بھینسا اور بمبار

بھینسا اور بمبار
 بھینسا اور بمبار

  

بل فائٹنگ کے پس منظر میں سانڈ (بیل) معروف ہے اور اس کو خطرناک سمجھا جاتا ھے۔لیکن بھینسا (بفیلو) بھی خطرناکی و خوف نا کی میں کچھ کم نہیں۔ امریکی ، افریقی اور پاکستانی بھینسا عموما سیاہ رنگ کا ہوتا ہے۔ تھائی لینڈ میں بھینسے کو اکھاڑے میں اتارا جاتا ہے۔ فریقین اکھاڑے کے بیچ سفید چادر کی آڑ میں ہوتے ہیں۔ اچانک چادر ہٹا کر دونوں کو سامنے کر دیا جاتا ہے۔ نوک سے نوک تک تقریبا آٹھ فٹ تک لمبے سینگوں والے فریقین سر جھکا کر، سینگ پھنسا کر ، مخالف کوپیچھے دھکیلتے ہیں اور طوفان بپا کرتے ہیں۔ امریکی بھینسا (بائی سن) وحشی شناخت رکھتا ہے۔ گردن پر شیر کی مانند بھاری بال ہوتے ہیں۔ امریکی نیشنل پارکس میں یہ مشتعل بھینسا کئی انسانوں کو زخمی کر چکا ہے۔

سوشل میڈیا کی اثر پذیری کے پیش نظر بھینسے نے بھی فیس بک پر اکاؤنٹ بنا لیا۔ فیس بک انتظامیہ نے کسٹمر مارکیٹ کو وسعت دیتے ہوئے بھینسے کو پیج بنانے کی اجازت دی ہے۔ یہ بھینسا ملحد (ایتھیسٹ) ہے۔ لیکن ہندؤوں کی مقدس گائے کی طرف داری کرتا ہے۔ لکھتا ہے: "ہندوؤں کے پرچم پر ان کی مقدس گائے ذبح کرنے والے۔۔۔ غنڈے۔۔۔"۔ مزید لکھتا ہے: "بھینسا جہالت کے پردے چاک کرنے آیا ہے۔۔۔"۔ بھینسا سوال کرے ،سیکھنا چاہے اور جہالت دور کرنا چاہے، تو علما حاضر ہیں۔ وہ جنھوں نے مستشرقین کے سینکڑوں سوالوں کے دندان شکن جوابات تحریر کئے، ان کے لئے جواب مشکل نہیں۔ لیکن تضحیک، ٹھٹھا ، بد زبانی ، ناشائستگی ، گستاخی اور بے ہودگی کا جواب ممکن نہیں۔

قرآن میں " یسالونک" کا لفظ کتنے مقام پر بیان ہوا ؟ یعنی"نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تجھ سے یہ لوگ دریافت کرتے ہیں"۔ پھر ہر مقام پر اللہ رب العالمین نے جواب عطا کیا۔اسلام نے سوال و جواب کی حوصلہ افزائی کی ہے، لیکن کٹ حجتی اور کج بحثی کو مناسب نہیں جانا۔ گائے ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی مانند بال کی کھال اتارنا انحطاط بھی ہے اور انہدام بھی ۔

یہ بھینسا خصلت کے عین مطابق مسلمانوں کو سینگوں پر اچھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنکھوں سے شعلے برسا رہا ہے۔ پاؤں سے خاک اڑا رہا ہے۔ بلکہ یہ ہٹ دھرم تو سید الانبیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کو اپنی سینگ کی نوک سے کھرچ رہا ہے۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کی رسالت پر ایمان لائے بغیر نہ میں مسلمان اور نہ پورے عالم اسلام کا کوئی فرد مسلمان۔ اگر بھینسے کے الفاظ نقل کرنا چاہوں تو طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے۔غلاظت کو پڑھنا مشکل ، نقل کرنا مشکل تر، اور چھاپنا۔۔۔۔۔ !

فیس بک انتظامیہ کو رپورٹ کی گئی، کہ بھینسے کو باندھ دیجئے۔ لیکن ان کے پیمانے عجیب ہیں۔ پی ٹی اے اپنے دائرہ کار کا تعین کر رہا ہے۔ پولیس حکام کو شاید اس مجرم کو پکڑنے میں کشش دکھائی نہیں دے رہی۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم یونٹ کے نزدیک شاید یہ جرم نہیں۔ آج توہین رسالت کے قانون پر عمل درآمد جوئے شیر لانے کے مترادف ہوا۔ روزنامہ امت کی خبر کے مطابق "وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو درخواستیں موصول ہونے کے باوجود کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔ قرآن پاک اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے والوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے دوسرے ہفتے سے سوشل میڈیا پر بھینسا نامی اکاؤنٹ دوبارہ فعال ہو چکا ہے"۔ اہل اسلام تو مقدس گائے کے قائل نہیں، اور یہاں بھینسے کو مقدس بنایا جا رہا ہے۔ کمادھینو (مقدس گائے) کا تصور ہندو مذہب میں ہے۔ ہندو دھرم میں "یاما" موت (زیر زمین دنیا) کا خدا ہے اور بھینسا اس کی سواری۔بھینسے کا ہندو مذہب میں مقام ہو گا، اہل اسلام کے نزدیک بھینسا صرف جانور ہے۔

