اسلامیہ یونیورسٹی میں تیسری بین الاقوامی کانفرنس برائے زبان و ادب شروع

اسلامیہ یونیورسٹی میں تیسری بین الاقوامی کانفرنس برائے زبان و ادب شروع

  

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر، بیورو رپورٹ) اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے اشتراک سے تیسری بین الاقوامی کانفرنس برائے زبان و ادب کا آغاز ہوگیا ۔ افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی سمیع اللہ چوہدری صوبائی وزیر خوراک تھے جبکہ انجینئر پروفیسر ڈاکٹر (بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

عامر اعجاز وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے صدارت کی ۔ صوبائی وزیرنے اپنے خطاب میں کہا کہ مملکت خداداد پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوئی اور تاابدقائم رہے گی ۔ پاکستان کا اصل مستقبل اور امید ہماری نوجوان نسل ہے جو اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر وطن عزیز کو قوموں کی صف میں ممتاز مقام دلائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں جاکر ان کے حوصلے اور عزم میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ وہاں پر زیر تعلیم طلبہ وطالبات روشن مستقبل کا احساس اجاگر کرتے ہیں ۔انہوں نے طلباء سے کہا کہ نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور بین الاقوامی کانفرنس میں آنے والے مندوبین کے وسیع علم اور تجربے سے استفادہ کریں۔ انجینئر پروفیسر ڈاکٹر عامر اعجاز وائس چانسلرنے کہا کہ جنوبی پنجاب اپنے عظیم ثقافتی اور علمی ورثے کی وجہ سے منفرد مقام کا حامل ہے ۔ یہاں پرقائم ہونے والے تعلیمی مراکز کی صدیوں پرانی تاریخ اور روایات ہیں ۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور خطے کی تاریخی علمی درسگاہ ہونے کے ناطے ان عظیم روایات کی امین ہے اور موجودہ دور میں اس علاقے کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار اداکررہی ہے۔ انٹر نیشنل لنگوسٹکس اینڈ لڑیچر کانفرنس کااسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں تیسری مرتبہ انعقاد ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔اس کانفرنس میں ملکی اور غیر ملکی مندوبین کو علمی مباحثوں کے ذریعے زبان و ادب میں جدت اور نئی جہتوں کی تلاش کا موقع ملے گا۔انہوں نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر میمونہ غنی ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور منتظمین کو مبارک باددی ۔انہو ں نے صوبائی وزیر سمیع اللہ چوہدری کی آمد پر شکریہ اداکیا ۔کانفرنس کی فوکل پرسن پروفیسر ڈاکٹر میمونہ غنی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے کی پہلی کانفرنس سال 2013ء جبکہ دوسری 2017میں منعقد ہوئی ۔ اس مرتبہ کانفرنس میں ترکی ، انڈونیشیا، فرانس ، تھائی لینڈ اور پاکستان سے 100سے زائد مندوبین شریک ہیں جن میں 20سے زائد اہم ترین مقررین ہیں ۔ کانفرنس کا مقصد دنیا بھر سے آئے محققین ، سکالرزاور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں پر وہ اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کریں اور آپس میں علمی معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے طلباء اور طالبات کو بھی فیضیاب کریں۔اس موقع پر ڈینز، اساتذہ کرام ، معززین اور طلبہ وطالبات کثیر تعداد میں موجود تھے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -