مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے دفعہ370کی منسوخی زیر غور نہیں، بھارت

 مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے دفعہ370کی منسوخی زیر غور نہیں، بھارت

 نئی دہلی(کے پی آئی)بھارت نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے دفعہ370کی منسوخی کا معاملہ حکومت کے زیر غور نہیں،بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد نے پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید اوروزیراعظم نریند مودی کی میٹنگ سے قبل ہی یہ واضح کردیا کہ جموں کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی آئین بھارت کی دفعہ370کی منسوخی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ بیان بی جے پی اور پی ڈی پی سربراہوں کی طرف سے مخلوط حکومت کے قیام سے متعلق باضابطہ اعلان کے دوسرے ہی دن راجیہ سبھا میں سامنے آیا ۔راجیہ سبھا میں دفعہ370کو کالعدم قرار دینے سے متعلق ایک سوال کے تحریری جواب میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت ہری بھائی پراٹی بھائی چوہدری نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس طرح کی کوئی تجویزمرکز کے زیر غور نہیں ہے۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھاجی نہیں!اس بارے میں فی الوقت کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کو الحاق کی رو سے بھارت کے ساتھ جڑے رکھنے کیلئے آئین میں دفعہ370شامل کی گئی تھی۔انہوں نے کہا دفعہ370ایک ایسی دفعہ ہے جس کے ذریعے جموں کشمیر کے بھارت کے ساتھ موجودہ رشتوں کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔وزیر کا یہ کہنا تھا کہ دفعہ370کی رو سے مرکزی پارلیمنٹ کو جموں کشمیر میں الحاق کے تحت بعض مخصوص معاملات یا بعد میں شامل کئے گئے مسائل کے بارے میں حکومت جموں کشمیر کی رضامندی سے قوانین نافذ کرنے تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست میں حکومت سازی کو لیکر پی ڈی پی اور بھاجپا کے درمیان بات چیت کے دوران دفعہ370کا معاملہ کلیدی طور پر چھایا رہا کیونکہ اس کے بارے میں دونوں جماعتوں کے نظریات متضاد ہیں۔متنازعہ مسائل کے سلسلے میں منگل کو بھاجپا صدر امیت شاہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ملاقات کے بعد تمام اختلافات پر قابو پانے اور ریاست میں مخلوط سرکار تشکیل دینے پر اتفاق ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔دفعہ370کے بارے میں مرکزی وزارت داخلہ کی وضاحت اس اعلان کے فورا بعد سامنے آئی ہے۔

مزید : عالمی منظر