بھارتی جارحیت کا جواب لازم

بھارتی جارحیت کا جواب لازم

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی ہے اس کا جواب دیا جائے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا کو موقع پر لے جایا جائے گا تاکہ وہ بچشم خود دیکھ کر بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دیں۔اُن کا کہنا تھا کہ عالمی رہنماؤں سے رابطے کئے جائیں گے۔دُنیا کو کئی ہفتے پہلے بتا چکے تھے کہ مودی سرکار سیاست کی ضروریات اور الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی نہ کوئی مس ایڈونچر کرنے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے،بھارت میں الیکشن سے پتہ چل رہا ہے کہ بی جے پی کو سیاسی بقا کے لئے کوئی نہ کوئی حرکت کرنا ہے، پاکستان ائر فورس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے، ہماری فضائیہ کے طیاروں کی بروقت مداخلت سے بھارتی طیاروں کو پسپا ہونا پڑا،کچھ جہازوں نے پاکستان کی فضائی حدود کے اندرگھس کر فائر کیا، 2بجکر55منٹ پر وہ داخل ہوئے اور جب ہماری فضائیہ نے للکارا تو 58منٹ پر وہ واپس چلے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان وہ کرے گا جو اُسے کرنا چاہئے۔ وہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر خزانہ اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

بھارت نے جارحیت کا آغاز کیا ہے۔ اگرچہ تین منٹ کے اندر اس کے طیارے واپس چلے گئے،لیکن بھارتی میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے ہیں، اِس لئے اب وقت ہے کہ اس کا ویسا جواب دیا جائے۔ جیسا وعدہ کیا گیا تھا اگرچہ جواب کے لئے وقت اور مقام کا انتخاب پاکستان کو کرنا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے چند روز پہلے کہا تھا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو پاکستان سوچے بغیر جواب دے گا،اِس لئے قوم اب عمل کی منتظر ہے۔تاہم پاکستان کے دوست ممالک اور عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت دونوں کشیدگی کم کریں،لیکن بھارتی طیاروں کی اشتعال انگیزی کے بعد تو کشیدگی کم ہونے کی بجائے بڑھنے کا امکان ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت جلد سے جلد مذاکرات کر کے کشیدگی بڑھنے سے روکیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت ادا کی۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ کو فون کر کے پلوامہ واقعہ کے بعد خطے کی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔انہوں نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے اقدامات سے بھی اپنے چینی ہم منصب کو بریف کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے متعلق پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہم اِس معاملے پر کسی بھی ملک سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔چینی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ، جرمنی، جاپان اور پولینڈ کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کئے اور اُنہیں خطے کے حالات سے آگاہ کیا۔ یہ رابطے منگل کو بھارتی طیاروں کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہوئے تھے۔وزیر خارجہ دُنیا کے جن ممالک سے بھی رابطے کر رہے ہیں یا بیرونی ممالک کے جو اعلیٰ سفارت کار پاکستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں،اُن میں کم و بیش یہ بات مشترک ہے کہ دونوں ملک باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ امریکہ سمیت کئی طاقتیں اِس مقصد کے لئے کام کر رہی ہیں اب پاکستان کے انتہائی قریبی دوست ملک چین نے بھی،جس کے ساتھ پاکستان کی دوستی ’’شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے بلند‘‘ ہے۔ یہی مشورہ دیا ہے کہ کشیدگی کم کی جائے۔چینی وزیر خارجہ نے ایسا مشورہ بھارت کو بھی دیا ہے۔ یہ ایسی سنہری بات ہے جس پر نہ صرف دونوں ممالک کو غور کرنا چاہئے، بلکہ عملاً ایسے اقدامات بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ کشیدگی کم ہو اور کم ہوتی ہوئی نظر بھی آئے،لیکن یہاں تو لگتا ہے کہ چنگاری کہیں بھڑک کر شعلہ نہ بن جائے۔

قومی اسمبلی کے رکن رمیش کمار چند روز قبل بھارت کے دورے پر گئے تھے،جہاں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی، واپسی پر انہوں نے اپنی ان ملاقاتوں کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا اور یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ چند روز تک نتائج نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔اگر واقعی ایسا ہوتا ہے اور قومی اسمبلی کے ایک رکن کی صرف ایک ملاقات سے ہی کشیدگی کا درجہ کم ہوتا ہے تو یہ لائق تحسین بات ہو گی اور رمیش کمار کی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا،جنہوں نے انتہائی کشیدہ حالات میں نہ صرف ملاقات کی،بلکہ بھارتی رہنماؤں کو اپنا موقف سمجھانے میں بھی کامیاب رہے،حالانکہ اُن کے پاس کوئی سرکاری منصب بھی نہیں،اُن کے اِس دورے کو اگر ’’ٹریک ٹو ڈپلومیسی‘‘ قرار دیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ جب تک براہ راست مذاکرات کی نوبت نہیں آ جاتی اُس وقت تک یہ بھی غنیمت ہے اور اس سے اچھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی تھیں،لیکن اچھی امیدوں نے اُس وقت دم توڑ دیا جب بھارتی طیاروں نے پاکستان میں گھس آنے میں پہل کی۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو بھارت میں کشمیریوں کے خلاف غم و غصے کی لہر تو اگرچہ بلند ہے اور یورے ملک میں کشمیریوں کے خلاف دہشت کی فضا پائی جاتی ہے، لیکن اب بھارت میں یہ بات کھل کر کہی جا رہی ہے کہ حملے کا ڈرامہ مودی نے خود رچایا اور یہ الزام لگانے والے کوئی غیر نہیں، اُن کے ہمدرد ہیں،جن میں بال ٹھاکرے کے بیٹے راج ٹھاکرے بھی شامل ہیں۔اگر مودی پر یہ الزام تسلسل کے ساتھ لگ رہا ہے تو پھر کم از کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ سارے معاملے کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے، پاکستان نے تو یہ موقف پہلے دن سے اختیار کر رکھا ہے کہ بھارت الزام تراشی کی بجائے ایسے ثبوت دے جن کے ذریعے یہ معلوم ہو سکے کہ حملہ آور کون تھے اور اس کی منصوبہ بندی کہاں ہوئی،اس جانب تو بھارت نے سرے سے کوئی پیش رفت ہی نہیں کی، اب اُن پر براہِ راست الزام لگا ہے تو بھی ان کی جانب سے وضاحت ضروری ہے، لیکن وہ انتخابی ڈراموں میں مصروف ہیں اور الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان کے میڈیا مینجروں کی طرف سے خاکروبوں کے پاؤں دھونے کی تصویریں جاری کی جا رہی ہیں۔

کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر اگرچہ بدستور کشیدگی ہے اور یہ کشیدگی بظاہر الیکشن تک تو ضرور رہے گی،لیکن انٹرا کشمیر سفر اور تجارت کی سہولتوں کی بحالی سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی قیادت کو جو بخار چڑھا تھا اس کا درجہ حرارت کچھ کم ہونا شروع ہوا ہے۔سری نگر ، مظفر آباد اور راولا کوٹ پونچھ روٹ پر بس سروس بحال ہو گئی ہے اور لائن آف کنٹرول کے دونوں کراسنگ پوائنٹس سے مسافر آر پار آ جا رہے ہیں۔ عام طور پر کشیدگی کے ایام میں سب سے پہلی زد اِسی سروس پر پڑتی ہے، اِس بار بھی حسبِ روایت پلوامہ حملے کے بعد یہ سروس بند کر دی گئی تھی اور مسافر کشمیر کے دونوں حصوں میں رُک گئے تھے۔ مسافر سروس کی بحالی کے بعد مال بردار ٹرک بھی پہنچنا شروع ہو گئے، کشیدگی کے باوجود مسافروں اور مال کی معمول کے مطابق آمدورفت بہرحال مثبت اشارہ ہے لیکن نہیں کہا جاسکتا کہ تازہ بھارتی جارحیت کے بعد یہ بسیں اور ٹرک کتنے دن چلتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے کا جو مشورہ دیا ہے اس میں ایسے اقدامات بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں،لیکن بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود میں گھس آنے کا جو انتہائی اقدام کیا ہے اس کا جواب لازم اور پاکستان پر فرض ہے تاکہ بھارت کو معلوم ہو سکے کہ حماقتوں کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -