شہدا پیکج نہ دینے پر سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری سیفران طلب

شہدا پیکج نہ دینے پر سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری سیفران طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے وادی تیراہ میں مبینہ طور پر فورسز کی بمباری سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو عدالتی احکامات کے باوجود شہدا پیکج نہ دینے پر سیکرٹری دفاع، سیکرٹری سیفران اور سیکرٹری فنانس پرتوہین عدالت کے تحت فرد جرم عائد کرنے کیلئے طلب کرلیا کیس کی سماعت پشاورہائیکورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مسرت ہلالی نے کی درخواست گزار ولی خان نے موقف اختیار کیاہے کہ وادی تیراہ میں 2014 میں جیٹ طیاروں کی مبینہ بمباری سے انکے خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے جس میں تین بھائی اور دو بہنیں والدہ سمیت جاں بحق ہوئی تھی جبکہ درخواسست گزار ولی خان کا دماغی توازن بھی بگڑچکاہے لیکن عدالتی احکامات کے باجود ابھی تک متاثرین کو وفاقی اور صوبائی حکومت نے شہدا پیکج نہیں دیا ہے جس پر عدالت نے وہاں پر موجود سرکاری وکلا سے استفسار کیا کہ ابھی تک متاثرہ خاندان کو معاوضہ کیوں نہیں دیا گیا ہے ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو دہشتگردی، فسادات، یا دیگر حملوں میں شہید ہونے والے کیلئے معاوضہ دینے کوکہا ہے قبائلی اضلاع یا خیبر پختونخوا میں شہداء کو معاوضہ خیبر پختونخوا حکومت ادا کرے گی جس کے جواب میں وہاں پر موجود ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کو وفاق سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا ہے تو ہمیں دکھا دے جس پر فاضل بینچ نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے سیکرٹری فنانس،سیکرٹری ڈیفنس اور سیکرٹری سیفران کو فردجرم عائد کرنے کیلئے طلب کرلیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -