اوربے روزگار ی کے خاتمے کی گولیوں کو بھی استعمال میں لانا ہوگا۔ قومی مقاصد حاصل کرنے کیلئے دہشت گردی ،انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے غربت اوربے روزگاری کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ حکومت پنجاب نے اس جانب بھی درست اقدامات کیے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیک نیتی اورخلوص دل سے اقدامات کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے گااورانشاء اللہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضرور سرخرو ہوں گے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا کے کردارپر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ میڈیا کو بھی اس حوالے سے ذمہ دارانہ کردارادا کرنا ہے۔ میڈیاکی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ مثبت تنقید ہونی چاہیے۔ اگر بدقسمتی سے ایک خدا ، ایک رسولؐ اور ایک کتاب کو ماننے والے گروہوں میں بٹ گئے ہیں تو میڈیا کو اس تفریق کو کم کرنے کیلئے اپنی کاوشیں کرنا ہے۔ میڈیا پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے پروگرام کرے جس سے مذہبی منافرت اورانتہاء پسندی کے خاتمے میں مدد ملے ،میڈیا کی اس لازوال خدمت کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔وزیراعلیٰ نے میڈیا کہ نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ایجنڈے کو درددل سے آگے بڑھائیں گے تو پاکستان ایک پرامن بنے گا۔ دشمن تو پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہے ہمیں اتحاد کی قوت سے دشمن کے ان عزائم کو ناکام بنانا ہے۔مدارس میں غیر ملکی طلباء کے بارے میں کہاکہ مدارس کا مکمل سروے کرایا جارہا ہے۔ یہ بات ہمارے علم میں آئی ہے کہ چار سوکے قریب طلباء ایسے ہیں جن کے ویزے کی معیادختم ہوچکی ہے اس حوالے سے وفاقی حکومت کو لکھ دیا گیا ہے کہ جس کے جواب پر انہیں پنجاب سے بے دخل کیا جائے گا۔ مدارس کی اکثریت دینی تعلیمات کو فروغ دے رہے ہیں،انتہاء پسندی کے رجحانات کے فروغ میں بعض ادارے بھی جڑے ہوسکتے ہیں اور دہشت گردی ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے اوراسی مائنڈ سیٹ کو ہم نے ختم کرناہے۔ یورپی یونین کی جانب پھانسیوں کے حوالے سے دباؤ ڈالا گیا تاہم وزیراعظم محمد نوازشریف نے یہ دباؤ قبول نہیں کیا کیونکہ وہاں کے حالات پاکستان کے تناظرمیں یکسر مختلف ہیں۔ ہمیں ملکر انتہاء پسندی کے رجحانات کا خاتمہ کرنا ہے اور وطن عزیز کو امن اورسلامتی کا گہوارہ بنانے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردارادا کرنا ہے۔ *

مزید : کالم