ایم ڈی لیسکو، سمیت متعدد کو توہین عدالت کے تحت اظہارِ وجوہ نوٹس

ایم ڈی لیسکو، سمیت متعدد کو توہین عدالت کے تحت اظہارِ وجوہ نوٹس

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان خان نے نئی جیلوں کی تعمیر نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران قراردیا کہ اگرمحکمہ مواصلات، خزانہ اور محکمہ داخلہ کے درمیان رابطوں کا فقدان نہ ہوتا تو کئی سال پہلے جیلوں کا کام مکمل ہو چکا ہوتا،فاضل جج نے ایم ڈی فیسکواور ڈی ایس ریلوے راولپنڈی ،پنجاب کے سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری مواصلات اورسیکرٹری فنانس کو توہین عدالت کے تحت اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے،فاضل جج نے فیصل آباد میں بچوں کی جیل نہ بنانے اور میانوالی میں ہائی سکیورٹی جیل کو غیر فعال رکھنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ عدالت کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے سیکرٹریوں اوردیگر متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کے کیس کی فائل تیار کرکے آئندہ سماعت پر پیش کی جائے۔عدالت نے منصوبوں کی تکمیل کے لئے محکمہ خزانہ کو63ملین روپے کی رقم ادا کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔فاضل جج نے کہا کیا یہ افسر مجھے ریٹائرڈ کروا کر عدالتی حکم پر عملدرآمد کریں گے؟ محکمہ جیل خانہ جات سویا پڑا ہے، عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا،نابالغ بچوں کو خطرناک قیدیوں اور بالغوں کے ساتھ رکھنا انتہائی غیر مناسب ہے۔ یہ سنگین معاملہ ہے جس کا عدالت سخت نوٹس لے گی۔فاضل جج نے قراردیا کہ ہائی سکیورٹی جیل ملک کی ضرورت ہے،خطرناک قیدیوں کو عام قیدیوں کے ساتھ رکھنا خطرے سے خالی نہیں،اگر جیل توڑی گئی یا کسی نے حملہ کر دیا تو عام قیدیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں،درخواست گزاروں ردا قاضی اور رانا محمد لطیف کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ اگراداروں میں رابطوں کا فقدان نہ ہوتا تو جیلیں چار برس قبل بن جاتیں۔ محکمہ مواصلات وتعمیرات کے وکیل نے کہا کہ میانوالی جیل مکمل ہو چکی ہے صرف ریلوے اورفیسکو کے اختلاف کے باعث بجلی کے کھمبے نہیں ہٹائے جارہے جبکہ لودھراں جیل کا 95فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، پانچ فیصد کام فنڈز کی عدم دستیابی سے رک گیاہے۔فاضل جج نے مذکورہ احکامات کے ساتھ کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ آخر -