بہروپیوں کے ایک گروہ نے بھینسے کو فکری محاذ پر اہلِ جذبات کی ہولی کھیلنے کے لئے انسانوں کی بستی میں دھکیلا ہے۔ بہروپیوں کے دوسرے گروہ نے زمینی محاذ پر خون کی ہولی کھیلنے کے لئے انسانوں کی بستی میں بمبار دھکیلے ہیں۔ فکری و نظریاتی محاذ پر اھل پاکستان میں انتشار اور اشتعال پیدا کرنا دشمن کا مقصد ہے۔عملی و زمینی محاذ پر اھل پاکستان کا خون بہا کر الزام کٹھ پتلیوں پر دھرنا دشمن کا نصب العین ہے۔دونوں محاذوں پر اس جنگ میں دشمن کامطمع نظر اسلام پسندوں اور حکومتی اداروں کے مابین خلیج حائل کرنا اور دوری پیدا کرنا ہے۔ بھینسا روح کو گھائل کر رہا ہے اور بمبار جسم کو چھلنی کر رہا ہے۔ لیکن ادارے اور عوام ہر دو محاذوں پر سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔

دسمبر 2016 میں حافظ محمد سعید کوئٹہ میں شاہ زین بگٹی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہیں۔ جنوری کے اخیر میں حافظ سعید کو نظر بند کر دیا جاتا ہے۔ 13 فروری کو مال روڈ پر خود کش بمبار دھماکہ کرتا ہے اور 12 سے زائد افراد لقمہ اجل بنتے اور بیسیوں زخمی ہوتے ہیں۔ 16 فروری کو سیہون میں 90 سے زائد افراد بمبار کا نشانہ بنتے ہیں۔اسی روز کوئٹہ میں بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش میں دو اہلکار مارے جاتے ہیں۔ 21 فروری کو چار سدہ کچہری میں 3 خود کش بمبار حملہ آور ہوئے، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے۔جس طرح بھینسا روز بروز زور آزمائی کر کے تخریب کاری پھیلا رہا ہے۔ اس طرح بمبار بھی روز بروز تخریب کاری میں اضافہ کر رہا ہے۔

کشمیر سنگھ کی رحم کی اپیل پر سابق سپہ سالار صدر پرویز مشرف نے 2008ء میں آزاد کر دیا تھا۔ ہندوستان پہنچ کر اس نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی جاسوس تھا۔ کلبھوشن کا معاملہ بھی زیادہ پرانا نہیں۔اخباری اطلاعات کے مطابق یہ ہمسایہ ملک کی خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھتا ہے اور بلوچستان میں سر گرم عمل تھا اور بلوچ علیحدگی پسندوں سے رابطہ میں تھا۔سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیان دیا ہے کہ کلبھوشن کا معاملہ انجام تک پہنچائیں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ اس کو حتمی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

سی پیک کی تکمیل سے کس کی امیدوں پر اوس پڑ رہی ہے ؟ گوادر کے آپریشنل ہونے سے کس کو نقصان ہے؟ بلوچستان میں استحکام کس کے لئے درد سر ہے؟ کراچی میں کاروباری سرگرمیاں کس کے لیے تکلیف دہ ہیں؟ ان سوالات کے جواب واضح ہیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ جماعت الاحرار نے لاہور دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔ حالیہ میڈیا اطلاعات کے مطابق جماعت الاحرار کی ویب سائٹ کا آئی پی (انٹرنیٹ پروٹوکول) ایڈریس بھارتی شہر چنائی سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔

ہم دھرنے سے خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ احتجاج سے خائف ہوجاتے ہیں۔ ہم ڈنڈا بردار گلو بٹ کو لے آتے ہیں۔ عدالتی احتساب سے گھبرا جاتے ہیں۔ لیکن ہم رب العالمین کی عدالت سے نہیں گھبراتے۔ ہم شفاعت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محرومی کے بارے میں خوف زدہ نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کروڑوں مسلمانوں کے لئے سجدہ گاہ ہے۔ زمینی سرحدوں کی حفاظت بھی اداروں کو کرنی ہے اور نظریاتی سرحدوں کی بھی۔ بمبار کو پکڑنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے اور بھینسے کو باندھنا بھی۔

مزید :

کالم -