پاکستان کو سنبھالا دینے کیلئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ، فاطمہ بھٹو

پاکستان کو سنبھالا دینے کیلئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ، فاطمہ بھٹو

  

کراچی (آئی این پی ) سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ میں نے چھوٹی عمر سے ہی قتل و غارت گری کے ماحول میں ہوش سنبھالا ، اس کا میری زندگی پر بہت گہرا اثر ہے، پاکستان کو سنبھالا دینے کیلئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ، زندگی میں قدم قدم پر سیاست ہے۔ ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی بھتیجی فاطمہ بھٹو نے جنہوں نے اپنے والد مرتضی بھٹو کی خواہش کے برخلاف خارجہ امور میں امتحان دینے کے بجائے مصنف بننے کا ارادہ کیا۔ اب لاہور لٹریٹری فیسٹیول کے اختتام پر اپنی نئی کتاب دی رن ویز کی رونمائی کر کے دنیا بھر میں نام پیدا کیا ہے۔ فاطمہ نے اب تک 2 بہترین کتابیں تحریر کی ہیں۔ ایک کا نام ہے بلڈ اینڈ شورڈ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے زندگی سے تجربہ حاصل کیا۔ وہ بہت چھوٹی تھیں جب ان کے والد کو ہمیشہ کیلئے ان سے اور ان کے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو سے جدا کردیا گیا۔ ان کی والدہ شام سے تعلق رکھتی ہیں۔ مرتضی بھٹو ایک نڈر اور بہادر انسان تھے لیکن بہن سے کبھی نہیں بنی۔ فاطمہ بھٹو نے کہا کہ انہوں نے چھوٹی عمر سے ہی قتل و غارت گری کے ماحول میں ہوش سنبھالا جس کا ان کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہے۔ پھر بھی ان لوگوں سے متفق نہیں کہ پاکستان ایک ناکارہ ملک ہے جسے سنبھالا دینے کیلئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ایک زندہ قوم ہے، وہ اپنا اچھا برا سمجھتی ہے اور بقول اقبال کے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی فاطمہ نے جو گھر میں پیار سے فتی کہلاتی ہیں بلا تکلف کہا کہ انہیں ہمیشہ سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ ان کے مطابق زندگی میں قدم قدم پر سیاست ہے، حال ہی میں وہ لندن میں عمران خان کی سابقہ بیوی جما ئما گولڈ اسمتھ کے ساتھ دیکھی گئی تھیں جس سے لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید وہ عمران خان کی پارٹی میں شامل ہوں گی لیکن ابھی تک ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔

فاطمہ بھٹو

مزید :

پشاورصفحہ آخر -