اس کشتی پر دنیا بھر سے ہزاروں لڑکیاں جمع کرکے اُن کا حمل ضائع کیا جاتا ہے کیونکہ۔۔۔

اس کشتی پر دنیا بھر سے ہزاروں لڑکیاں جمع کرکے اُن کا حمل ضائع کیا جاتا ہے ...
اس کشتی پر دنیا بھر سے ہزاروں لڑکیاں جمع کرکے اُن کا حمل ضائع کیا جاتا ہے کیونکہ۔۔۔

  

گوئٹے مالا سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کا اسقاط حمل کروانا غیرقانونی ہے اور خلاف ورزی پر انہیں سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے چنانچہ ایسے ممالک کی خواتین کے لیے نیدرلینڈز کی ایک فلاحی تنظیم”وومن آن ویو“ (Women on Wave) نے ایک منفرد بندوبست کر رکھا ہے۔ اس تنظیم نے ایک بحری جہاز پر طبی عملہ متعین کر رکھا ہے جو ان ممالک میں جاتا ہے اور وہاں کی خواتین کو سوار کرکے اس ملک کی حدود سے باہر عالمی پانیوں میں لے جاتا ہے جہاں ان کے اسقاط حمل کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں ان کے ملک واپس چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس جہاز پر 10ہفتے تک کی حاملہ خواتین کے حمل ساقط کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں جنسی صحت اور حمل روکنے کے متعلق ہدایات بھی دی جاتی ہیں۔

’میں نے ائیرہوسٹس کی نوکری چھوڑ دی کیونکہ جب اپنا یونیفارم پہنتی تھی تو دوران پرواز۔۔۔‘ خاتون ائیرہوسٹس نے نوکری چھوڑنے کی سب سے حیران کن وجہ بتادی، آج تک کسی ائیرہوسٹس نے اس وجہ سے نوکری نہ چھوڑی ہوگی

روسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں یہ جہاز گوئٹے مالا کی خواتین کو اپنی خدمات فراہم کرنے اس کی سمندری حدود میں داخل ہوا جہاں گوئٹے مالا کی فوج نے اسے حراست میں لے لیا۔ گوئٹے مالا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ”جہاز اور اس کے عملے نے گوئٹے مالا کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔“ گوئٹے مالا میں بھی خواتین کے اسقاط حمل کروانے پر پابندی عائد ہے چنانچہ وہاں کی خواتین کی طرف سے اس فلاحی تنظیم کو سینکڑوں کی تعداد میں فون کالز موصول ہو رہی تھیں اور مدد کے لیے بلایا جا رہا تھا۔ حراست میں لیے جانے کے وقت جہاز میں عملے کے چار ارکان سوار تھے جنہیں جہازسے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔ وومن آن ویو تنظیم کا کہنا ہے کہ ”ہمارے ورکرز کے پاس گوئٹے مالا کی حدود میں داخل ہونے کے لیے ضروری تمام کاغذات موجود تھے لہٰذا ہم گوئٹے مالا کے حکام کے اس اقدام کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کریں گے اور حکام عدالت کا فیصلہ آنے سے قبل اس جہاز کو ملکی حدود سے بے دخل نہیں کر سکتے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -