شکستِ شہر بھی دیکھو

شکستِ شہر بھی دیکھو
شکستِ شہر بھی دیکھو

  


معروف شاعر ظہور نظر کا ایک قطعہ مجھے رہ رہ کر یاد آ رہا ہے۔ شاید اس لئے کہ آج کل اس قطعہ کے مفہوم کی حمایت ہمارے اردگرد کا ہر ذرہ کبھی خاموش اور کبھی بلند آواز میں کرتا نظر آتا ہے۔ لیجئے آپ بھی یہ قطعہ ملاحظہ کیجئے۔

جدید نسل کے دانشور قلم کارو!

فصیل ذات کی ڈھاؤ، گراؤ باہر آؤ

کرو نہ اپنے ہی اندر کی توڑ پھوڑ پہ غور

شکستِ شہر بھی دیکھو، دکھاؤ، باہر آؤ

ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے خود پر کچھ ایسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن سے انہیں کچھ فائدہ پہنچتا ہے اور نہ معاشرے کو کچھ حاصل ہوتا ہے،جہاں تک مَیں سمجھ سکا ہوں۔ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی اکثریت نے ملکی اور معاشرتی مسائل پر لکھنے سے اس لئے ہاتھ کھینچ رکھا ہے کہ اس سے اُن کے ادبی قدو قامت پر حرف آنے کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔ غیر ادبی موضوعات پر لکھتے ہوئے اپنی دو ٹوک رائے کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔ اس میں شاعری کی رمزیت یا افسانے جیسی فکشن کی گنجائش نہیں ہوتی، چونکہ زمانہ مصلحت پسندی کا ہے اس لئے بھی تخیل کے گھوڑے پر سوار ہونے والے اس سنگلاخ زمین پر برہنہ پا چلنے کی زحمت نہیں اٹھاتے، حالانکہ ایسا کرنا عین اُن کے منصب کی بنیادی خوبی ہے۔

خواہشات کا مُنہ زور ریلا معاشرے کے تمام طبقوں کو بڑی تیزی سے اپنے جلو میں بہائے چلا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے کو روندنے اور ایک دوسرے کا حق مارنے کی ایک ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے، جس کا کوئی اختتامی سنگ میل تک دکھائی نہیں دیتا۔ یہ کہنا بہرحال ہے تو ایک خواب وخیال کی بات کہ ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں کو اس دوڑ میں حصہ لینا چاہئے کہ آخر وہ بھی گوشت پوست کے انسان ہیں اور ان کے گرد بھی خواہشات نے حلقہ کیا ہوا ہے تاہم اس کے باوجود نجانے یہ کیوں جی چاہتا ہے کہ ادیب اور دانشور استحصال کی اس جنگ سے نہ صرف دور رہیں، بلکہ اسے ختم کرنے کی کوشش بھی کریں۔ شائد اس لئے کہ لے دے کے ایک یہی طبقہ ایسا رہ جاتا ہے جسے دوسروں کے مقابلے میں سوچنے اور غور و فکر کرنے کی بیماری عموماً لاحق رہتی ہے اس کے علاوہ معاشرے کے تضادات اور انفرادی مفادات کی معرکہ آرائی دیکھ کر بھی زیادہ تر یہی لوگ جلتے اور کڑھتے ہیں۔ بس مسئلہ صرف یہ ہے کہ اپنے خیالات واضح اور نمایاں طور پر منظر عام پر لانے کی بجائے انہیں اپنے باطنی احساس کی نمائش گاہ میں سجا دیتے ہیں۔اس سے یقیناًان کی فرسٹریشن کسی حد تک ختم ہو جاتی ہے، لیکن معاشرے کی فرسٹریشن کچھ نہ کچھ بڑھ جاتی،خود غرضی اور خود پسندی کا اندھیرا بھی کچھ گہرا ہو جاتا ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے مُلک جس قسم کے حالات کا شکار ہے اس پر روشنی ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ ہم میں سے ہر شخص بشرطیکہ عقل وخرد سے بے گانہ نہ ہو، ان کی شدت،نوعیت اور اثرات سے بخوبی آگاہ ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ان حالات کے تسلسل نے بہت سے ذہنوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے اور وہ یہ دیکھنے سے یکسر قاصر ہیں کہ تعصبات اور مفادات کے خمیر سے جنم لینے والے یہ واقعات و حالات قومی و ملکی سطح پر جس زہریلی فضا کو پروان چڑھا رہے ہیں، وہ بالآخر ہم سب کو اپنا ایندھن بنا سکتی ہے۔ نسلی، علاقائی،مذہبی، طبقاتی اور مفاداتی تعصب نے جس قدر آج ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،۔ پہلے کبھی نہیں لیا تھا۔ ایسے میں معاشرے کے ان لوگوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، جو سمجھنے، سوچنے اور حالات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جہالت صرف لفظ سے عدم واقفیت ہی نہیں ہوتی، بلکہ جب انسان وسعتِ نگاہ سے یا اجتماعی دائروں کو چھوڑ کر تنگ گروہی دائروں کو ترجیح دے، تب اس کی کم علمی اور کم فہمی ثابت ہو جاتی ہے۔ لیڈری کرنے کے شوقین افراد نے عوام کی اس کم علمی سے فائدہ اٹھا کر ہمیں اپنا آل�ۂ کار بنا لیا ہے۔کسی کو مہاجر،کسی کو سندھی، کسی کو پختون، کسی کو بلوچ، کسی کو پنجابی، کسی کو دیو بندی،کسی کو بریلوی، کسی کو شیعہ اور کسی کو عیسائی کے تنگ دائروں میں الجھا کر اس عظیم اور طویل و عریض دائرے سے محروم رکھنے کی کوشش کی ہے جسے پاکستانیت کہتے ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ نسلی، لسانی، علاقائی یا تفرقے کی بنیاد پر اپنا کاروبار چلانے والے اپنی صلاحیت یا ذہانت کی بنا پر آگے ہیں، بلکہ ہمارے سیاسی و معاشی نظام اور مصلحت پسند کمزور حکومتوں نے انہی لوگوں کے جذبات سے کھیلنے اور انہیں ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، مگر اس وقت بحثوں میں الجھنے کی بجائے مُلک کو انتشار و افتراق سے نکالنے کی ضرورت ہے اور اس فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔

خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوا تو ہمارے یہ چھوٹے چھوٹے حوالے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔ ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں پر وہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جس کی طرف مرحوم ظہور نظر نے اپنے اس قطعے میں اشارہ کیا ہے، جو مَیں اس کالم کے آغاز میں درج کر آیا ہوں۔ ایک طرف وہ قومی یکجہتی کے جذبے کو ابھارنے کے لئے اپنا قلم استعمال کریں اور دوسری طرف موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لئے ایسی ٹھوس تجاویز بھی سامنے لائیں۔ مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ادیبوں شاعروں کی آئے روز محافل بپا ہوتی ہیں، لیکن وہ سب کی سب ادبی موضوعات تک محدود رہتی ہیں۔ کتابوں کی رونمائیاں اور یا مشاعرے وہ ادبی سرگرمیوں کے زمرے میں ضرور آتے ہیں، لیکن ادیبوں شاعروں کی موجودہ حالات کے بارے میں بھی تو کوئی اجتماعی رائے سامنے آنی چاہئے۔دہشت گردی کے عفریت نے پوری قوم کو جکڑ رکھا ہے، ہر کوئی اپنے اپنے مزاج کے مطابق اس کی توجیح و تشریح کر رہا ہے، اہلِ قلم اس بارے میں کیا سوچتے ہیں یا انہیں کیا سوچنا چاہئے۔اس حوالے سے ایک گہری خاموشی نظر آتی ہے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ معاشرے کے ہر طبقے کی طرف سے کوئی نہ کوئی رائے آ جاتی ہے، مگر ادیبوں کی کوئی رائے سامنے نہیں آتی۔

فکری انتشار کے اس دور میں ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی ملکی و قومی حالات سے یہ چشم پوشی یا اُن پر خاموشی یا پھر عدم دلچسپی ایک طرح کا مجرمانہ فعل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بہت سے ادیب اور دانشور کانِ نمک کا حصہ بن گئے ہیں، انہوں نے نظام کے پروردہ عناصر کے دستِ مفادات کی بیعت کر لی ہے، وہ بولتے ضرور ہیں مگر انہی کے حق میں۔ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جس طرح اقبال ؒ نے کہا تھا:مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے،اسی طرح ادیبوں، شاعروں کو مشاعروں اور ادبی سیمیناروں تک محدود رکھو۔ انہیں فکری لحاظ سے دولے شاہ کے ایسے چوہے بنا دو جو اپنے اردگرد کے حالات اور تقاضوں سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ یہ رویہ ایسا ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ 68سال بعد بھی یہ سوال ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا، ’’پاکستان کا کیا بنے گا؟‘‘ اس سوال کے پس پردہ بے یقینی کا جوایک گہرا تاثر موجود ہے اسے دور کرنا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لئے اہلِ فکرو نظر سے گزارش یہی ہے کہ وہ صرف اپنے اندر کی توڑ پھوڑ پر ہی اپنی ساری توجہ اور صلاحیتیں صرف نہ کریں، بلکہ شکستِ شہر بھی دیکھیں اور امید شہر کی تخلیق میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ آخر میں ظہور نظر ہی کا ایک قطعہ درج کر کے اپنی بات ختم کر رہا ہوں۔

پناہ کشتیء بے رخ میں ڈھونڈنے والو

پکارتا ہے زمیں کا کٹاؤ، باہر آؤ

لگے گی ناؤ کہاں گر یہ سرزمیں نہ رہی

اب اس کو اور کٹنے دو، آؤ، باہر آؤ

مزید : کالم