سول اور ملٹری کلچر؟

سول اور ملٹری کلچر؟
سول اور ملٹری کلچر؟

  

سول ہو یا ملٹری، ہر ادارہ ایک تنظیم کے تحت کام کرتا ہے۔ جمہوری دور سے پہلے شاہی ادوار میں سول اور ملٹری شعبے ایک ہی سربراہ کے ماتحت ہوتے تھے۔

وہ فوج کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا تھا، سب سے بڑی عدالت کا چیف جسٹس بھی اور ’’پارلیمنٹ‘‘ کے دونوں ایوانوں کا کنٹرولر بھی۔ دنیا بھر کے ممالک میں صدیوں تک یہی دستور رائج رہا۔ ایسے حکمران بھی تاریخ کا حصہ ہیں جو اپنی عدل گستری، رعایا کی دیکھ بھال اور دشمنوں کی سرکوبی میں اپنی مثال آپ تھے۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی ہی رعایا پر جور و ستم کے پہاڑ توڑے، عدل و انصاف کا مفہوم الٹ دیا اور من مانیوں کی انتہا کر دی۔

جب اس کیفیت نے طول پکڑا اور سرکشی اور بغاوت کا دور دورہ ہونے لگا تو پبلک نے ایک نئی طرز حکمرانی ایجاد کرنے کی ٹھانی۔ جمہوریت کی تاریخ بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن یہ بتانا مقصود ہے کہ نئے طرزِ حکمرانی میں جو حکمران (بادشاہ) پہلے مطلق العنان ہوتا تھا، اسے رعایا کا خادم بننے کا نوٹس دے دیا گیا۔ اس کو کہا گیا کہ وہ اپنی بادشاہی پر ضرور قائم رہے۔ شاہی محلات پر قبضہ بھی کئے رکھے، شاہی رسومات کا انچارج بھی رہے لیکن اس کا اختیار عوام کے ہاتھ میں ہو گا۔

حکومت کرنے کے لئے عوام میں سے ایک مقبول اور ہر دلعزیز شخصیت کو چن لیا گیا، لیکن بادشاہوں کے علی الرغم اس کی حاکمیت کی ایک مدت مقرر کر دی گئی۔ مطلق العنان بادشاہی سے جمہوریت تک کا یہ سفر دو تین صدیوں میں اتنا پختہ ہو گیا کہ اب دنیا میں اسی طرز حکومت کا طوطی بول رہا ہے۔ برطانیہ، جاپان، تھائی لینڈ، سویڈن اور چند اور ممالک میں بادشاہی بھی ہے اور جمہوریت بھی۔ لیکن بادشاہوں کی بے بسی کی حد وہی ہے جو شاہی ادوار میں عوام الناس کی ہوتی تھی۔ یہ کایا پلٹ حیران کن تھی۔

انسان نے اپنی فطرت کے مطابق ان جمہوری زنجیروں کو توڑ کر گلے میں طوقِ شاہی اور سر پر تاجِ خسروی سجانے کے طریقے ایجاد کر لئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض ممالک میں جمہوریت کا نام تو چلتا ہے لیکن خاندانی وراثت کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ گویا انسان نے ابھی تک حاکم و محکوم کے اس فرق کا شعور نہیں پایا جو جمہوریت کا اصل تقاضا تھا۔۔۔ اقبال نے اسی صورتِ حال کی تصویر کشی اس شعر میں کی ہے:

ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہر یاری ہے

غضب یہ ہے کہ انساں، نوعِ انساں کا شکاری ہے

دنیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں۔ آج جو اقوام ماڈرن اور ترقی یافتہ کہلاتی ہیں، ان میں نہ تو آدمی، کسی شہریار کا صیدِ زبوں ہے اور نہ کسی دوسرے انساں کا شکاری ہے۔ حتی المقدور مساوات اور انصاف و عدل قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

البتہ یہ بات الگ ہے کہ عدل و انصاف کے معانی کا سکیل کیا ہے۔ ہر ترقی یافتہ اور طاقتور ملک اپنے ملک کو عدل و انصاف کا پیامبر سمجھتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں جمہوری طرز حکمرانی کی کثرت دیکھنے کوملتی ہے، مشرقِ وسطی میں بادشاہت کا بول بالا ہے اور مشرق (جنوبی ایشیاء ، مشرقِ بعید اور مشرق قریب) میں ایک کھچڑی سی پکی ہوئی ہے۔ جاپان میں شاہی جمہوریت ہے، چین میں جمہوری آمریت ہے اور برصغیر کے ممالک میں وراثتی جمہوریت کا دور دورہ ہے۔

یہ خطہ کوشش کر رہا ہے کہ وراثتی جمہوریت کی زنجیروں کو توڑے لیکن انسانی عظمت اور خود داری کی جو جمہوری آگ امریکہ اور یورپی معاشروں میں بھڑک رہی ہے وہ مشرق میں نظر نہیں آتی۔ ہماری آنکھوں کو چونکہ مغربی ترقی کی چکا چوند خیرہ کر رہی ہے اس لئے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی مشرقی فطرت کے حصار کو توڑیں اور اسی حصار میں محصور ہو جائیں جس کا ذکر شاعرِ مشرق نے اس شعر میں کیا تھا:

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو

ملک و دولت ہے فقط حفظِ حرم کا اک ثمر

یہ بات اور ہے کہ ’’حصارِ دیں‘‘ کا جو مفہوم ہم پاکستانیوں نے اقبال کے اس شعر سے نکالا ہے وہ اس مفہوم سے مختلف تھا جو علامہ کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا۔ مغرب نے اپنی کلیسائی تہذیب کی کس طرح پاسداری کی اور اس کے طفیل ’’ملک و دولت‘‘ کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے، یہ ایک دلسوز موضوع ہے جس پر بحث کرنے کی کوشش کروں گا تو قدامت پرستی اور کہن فکری کا الزام اپنے سر لے لوں گا۔سطور بالا میں، جو کچھ عرض کیا گیا ہے، قارئین کی اکثریت اسے بے وقت کی راگنی سمجھے گی۔

۔۔۔ میں سول اور ملٹری اداروں کی بات کر رہا تھا۔ اور قارئین کو بتانا چاہتا تھا کہ یہ دو الگ الگ کلچر ہیں۔ سول انتظامی تنظیم میں جو ادارے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کہلاتے ہیں، وہی ادارے اپنے سکیل اور حجم کے فرق کے ساتھ فوج میں بھی موجود ہیں۔

فوج میں بھی عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ ہے۔ البتہ ان کے نام مختلف ہیں، ملٹری کلچر اور سول کلچر چونکہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لئے ان کی تنظیم و ترتیب بھی مختلف ہے۔

فوجی دنیا ایک الگ دنیا ہے اور اسی سبب سے فوجیوں کی دنیا کو شہر نہیں بلکہ چھاؤنی، صدر یا کنٹونمنٹ کہا جاتا ہے۔ چھاؤنیاں ، سول آبادیوں سے باہر اور دور کیوں بنائی جاتی ہیں،فوجیوں کا پہناوا، قدبت، وضع قطع اور چال ڈھال اپنے سویلین بھائیوں سے کیوں مختلف ہوتی ہے، چھاؤنیوں میں بازار کی جگہ ’’بازاریاں‘‘ کیوں پائی جاتی ہیں، ان کے سکول، سٹیڈیم اور کالج الگ کیوں ہوتے ہیں، وردی پوشوں کو وردی پہن کر خوشبو لگانے، سگریٹ نوشی، جگہ جگہ اور فٹ پاتھوں پر تھوکنے کی ممانعت کیوں ہے، سینئر جونیئر کا خیال اور احترام کرنے کے لئے فوجی سلیوٹ کا کردار کیا ہے، آفیسرز ، جے سی اوز اور جوانوں کے آفیسرز میس اور لنگر الگ الگ کیوں ہوتے ہیں، فوجی یونٹوں اور فارمیشنوں میں سارا سال وقفے وقفے سے انفرادی اور اجتماعی ٹریننگ سائیکل کیوں چلائے جاتے ہیں،ہر فوجی کے لئے سپورٹس میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے اور فوجیوں کے لئے ایک الگ عدالتی قسم کے درجنوں سوال ایسے ہیں جو ملٹری اور سول کلچر میں وجہِ امتیاز بنتے ہیں۔ لیکن ہم یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی دونوں کلچرز کی روایات کی نزاکتوں کا ادراک نہیں کرتے۔

نجانے دونوں ’’دنیائیں‘‘ ایک دوسرے سے خائف اور کھنچی کھنچی کیوں رہتی ہیں (یا آج کے تناظر میں رہتی تھیں) ہمیں ان کا جواب ڈھونڈنا ہوگا۔ چونکہ دونوں (سول اور ملٹری) دنیائیں الگ ہیں اس لئے ان کے کلچربھی الگ ہیں۔ لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اس امتیاز کو غلط معانی پہناتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا اگلے روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے پلواما حملے پر ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس کی۔

جب سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا تو ان سے ایک ایسا سوال بھی پوچھا گیا جس کا تعلق’’پلواما حملے‘‘ سے نہیں تھا اور وہ سوال یہ تھا: ’’پاکستان آرمی کے کئی سینئر افسروں پر جو مقدمات چل رہے ہیں، ان میں کہاں تک صداقت ہے؟‘‘

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ دو سینئر افسروں کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے جب مکمل ہو جائے گی اور شواہد کی تصدیق ہو جائے گی تو ان کا کورٹ مارشل ہو گا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) درانی کے خلاف بھی انکوائری چل رہی ہے۔ان کی پنشن ختم کر دی گئی ہے، دیگر مراعات جو ان کو حاصل تھیں، وہ واپس لے لی گئی ہیں اور ان کے خلاف بھی فیصلے کا انتظار ہے۔

لیکن شام 4بجے جونہی یہ کانفرنس ختم ہوئی، دوستوں کی طرف سے مجھے سوال آنے شروع ہو گئے کہ وہ سینئر آفیسرز کون کون سے ہیں اور ان کے خلاف کس جرم کی انکوائری ہو رہی ہے۔۔۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں نے بھی انکوائری کا تو سنا ہے لیکن تفصیلات کا علم نہیں۔ جب تحقیق مکمل ہو جائے گی تو یہ سب کچھ میڈیا پر آ جائے گا۔

انتظار کرنے کی ’’کوشش‘‘ کیجئے لیکن دوستوں نے اصرار شروع کر دیا۔ اب تو یہ تفصیلات سوشل میڈیا پر عام ہو چکی ہیں لیکن پھر بھی بعض احباب کو شک ہے کہ معاملہ کچھ زیادہ ہی گڑبڑ ہے اور وہ اب بھی یہ پوچھ رہے ہیں کہ ان مقدمات (Cases) کی تفصیل کیا ہے۔

سو ان کے لئے مختصر عرض ہے کہ ان میں سے ایک آفیسر کا نام لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اعوان ہے۔ ان کا تعلق چکوال سے ہے۔ باپ میجر تھا، بڑا بھائی بھی فوج سے کرنل کے رینک میں ریٹائر ہوا۔ ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی۔ پی ایم اے سے کمیشن لینے کے بعد 9ایف ایف جوائن کی،PMA اور سٹاف کالج میں انسٹرکٹر رہے، دو انفنٹری ڈویژن کمانڈ کئے، ڈی جی ملٹری آپریشنر رہے، پاکستان آرمی کے ایڈجوٹنٹ جنرل رہے اور پھر بہاولپور کور کی کمانڈ کی۔۔۔ مئی 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ راولپنڈی میں رہ رہے تھے کہ اکتوبر 2018ء میں ISI کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ نے گرفتار کر لیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک دشمن انٹیلی جنس ایجنسی کو حساس اور اہم خفیہ معلومات فراہم کیں۔یہ معلومات ان کو تب حاصل ہوئی تھیں جب وہ DG ملٹری آپریشنز تھے۔

