بولنے کی اجازت نہ ملنے پرسینیٹرفیصل کی چیئر مین کمیٹی سے تلخ کلامی

بولنے کی اجازت نہ ملنے پرسینیٹرفیصل کی چیئر مین کمیٹی سے تلخ کلامی

  

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کے اجلاس کے دور ان چیئر مین کمیٹی مشاہد اللہ خان اور سینیٹر فیصل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ منگل کو مشاہد اللہ خان کی زیرصدارت سینٹ قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں پی آئی اے سے نکالے گئے لوگوں کے حوالے سے کمیٹی میں بحث کی گئی ۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ اٹارنی جنرل نے خط لکھا ہے کہ ہم کمیٹی کواسطرح چلائیں۔چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ میں نے اہمیت نہیں دی کیونکہ پولیٹیکل خط لکھا گیا تھا،اس خط میں جوباتیں لکھی گئیں وہ اہمیت کی حامل نہیں ۔اجلاس کے دور ان چیئرمین کمیٹی اور سینیٹر فیصل جاوید میں تلخ کلامی ہوئی ۔ سینٹر فیصل جاوید بولنے کی اجازت نہ ملنے پر سراپاً احتجاج بن گئے اور کہاکہ اگر ہمیں بولنے نہیں دینا تو چلے جاتے ہیں۔چیئر مین کمیٹی مشاہد اللہ خان نے کہاکہ کس کو بولنے کی اجازت دینی ہے فیصلہ میں نے کرنا ہے۔چیئرمین کمیٹی مشاہد اللہ خان نے کہاکہ آپ نے جانا ہے تو چلے جائیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی اجلاس میری مرضی سے چلے گا۔ اجلاس کے دور ان مشاہداللہ اور نعمان وزیر خٹک کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔ مشاہد اللہ خان نے کہاکہ آپ یہاں لڑائی کرنے آئے ہیں۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ آپ یونین کے لوگوں کو پہلے کیوں نہیں بولنے دے رہے۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ پہلے سینیٹرز بولیں گے تو یہ لوگ اپنا مقدمہ کیسے پیش کریں گے۔چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ نعمان وزیر آپ یہاں خطاب کرنے نہیں آئے ۔مولانا بخش چانڈیو نے کہاکہ نکالے گئے لوگ سڑکوں پر آ گئے ہیں،کیسا ایکشن ہے کہ پہلے مرحلے میں آخری والا کر دیا جائے۔

قائمہ کمیٹی اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -