لاہور ہائی کورٹ :دائی انگہ کے مقبرے کے ساتھ شادی ہال کی تعمیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم 

لاہور ہائی کورٹ :دائی انگہ کے مقبرے کے ساتھ شادی ہال کی تعمیر کے ذمہ داروں کے ...
لاہور ہائی کورٹ :دائی انگہ کے مقبرے کے ساتھ شادی ہال کی تعمیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم 

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی ) لاہو رہائیکورٹ نے ریلوے سٹیشن کے قریب واقع دائی انگہ کے مقبرے کے ساتھ شادی ہال تعمیر کرنے کے خلاف درخواست پر محکمہ آثار قدیمہ سے غیرقانونی تعمیر میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ رپورٹ سماجی رہنما وسابق اداکارہ فریال گوہر کی درخواست پرطلب کی ہے، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں کی دائی کی یاد میں ریلوے سٹیشن گلابی باغ کے قریب دائی انگہ مقبرہ تعمیر کیا گیا تھا، محکمہ آثار قدیمہ پہلے ہی نایاب مقبروں کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کر رہا مگر اب محکمے کی غفلت کے باعث دائی انگہ مقبرے کے ساتھ شادی ہال تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے مقبرے کے حسن کو نقصان پہنچے گا.
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آثار قدیمہ کے قانون کے مطابق کسی بھی مقبرے کے اردگرد200فٹ تک کوئی کمرشل عمارت تعمیر نہیں کی جا سکتی ،دائی انگہ مقبرے کے ساتھ شادی ہال کی تعمیر روکنے کا حکم دیا جائے،محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب انوار حسین نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ مقبرے کے ساتھ غیرقانونی شادی ہال تعمیر کرنے والوں کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں اور ان کے خلاف مزید کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، انوار حسین نے مزید موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت آثار قدیمہ کے تحفظ کے لئے دیگر اقدامات بھی کر رہی ہے، عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے مقبرے کے ساتھ غیرقانونی تعمیر میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی 13 مارچ تک رپورٹ طلب کر لی ۔

مزید : لاہور