چیف سلیکٹر کسینو میں پکڑے گئے ، ہیڈ کوچ وقار یونس جسٹس قیوم کمیشن میں دھر لئے گئے تھے

چیف سلیکٹر کسینو میں پکڑے گئے ، ہیڈ کوچ وقار یونس جسٹس قیوم کمیشن میں دھر لئے ...
چیف سلیکٹر کسینو میں پکڑے گئے ، ہیڈ کوچ وقار یونس جسٹس قیوم کمیشن میں دھر لئے گئے تھے

  


لاہور(سعید چودھری )پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر معین خان کسینو گئے اور پکڑے گئے جس کے باعث انہیں واپس بلا لیا گیا جبکہ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کو بھی ماضی میں میچ فکسنگ اور قمار بازی کے الزامات کا سامنا رہا ہے ۔کرکٹ میں جواءبازی اور میچ فکسنگ کی انکوائری کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک محمد قیوم پرمشتمل جوڈیشل کمیشن نے 1999ءمیں انہی الزامات کی بناءپر ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی تھی ،نہ صرف یہ بلکہ ان کی تمام سرگرمیو ں کی نگرانی کی ہدایت بھی کی گئی تھی ۔جسٹس ملک محمد قیوم نے 30ستمبر1999ءکو اپنی انکوائری مکمل کی تھی ۔

149صفحات پر مشتمل جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے خلاف مختلف قانونی اور فوجداری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ 8کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی ۔سفارشات کے مطابق سلیم ملک پر10لاکھ روپے ، وسیم اکرم پر3لاکھ روپے ، مشتاق احمدبھی3لاکھ جبکہ وقار یونس ،عطاءالرحمن ،انضمام الحق ،اکرم رضا اور سعید انور پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی گئی تھی ۔رپورٹ میں سلیم ملک کے خلاف جرمانے اورفوجداری کارروائی کے علاوہ ان پر تاحیات پابندی کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی ۔وسیم اکرم کو کپتانی سے ہٹانے ،ان پر گہری نظر رکھنے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین بھی کی سفارش بھی کی گئی تھی ۔قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ اور سابق فاسٹ باﺅلر وقار یونس پر ان کے ساتھی باﺅلر عاقب جاوید نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک بکی سلیم پرویز سے پجیرو گاڑی لی تھی ،جوڈیشل کمیشن نے ایک لاکھ روپے جرمانے کے علاوہ یہ سفارش بھی کی تھی کہ وقار یونس کو انڈر آبزرویشن رکھا جائے ۔کمیشن نے اعتراف جرم کی بناءپر عطاءالرحمن کے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی ۔کمیشن کی رپورٹ کے صفحہ 77پر جسٹس ملک قیوم نے فائنڈنگ دی تھی کہ کرکٹ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑیوں خاص طور پر نوجوان کرکٹرو ں کے خلاف قمار بازی یا میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی شہادت موجود نہیں ۔اگر کوئی شہادت موجود بھی ہے تو بہت کمزور ہے تاہم سلیم ملک ،مشتاق احمد اور وسیم اکرم کا معاملہ بے گناہ کرکٹروں سے مختلف ہے ۔

علا وہ ازیں وہ کھلاڑی جن پر یہ الزامات سامنے آئے ہیں یا پھر سچ بولنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرکے انہوں نے خود کو مشکوک بنایا ،ان میں وقار یونس، باسط علی ، سعید انور، اکرم رضا، اعجاز احمد اور انضمام الحق کے نام شامل ہیں تاہم حتمی رائے میں فاضل کمیشن نے قرار دیا کہ باسط علی کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ملے ،زاہد فضل بھی میچ فکسنگ میں ملوث نہیں پایا گیا ،اسی طرح اعجاز احمد میچ فکسنگ میں ملوث نہیں تاہم انہیں وارننگ دی گئی کہ وہ بکیوں سے دور رہے ۔کمیشن رپورٹ کے مطابق ثقلین مشتاق کے خلاف بھی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی ۔کمیشن کی رپورٹ کے صفحہ 117پر ایسی شہادتوں کا ذکر ہے جن کے مطابق پابندی کے باوجود وقاریونس سری لنکا کے دورہ میں ڈریسنگ روم میں موبائل فون استعمال کرتے تھے ۔کمیشن نے قرار دیا تھا کہ وقاریونس کے خلاف ٹھوس شہادتیں موجود نہیں تاہم اس کے اپنے دو ٹیم مینجروں اور عاقب جاوید جیسے دوست کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اس لئے وقار یونس کو وارننگ دینے اور انڈر آبزرویشن رکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

مزید : کھیل /اہم خبریں