سانحہ نانگاپربت، چاردہشتگردجیل سے فرار، ایک ماراگیا، دوسرازخمی

سانحہ نانگاپربت، چاردہشتگردجیل سے فرار، ایک ماراگیا، دوسرازخمی
سانحہ نانگاپربت، چاردہشتگردجیل سے فرار، ایک ماراگیا، دوسرازخمی

  


گلگت (مانیٹرنگ ڈیسک) 2013ءمیں سانحہ نانگاپربت اور ایس ایس پی دیامر و فوجی افسران کے قتل میں ملوث چار خطرناک دہشتگرد جیل سے فرار ہوگئے ہیں جن میں سے ایک مقابلے میں ماراگیاجبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں پکڑلیاگیا، دوبحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے ۔

محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل پر باہر سے کسی نے حملہ نہیں کیا،جمعرات اورجمعہ کی درمیانی رات کو تین بجے کے قریب قیدیوں نے اندر سے بھاگنے کی کوشش کی ، بھاگنے والے قیدی سانحہ نانگاپربت ، ایس ایس پی دیامر اور پاک فوج کے کرنل سمیت سیکیورٹی افسران کے قتل میں ملوث تھے ۔

سیکریٹری داخلہ سبطین احمدنے بتایاکہ فرار کی کوشش کے دوران محافظوں کی فائرنگ سے ایک دہشتگردماراگیاجبکہ دوسرازخمی حالت میں پکڑاگیا، فرارہوجانے میں کامیاب ہونیوالے سزائے موت کے منتظردونوں کی شناخت حبیب الرحمان اور لیاقت کے نام سے ظاہر کی گئی ،مرنیوالے کی’ حضرت بلال‘ سے شناخت ہوئی۔

بتایاگیاہے کہ ہائی پروفائل دہشتگردوں کے فرار پر جیل وارڈن سمیت تین اہلکارمعطل کردیئے گئے ہیں ، واقعے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی بنادی گئی جس کی سربراہی چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کریں گے ۔

حکومت نے مفروردہشتگردوں کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کیلئے بیس لاکھ روپے انعام کا اعلان کردیا۔

یادرہے کہ 2013ءمیں نانگاپربت پر حملے میں 10سیاحوں سمیت 11افرادمارے گئے تھے اور کہاجارہاتھاکہ ڈکیتی میں مزاحمت پر ملزمان نے تمام افراد کو موت کے گھاٹ اُتاردیاتھا۔ بعدمیں امن وامان اور سانحہ نانگا پربت پر میٹنگ سے واپس آنیوالے افسران کی گاڑی پر حملہ کرکے شہید کردیاگیاتھا۔

مزید : قومی /Headlines