دوسرے سینئر آفیسر کا نام بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان علی حیدر ہے۔ ان کا تعلق خان پور سے ہے۔ ان پر بھی دشمن کو خفیہ حساس معلومات پہنچانے کا الزام ہے۔ وہ 2014ء میں فوج سے ریٹائر ہوئے، کئی حساس اور اہم ترین شعبوں میں تعینات رہے، آسٹریا اور جرمنی میں بطور ملٹری اتاشی تعینات رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد میں رہ رہے تھے۔ ان کو اکتوبر 2018ء میں ’’اغوا‘‘ کیا گیا تھا (اور جن حالات میں اغوا کیا گیا،اگر نہ کئے جاتا تو پکڑنا آسان نہ تھا)

برٹش دور میں جو چھاؤنیاں (آج کے پاکستان میں) بنائی گئی تھیں، وہ شہروں سے دور تھیں۔ اس موضوع پر کالم کے آغاز میں تبصرہ کیا جا چکا ہے۔ لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔۔۔ آج شہر اور چھاؤنیاں گویا ایک دوسرے میں ضم ہو چکی ہیں۔ اور وہ بفر جو ان کے درمیان مقصود تھا، وہ ختم ہو چکا ہے۔ سول ملٹری کلچر کے اس ادغام سے ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ فوجیوں کو سویلین معاشرتی اقدار سے الگ کرنا ممکن نہیں رہا۔

اس کے علاوہ اور بہت سے عوامل ایسے ہیں جو عصرِ حاضر کی پیداوار ہیں اور اور ان کی موجودگی نے بھی سول اور ملٹری کلچر کی تفریق تقریباً ختم کر دی ہے، فاصلے مٹ گئے ہیں، مواصلاتی آسانیاں ناقابلِ یقین حد تک پھیل چکی ہیں۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کس شخص نے کس وقت پٹڑی سے اتر جانا ہے۔ بظاہر ان دونوں افسروں کے خلاف جو انکوائری ہو رہی ہے اس کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی لیکن پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر کی افواج اور سویلین معاشروں میں ایک عرصے سے یہ انہونیاں ہو رہی ہیں۔

اگست 1945ء کو جب امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملہ کیا تھا تو یہ ٹیکنالوجی صرف امریکہ کے پاس تھی۔ لیکن جب صرف 4سال بعد روس نے بھی جوہری تجربہ کر لیا تو امریکیوں کو فکر لاحق ہوئی کہ وہ کون ہے جس نے ایٹمی راز چرا کر ماسکو بھیجے۔

تحقیقات پر معلوم ہوا کہ جولیس روزن برگ اور اس کی اہلیہ ایتھل نے یہ ’’کارنامہ‘‘ انجام دیا ہے۔ دونوں امریکی سائنس دان تھے اور امریکی بم کی ڈویلپمنٹ میں شریک تھے۔ ان پر مارچ 1951ء میں مقدمہ چلایا گیا اور جرم ثابت ہونے پر میاں بیوی کو سزائے موت دی گئی۔

خود پاکستان میں جوہری بم کے بانی ڈاکٹر قدیر خان کا کیس تو ابھی کل کی بات ہے۔

ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی راز منتقل کرنے کی کوشش کی بناء پر ان کو پکڑ لیا گیا تھا لیکن اس وقت کے صدر، جنرل مشرف نے ان کو معاف کر دیا تھا۔ اب بھی پاکستان کا ایک کثیر طبقہ ء آبادی ان کو ہیرو سمجھتا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ لیکن دوسری طرف بھی شک کی گنجائش بہت کم ہے!

مزید :

رائے -کالم -