پاکستان کی ایٹمی قوت امن کی علامت

پاکستان کی ایٹمی قوت امن کی علامت
پاکستان کی ایٹمی قوت امن کی علامت

  

پاکستان کے جوہری قوت بننے کے ساتھ ہی بھارت کو یہ ادراک ہوگیا کہ اب وہ پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان سے روایتی دشمنی کی بنا پر وہ بعض اوقات لایعنی اور بے معنی بڑھکیں مارتا ہے، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور اس کی تازہ ترین گیڈر بھبھکی کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ کرے گا، جس کی بنیاد واقعہ پلوامہ ہے، جس کا بے بنیاد الزام اس نے بغیر کسی تحقیق کے حسبِ معمول پاکستان دشمنی میں پاکستان پر لگایا، جبکہ اس واقعہ کا محرک وہ کشمیری نوجوان تھا جس پر بھارتی افواج نے ظلم و تشدد کی انتہا کر رکھی تھی اور پلوامہ کا واقعہ اس معصوم کے انتقامی جذبات کا اظہار تھا، مگر کیا ہوا کہ بھارتی حکومت، وزراء اور سیاست دان،یہاں تک کہ بھارتی میڈیا نے بھی پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور جب حقیقتِ حال واضح ہو گئی تو مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ، جن میں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت بھارتی دانشوروں، اعلیٰ عدالتی ججوں،بھارتی فنکاروں نے بھارت کے جھوٹ پر مبنی مؤقف کہ پلوامہ واقعہ میں پاکستان ملوث ہے کے خلاف بولنا شروع کیا،بلکہ انہوں نے واشگاف الفاظ میں آواز اُٹھائی کہ پاکستان سے جنگ کرنا بھارت کے لئے ممکن نہیں کہ وہ بھی ایٹمی و میزائل قوت ہے اور پاکستان کا جوہری پروگرام بھارت سے بہتر ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی افواج کے جرنیلوں نے بھی اس کا برملا اعتراف کیا کہ پاکستانی افواج،ایئر فورس اور نیوی بھارت سے بہتر ہے اور پاکستان سے جنگ کرنا دانشمندی نہیں ہو گی، بلکہ اس سے بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

درحقیقت بات یہ ہے کہ بھارت ابھی تک قیام پاکستان کو ہضم نہیں کر سکا اور ہمیشہ تنگ نظری اور تعصب کی آگ میں جلتے رہنا اس کے شعار میں شامل ہے۔تاریخ کے واقعات گواہ ہیں کہ ایسی آگ میں جلنے والی قومیں ایک دن خاکستر ہو کر ہی رہتی ہیں اور بھارت کا انجام بھی اس سے الگ نہیں ہو گا۔

بھارت کی دھمکیوں کے جواب میں پاکستانی عوام ، وزیراعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ہمارے جملہ سیاست دانوں نے سیاسی اختلافات سے ہٹ کر جس طرح بھارتی دھمکیوں کا جواب دیا ہے، وہ لائق ستائش ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیا جو بھارت کے متعصب سیاست دانوں، حکمرانوں اور میڈیا کے لئے شرمناک اور قابلِ تقلید ہے۔

امریکہ سمیت عالمی سطح پر جس طرح پاکستان کی امن کی پیشکش کو سراہا گیا ہے، اس سے بھارت کا یہ نام نہاد مؤقف بھی زمین بوس ہوگیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی وزیر خارجہ نے جس طرح بھارت کے دورے کے دوران بھارتی رہنماؤں اور میڈیا کو پاکستان کے موقف کے بارے میں مثبت اور خاطر خواہ انداز میں بتایا اس سے ان کے اس نام نہاد موقف کی نہ صرف بیخ کنی ہوئی،بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی۔

مودی حکومت جو پاکستان اور مسلمانوں کی مخالفت کی بنا پر برسر اقتدار آئی ہے، اب آئندہ چند ماہ میں ہونے والے بھارت کے انتخابات میں ایک بار پھر اسی بنیاد پر انتخاب لڑنا چاہتی ہے، مگر اب وہ اپنے اس مذموم مقصد میں کامیاب نہیں ہو گی کہ مودی حکومت بھارتی عوام کو اپنے دور اقتدار میں کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکی اور اس کے تمام وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

یہ بھارتی حکام کی دانشمند ی ہو گی کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنے جنگی جنون سے ہٹ کر باہمی امن کے لئے پاکستان سے مذاکرات کرے کہ یہ اب بھارت کے بس کی بات نہیں رہی کہ وہ پاکستان سے جنگ کر سکے،پاکستان کے پاس اب بھارت سے کہیں بہتر جوہری اور میزائل طاقت موجود ہے، جس کا سہرا معروف ایٹمی سیاست دان عبدالقدیر خان کے سر ہے،جو بلاشبہ قومی ہیرو ہیں اور انہوں نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔

اب پاکستان کو جنگ کی دھمکی نہیں دی جا سکتی کہ بھارت کی کسی ایسی کوشش پر پاکستان بھارت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے، نہ تو بھارت اب مکارانہ سازش سے پاکستان کو دو لخت کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ خطے میں اکیلی ایٹمی طاقت ہے۔

اب بھارتی حکام کو عقل کے ناخن لینا ہوں گے اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت پاکستان سے کشمیر سمیت ہر مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنا ہو گا کہ جنگ کی صورت میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

بھارت کے جنگی جنون کے برعکس پاکستان نے ایٹمی قوت حاصل کر کے خطے کو جنگ و جدل سے محفوظ کر دیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کی جوہری قوت امن کی علامت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -