6سال سے حبس بے جا رکھنے پر ڈی سی اور اے سی کے وارنٹ گرفتاری

6سال سے حبس بے جا رکھنے پر ڈی سی اور اے سی کے وارنٹ گرفتاری

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس محمد ایوب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عدالتی احکامات کے باوجود 6 سال سے قید ایک شخص کی حبس بے جا کی درخواست پر جواب داخل نہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر اور اسٹنٹ کمشنر صدہ کرم کے وارنٹ جاری کر دیئے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے جاوید خان کی وساطت سے دائر اول گل نامی درخواست گزار کی رٹ کی سماعت کی دوران سماعت اس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کے موکل کے بھائی جنت گل کو 2013 میں خواتین کے گھریلو ناچاقی کی شکایت پر اس وقت کے اے پی اے سنٹرل کرم صدہ نے حراست میں لیا اور گزشتہ 6 سالوں سے وہ ایک خاتون کی شکایت پر حوالات میں بند ہیں انہون نے متعددبار اپنی رہائی کے لئے درخواست دی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ خاتون نے اس کے خلاف اے پی اے کرم کو درخواست دی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے مذکورہ خاتون ابھی تک مختلف ملکوں کے پاس رکھی جا رہی ہے اور اسے درلاامان بھی نہیں بھیجا جا رہا اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ درخواست گزار نے کوئی جرم ہی نہیں کیا نہ انکے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے متعلقہ اے سی اور ڈپٹی کمشنر کو متعدد بار ہدایت کی گئی کہ وہ اس کیس میں جواب جمع کرے تاہم ابھی تک جواب جمع نہیں کیا گیا حالانکہ 7 فروری کو دونوں افسران کی تنخواہ بھی قرق کی جا چکی ہے عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد دونوں افسران کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -