یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں

یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں
یہ کیسا نشہ ہے، میں کس عجب خمار میں ہوں

  

ہر وہ چیز جو کسی انسان میں نشہ پیدا کرتی ہے اور انسان اپنے حواس کھو بیٹھے وہ اسلام میں حرام ہے ۔

پوری دنیا میں منشیات کا استعمال کرنے والوں کی تعداد 230 ملین ہے جن میں ایک کثیر تعداد 12سے 16 سال کے بچوں کی ہے۔ہر سال منشیات کی وجہ سے دو لاکھ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔دور جدید میں نشہ کی بیشمار اقسام ہیں ۔اور اس نشے میں ایک صفائی کرنے والے سے لے کر حکمرانو ں تک ،ایک ریڑی لگانے والے سے لے کر صف اوّل کے تاجر تک، سب ہی لوگ شامل ہیں ۔نشہ ایک لازمی جزو بنتا جا رہا ہے ۔کسی بھی پارٹی میں جائیں وہاں دو چار کش یا دو چار پیگ لگانے کو بڑا پن سمجھا جاتا ہے ۔جو انسان ان چیزوں کا شوق نہیں رکھتا ا سکو نچلے طبقے کا فرد تصوّر کیا جاتا ہے ۔

نشے میں خواتین بھی مردوں سے پیچھے نہیں ہیں آج کل تو خواتین نشے کو بھی اپنی زندگی کا بلند معیار سمجھتی ہیں ۔خیر یہ الگ بحث ہے اس پر بیشمار لوگ لکھ چکے ہیں ۔اور ویسے یہ نشہ میری نظر میں اتنا خطرناک نہیں ہے کیوں کہ یہ تھوڑی دیر بعد اتر جاتا ہے لیکن کچھ نشے ایسے بھی ہیں کہ جو ایک مرتبہ چڑھتے ہیں دوبارہ کبھی نہیں اترتے ۔اور بہت خطرناک بھی ہیں ۔

جو کبھی نہ اترنے والی نشے ہیں ان میں دولت کا نشہ سر فہرست ہے ۔انسان کے پاس جب دولت آتی ہے وہ بھی بنا کوئی مشقت کیے تو وہ نشہ بہت جلدی چڑھ جاتا ہے ۔اور دولت کے نشے میں چورچور ہو جاتا ہے تو ہاتھ ملانا بھی گواراہ نہیں کرتا ۔حقارت کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے .غریبوں کو کیڑے مکوڑے سمجھننے لگتا ہے ۔

پھر ایک نشہ عہدے کا ہے ۔جو کسی انسان کو اس کی اوقات سے بڑ ھ کر ملتا ہے تو وہ بھی اپنے ما تحت عملہ کے لیے فرعون بن جاتا ہے ۔

ایک اور نشہ بھی ہے وہ ہے خوبصورتی کا نشہ ۔اس نشے میں انسان کو اپنے علاوہ سب ہی بدصورت نظر آتے ہیں ۔انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے ۔حالانکہ جس ربّ نے اسکو پیدا کیا ہے اسی ربّ نے باقی انسانوں کو بھی پیدا کیا ہے ۔

یہی نشے انسان کو بدل دیتے ہیں حتٰی کہ اس کے شجرہ نسب کو بھی تبدیل کر دیتے ہیں ۔ یہ نشے جب سر چڑ ھ کر بولنے لگتے ہیں تو اس کو اپنے علاوہ تمام لوگ اپنے غلام نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔اللہ تعالٰی نے تمام نشوں کو اسلام میں حرام قرار دیا ہیں ۔تا کہ زندگی خوبصورت گزرے مگر کیا کریں ہمیں اکڑی ہوئی گردن چاہیے جو کہ چوبیس گھنٹے میں ایک سکینڈ بھی نہ جھکے ۔ یہ تو ہو گئیں نشے کی اقسام ذرا نشے کے کچھ سٹائل بھی ملا حظہ فرمائیں ۔

رشوت کو چائے پانی کا نام دے کر سر عام لی جاتی ہے ۔

گٹروں کے پانی سے سبزیاں اگا کر ہمیں کھلائی جاتی ہیں۔

مردار جانوروں سے گھی بنا کے ہمارے کھانوں کولذیذ بنایا جاتا ہے ۔

گھوڑے گدھے کی کڑاہی اور بار بی کیو بنا کر کھلایا جا رہا ہے ۔اور نام بکرے کا دیا جا رہا ہے ۔

شکر ،گڑ اور چینی ملا کر شہد بنایا جا رہا ہے ۔ڈاکٹر گردے نکال کر بیچ رہے ہیں ۔

سرکاری افسران کروڑوں کی کرپشن کر کے با عزت بری ہو رہے ہیں ۔جب کہ ان کے اپنے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کو عوام ترس رہی ہے ۔عوام کے علاج کے لیے ہسپتال ہے نہ دوائیں اور حکمران اپنا علاج دنیا کے مہنگے ہسپتالوں میں کروا رہے ہیں ۔غریب کا اللہ حافظ۔

بھتہ نہ ملنے پر سینکڑوں انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے ۔تین کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے اور آدھی سے زیادہ آبادی کو کھانا میّسر نہیں ہے اور حکمرانوں کے کھانے کی آمدورفت کے لیے ہیلی کاپٹر ہیں ۔اس طرح کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں اور ہماری زندگی میں ارد گرد دیکھی بھی جا سکتی ہیں ۔نہ جانے کب یہ نشہ اترے گا ہم اچھی اور خوبصورت زندگی گزار سکیں گے ۔

اللہ تعالی سے دعاہے ایسے نشوں اور ایسا نشہ کرنے والوں سے نجات دلائے ۔آمین

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -