پولیس اہلکاروں کی لرکی سے اجتماعی بد اخلاقی متاثرہ لرکی وزیر اعلیٰ سیکرٹرینٹ پہنچ گئی

پولیس اہلکاروں کی لرکی سے اجتماعی بد اخلاقی متاثرہ لرکی وزیر اعلیٰ ...
پولیس اہلکاروں کی لرکی سے اجتماعی بد اخلاقی متاثرہ لرکی وزیر اعلیٰ سیکرٹرینٹ پہنچ گئی

  


 لاہور(کرائم سیل)حوا کی بیٹی کی کواپنے ہی محافظوں نے بے آبرو کر ڈالا، ساری رات ویرانے میں لیجا کر بد اخلاقی کا نشانہ بنایا چھوڑتے وقت خاندان کومقابلے میں پار کرنے کی دھمکیاں ملیں ،ایس ایچ او سے انصاف مانگنے پر تھانے سے دھکے دے کر نکال دیا گیا 22سالہ شمائلہ انصاف کے لئے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پہنچ گئی ۔تفصیلات کے مطابق شیخوپورہ کی حدود میں شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک تحصیل فیروز والہ تھانہ فیکٹری ایریا کی رہائشی22سالہ شمائلہ نامی لڑکی پولیس سے انصاف نہ ملنے پر وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ پہنچ گئی۔ شمائلہ نے بتایا کہ 16فروری کی رات وہ اپنی بڑی بہن سے ملنے کے بعد اپنے گھر واپس جا رہی تھی کہ پرائیوٹ کیری ڈبہ میں سوار مقامی تھانے کے سب انسپکٹر جاوید اقبال بھلہ اورایک اے ایس آئی امین ،تین کانسٹیبلان اور ایک سول کپڑوں میں ملبوس شخص نے زبردستی مجھے کیری ڈبہ میں بٹھا لیااور پہلے تھانہ فیکٹری ایریا کے باہر لائے اور بعد ازاں مجھے نامعلوم مقام ویرانے میں لے کر چلے گئے، جہاں لیجا کر انہوں نے مجھے بد اخلاقی کا نشانہ بنا ڈالا۔ میری چیخ پکار کی کوشش پر امین نے میرے منہ پر کپڑاباندھ دیااور اس کے بعد تمام افراد نے باری باری مجھے بد اخلاقی کا نشانہ بنایا اور مجھے تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔بعدازاں انہوں نے مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ اگر تم نے کسی سے اس کا ذکر کیا تو ہم لوگ تمہیں اور تمارے اہل خانہ کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دیں گے جس کے بعد انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ۔بعد ازاں میں نے گھر والوں کو تمام حالات و واقعات سے آگاہ کیا تو انہوں نے تھانے میں درخواست دی مگر ایس ایچ او تھانی فیکٹری ائریا کی جانب سے کارروائی کی بجائے الٹا جاوید کی حمایت کی گئی اور اس نے کہا کہ میں کیا کروں تم لوگوں کا کیرکٹر ٹھیک نہیں ہے اگر پولیس کے جوانوں نے کچھ کیا ہے تو ان کو معاف کر دواور اب تھانے نہ آنا میں کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کروں گااور تھانے سے نکال دیا گیا جس پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس انصاف مانگنے پہنچے ہیں شائد یہاں ہماری شنوائی ہو سکے ۔ایس ایچ او کے مطابق اس واقعہ کا علم نہیں جبکہ سب انسپکٹر جاوید بھلہ سے رابطہ کرنے پر اس نے بتایا کہ تمام الزام ایک جھوٹی کہانی ہے اور اصل حقائق سے پردہ پوشی کی کوشش اور اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے گھڑی گئی ہے ہم لوگوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا اور بد اخلاقی کرنے کے مطلق میں تو کم از کم نہیں سوچ سکتا شمائلہ کی بہنوں کے خلاف ایک لڑکی کے اغواء کا ،قدمہ چل رہا ہے کہیں سے معلوم ہوا تھا کہ چاروں بہنیں یہاں اپنے بھائی سے ملنے آئی ہوئی ہیں جہاں میں نے پولیس پارٹی کے ساتھ ریڈ کی اور ان کی گرفتاری کی کوشش کی تو وہاں شمائلہ موود تھی جب اس سے تفتیش کی گئی کہ اس کی بہنیں جو کہ اغواء کے مقدمہ میں مطلوب ہیں تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا کہ اس کے موبائل پر کسی کا فون آیا جس کو چیک کرنے پر امین اے ایس آئی نے سے کے ہاتھ سے موبائل فونلے لیا تو اشرف نامی شخص کا فون تھا جو کہ بدنامے زمانہ ہے اور چکلہ خانہ چلاتا ہے اس کو بلانا چاہا تو اس نے ہمیں گالیاں نکالیں جس کے جواب میں امین اے ایس آئی نے بھی گالیاں نکالیں اور جھگڑا بڑھ گیامگر اس کے بعد ہمنے شمائلہ کو اس کے بھائی کے گھر ہی چھوڑ دیا اوراس کو کہیں بھی گاریی میں نہیں بٹھایا گیا تھا یہ الزام لگایا جارہا ہے اور پولیس کو اغواء کے مقدمہ کی تفتیش اور گھر میں داخلے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ملزمان کے خلاف پولیس کوئی کاروائی نہ کرے۔

مزید : علاقائی