دعاؤں کا کاروبار

دعاؤں کا کاروبار
 دعاؤں کا کاروبار

  

یہ چند روز پہلے کی بات ہے میَں اپنے دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلا تو یاد آیا کہ کچھ کاغذات کی فوٹو کاپیاں کروانا ہیں، چنانچہ میَں دکان پر رکا اور اپنے کاغذ فوٹو کاپی کے لئے دے دیئے۔ میرے ساتھ ہی ایک نوجوان کھڑا تھا۔ بولا: ’’سر! آپ مجھے میوہسپتال اتار دیں گے؟ میَں حیران ہوا کہ اس نوجوان کو میرے دفتر کے روٹ کا کیسے پتا چلا، مجھے لگا کہ وہ نوجوان کوئی فراڈیا ہے، لیکن اپنی تسلی کے لئے میَں نے اس سے پوچھا : ’’تم مجھے جانتے ہو؟‘‘ کہنے لگا: ’’جی سر: آپ گورنمنٹ دیال سنگھ کالج میں پڑھاتے ہیں۔ میَں آپ کے محلے ہی میں رہتا ہوں۔‘‘

’’تم میوہسپتال کیوں جانا چاہتے ہو؟ ‘‘ میَں نے پوچھا تو وہ بولا: ’’ آج وہاں میرا کلرک کی آسامی کے لئے انٹرویو ہے۔‘‘

قارئین! یہ بات شاید آپ کے لئے حیران کن ہو کہ آج گھر سے نکلتے ہوئے میَں نے دل ہی دل میں ارادہ کیا تھا کہ اپنے پرانے مہربان اور میوہسپتال اوپی ڈی کے ایڈیشنل ایم ایس ڈاکٹر ظہیر الحسن میر کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں اپنی کتاب ’’پہلی پیشی‘‘ پیش کروں گا۔ میر صاحب کشمیری ہیں۔ میَں نے آج سے بارہ تیرہ سال پہلے دیکھا تھا جب وہ ڈی ایم ایس تھے، کلین شیوڈ تھے، گوری چٹی رنگت تھی۔ مغربی لباس پہنتے تھے۔ کبھی کبھار باتوں میں ’’گالیوں کے موتی‘‘ بھی ٹانک دیا کرتے تھے۔ اب فیس بک کے ذریعے پتا چلا کہ ان کی کایا کلپ ہو گئی ہے۔ ان کی زندگی میں ایک روحانی انقلاب آ چکا ہے۔ غریب مریضوں کو دوائیں مفت فراہم کرتے ہیں۔ علی ہجویری فری ڈرگ بینک کے سربراہ ہیں۔ ہر بدھ کو اپنے ڈرگ بینک کے احباب کے ساتھ داتا دربار حاضری دیتے ہیں۔ عربی لباس پہننے لگے ہیں۔ سفید داڑھی اب ان کی پہچان بن چکی ہے، دعاؤں کا کاروبار کرتے ہیں۔ میَں انہیں مل کر دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ انقلاب کیسے آ گیا؟ میَں نے وہیں کھڑے کھڑے اس نوجوان کے سامنے اپنے فون سے ان کا نمبر ملایا۔ جب بتایا کہ میَں حاضر خدمت ہونا چاہتاہوں تو نہایت خوشی کا اظہار کیا۔ میَں نے اس نوجوان کو اپنی بائیک پر بٹھایا اور ہسپتال جا پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب نے گرم جوشی سے میرا استقبال کیا تو وہ نوجوان دل ہی دل میں حیران ہو رہا تھا کہ شاید اس کی سفارش کا سامان ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو میَں نے اپنی آمد کا پس منظر بتایا تو بہت حیران ہوئے۔ کہنے گلے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کے ذریعے آپ کو آج میرے پاس بھیجا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک اہل کار کے ذریعے اس نوجوان کو وہاں بھیج دیا جہاں اس کا انٹرویو تھا۔ چائے پینے سے اس نے انکار کر دیا تھا، کیونکہ وہ لیٹ ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ اب تک وہ تقریباً دو لاکھ مریضوں کو تین کروڑ روپے سے زائد کی دوائیں مفت دے کر بے حساب دعائیں سمیٹ چکے ہیں۔ میرے قارئین میں سے اگر کوئی صاحب دل علی ہجویری فری ڈرگ بینک کی مدد کرنا چاہیں تو حبیب بینک چوک ہال روڈ لاہور کے اکاؤنٹ نمبر 0008137900570703 میں نقد رقم یا چیک جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے فون نمبر 0333-4226233 پر براہ راست رابطہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ میری حمد کا یہ شعر شاید کسی ایسے ہی موقع کے لئے ہے:

خدا کے ساتھ کرو نیکیوں کا کاروبار

خدا ہمیشہ منافع زیادہ دیتا ہے

دعاؤں اور نیکیوں کے کاروبار میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو لوگوں کو حج اور عمرے کی سعادت کے حصول کے لئے حجازِ مقدس بھیجنے میں سہولت کار بنتے ہیں۔ جب تک میَں طواف ٹریولز کے حاجی مقبول احمد اور صفہ ٹریولز کے حاجی احسان اللہ سے نہیں ملا تھا، تب تک یہی سمجھتا تھا کہ یہ سب لوگ دولت کے حصول کے لئے کوشاں ہیں، لیکن انہیں بہت قریب سے دیکھ کر پتا چلا کہ یہ حاجی صاحبان دراصل دعاؤں اور نیکیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ صفہ ٹریولز کا ذکر درمیان میں اس لئے بھی آ گیا کہ چند روز قبل اس کے سی ای او حاجی احسان اللہ صاحب نے لاہور کے مہنگے علاقے گلبرگ میں اپنا نیا دفتر بنایا ہے۔ افتتاحی تقریب میں انہوں نے جہاں حج و عمرے کے کاروبار سے وابستہ اہم افراد کو بلایا، وہاں لیاقت بلوچ صاحب کو بھی دعوت دی۔ لیاقت بلوچ صاحب نے یہاں نہایت شگفتہ اور برجستہ گفتگو کی۔ ایک واقعہ آپ بھی پڑھئے جو انہوں نے سنایا: ’’منصورہ کے سامنے ایک صاحب نے شہد کی دکان بنائی۔ ہم چند دوست ایک جگہ بیٹھ کر بحث کر رہے تھے کہ یہ شہد اصلی ہے یا نقلی؟ وہاں موجود ایک صاحب بولے: ’’ میَں گواہی دیتا ہوں کہ یہ شہد اصلی ہے، ہم بہت حیران ہوئے اور پوچھا: ’’ آپ کیسے گواہی دیتے ہیں۔‘‘ بولے: ’’یہ شہد میرے سامنے اُتارتے ہیں۔‘‘ اب ہماری حیرت اور بھی بڑھ گئی۔ پوچھا: ’’ آپ کے سامنے کون سے جنگل یا ریگستان میں یہ صاحب شہد اتارتے ہیں؟‘‘ کہنے لگے: ’’ جنگل یا ریگستان کا مجھے نہیں پتا، ہر ہفتے ایک گاڑی آتی ہے، یہ میرے سامنے اس گاڑی سے شہد اُتارتے ہیں۔‘‘

لیاقت بلوچ صاحب نے اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی سنایا۔ ایک محفل میں بات چل رہی تھی کہ فلاں صاحب سید ہیں یا نہیں؟ ایک صاحب بولے: ’’ میَں گواہی دیتا ہوں کہ وہ صاحب سید ہیں۔‘‘ پوچھا ’’ کیسے؟‘‘ بولے: ’’ وہ میرے سامنے سید بنے تھے۔‘‘

بلوچ صاحب نے یہ واقعات صفہ ٹریولز کی ترقی اور عروج کے پس منظر میں سنائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صفہ ٹریولز نے میری آنکھوں کے سامنے ترقی کی ہے۔ میَں ان کی دن رات کی محنت اور خدمت کا گواہ ہوں۔ میَں گواہی دیتا ہوں کہ حاجی احسان اللہ صاحب نے حج اور عمرے کے کاروبار کو ہمیشہ ایک سعادت جانا ہے۔ اس شاندار تقریب میں حاجی احسان اللہ کی دعوت پر سابق ایڈیشنل سیکرٹری ارشد بھٹی، ہوپ کے سابق چیئرمین حاجی مقبول احمد، شاہد رفیق، سلمان طاہر، طالب چودھری، محمد احمد، خرم ثقلین، محمد اشفاق انجم، میاں جبار انجم، جاوید چودھری، نور محمد سکھیرا، یعقوب سیفی، حاجی ثناء اللہ، خالد عثمان، مدثر رانا، چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ظفر اقبال، میاں جاوید اقبال، ارشد محمود، شفقت نیازی، امتیاز الرحمن چودھری کے علاوہ بہت سے اہم افراد شریک ہوئے جو دعاؤں اور نیکیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

مزید : کالم