رانا شوکت محمود چل بسے، ڈاکٹر انور سجاد علیل، عیادت کی ضرورت!

رانا شوکت محمود چل بسے، ڈاکٹر انور سجاد علیل، عیادت کی ضرورت!

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

پاکستانی عوام بہادر اور خود دار تو ہیں، تاہم حقائق سے روگردانی بھی مشکل کام ہے۔ ان دنوں شہری بہت سے معاملات پر بات کرتے ہیں تاہم ان موضوعات میں پہلا پاک بھارت کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بڑھتے ہوئے مظالم اور متعصب ذہنوں کی مسلمانوں کے خلاف نسل کشی حد تک قتل و غارت ہوتا ہے۔ شہری یہ تو سمجھتے ہیں کہ ایٹم بم کی موجودگی جنگ سے گریز کی علامت ہے تاہم وہ یہ بات بھی کرتے ہیں کہ بھارت نے جنگی جنون میں اپنی طرف سے مختصر جنگ چھیڑنے یا بقول بھارتی افواج کے کمانڈر کہ سرجیکل سٹرائیک ہو گا اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو بھی جواب دینا ہوگا اور یوں بات بڑھ بھی سکتی ہے جو کسی بھی غلطی سے انسانی تباہی پر منتیج ہو گی کہ ایٹمی تباہی ناقابل برداشت ہے، بلکہ ایک مغربی مفکر اور سائنس دان نے تو یہ کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے تو اس سے ان دونوں ممالک کا انسانی نقصان تو ہو گا لیکن تابکاری کے دھوئیں سے دنیا میں 90 فیصد آبادی متاثر ہو گی اور اس حد تک اموات بھی ہو سکتی ہیں اور تابکاری کے اثرات ناقابل علاج بیماریاں بھی پھیلا سکتے ہیں، یقیناًدونوں ممالک کو یہ احساس ہونا چاہیے، تاہم بھارتی ذہنیت کے عجیب رنگ ہیں کہ عام انتخابات کے لئے کشیدگی کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ہر کوئی جنگ سے پناہ چاہتا ہے تاہم لوگ خائف نہیں ہیں۔تازہ ترین واقع بھارتی فضائیہ کا لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ہے۔بھارتی طیارے بالا کوٹ تک آئے۔ شاہینوں کی طرف سے فوری استقبال کے بعد بھاگ گئے۔

دوسرا اہم موضوع نیب کی کارکردگی ہے جس کا ہر روز پول کھل جاتا ہے۔ میڈیا میں نیب کی کارروائی ذرائع کے حوالے سے شائع ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شریف فیملی نے ملک لوٹا اور 300ارب ڈالر سے زیادہ غیر ممالک میں لے گئے۔ اسی طرح آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے دوسرے رہنماؤں کی کرپشن بھی اربوں، کھربوں کی ظاہر کی جاتی ہے۔ تاہم نتائج کے اعتبار سے صورت حال یہ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ، قائد حزبِ اختلاف قومی اسمبلی کی درخواست ضمانت کا فیصلہ سامنے آتا ہے تو نیب کا پردہ بھی فاش ہو جاتا ہے، اس سے پہلے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو دونوں مقدمات میں ہونے والی سزا بھی ’’لوٹی دولت‘‘ واپس نہیں لا سکی۔ محمد نواز شریف کی طرف سے ان کے وکلاء نے طبی بنیادوں پر جو درخواست ضمانت دائر کی تھی وہ مسترد ہو گئی ہے جس سے ان کے چاہنے والوں کو بہت مایوسی ہوئی ہے۔ وہ سب ضمانت ہو جانے کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔ دوسری طرف سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کے لئے قائم نئی جے آئی ٹی نے دوسرے اعلیٰ افسروں کے بیانات قلمبند کئے اور اب محمد شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے بیانات بھی قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ عوامی تحریک کی طرف سے بنیادی الزام ان کے خلاف لگایا جاتا ہے۔ان کو نوٹس بھیجے گئے،لیکن وہ نہیں آئے۔ جے آئی ٹی مسترد کر دی۔

نیب کی طرف سے شریف فیملی اور آصف علی زرداری سمیت پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی نے دونوں جماعتوں کو متحد کر دیا ہے۔ سندھ اسمبلی کے سپیکر سراج درانی کی گرفتاری پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن نے ہنگامہ کیا تو پنجاب اسمبلی میں بھی ہوا، اس ایوان میں اگرچہ پیپلزپارٹی کے اراکین کی تعداد صرف سات ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کی حمایت مل جانے سے یہ ایوان میں ہنگامہ آرائی میں کامیاب رہے اور دل کی بھڑاس نکالی۔پیپلزپارٹی سراج درانی کی گرفتاری کے بعد زیادہ مضطرب ہے اور اپنی صفوں کو مضبوط کرتی جا رہی ہے۔ لاہور میں 22فروری کو 1974ء میں ہونے والی دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی یاد میں اسمبلی ہال کے سامنے سمٹ مینار پر جلسہ کیا گیا۔ خلاف توقع قمر زمان کائرہ، نوید چودھری، عزیز الرحمن چن، منور انجم اور منظور چودھری سے لے کر قریباً ساری صوبائی اور مقامی قیادت موجود تھی اور اس بار کارکنوں کی تعداد بھی معقول تھی اس سے پارٹی زعماء کو حوصلہ ہوا اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہر سال 22فروری کو یہ یاد منائی جائے گی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے عالم اسلام کو متحد کر دیا تھا۔

ہفتہ رفتہ کے دوران دو اہم شخصیات کے بارے میں بھی اہم خبریں تھیں۔ رانا شوکت محمود جو پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر اور جنرل سیکرٹری کے علاوہ ، صوبائی وزیر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے، کچھ دیر علیل رہنے کے بعد انتقال کر گئے، پیر کے روز ان کی نماز جنازہ ادا ہوئی جس میں پیپلزپارٹی کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ رانا شوکت محمود بڑے نستعلیق انسان تھے۔ انہوں نے آمریت کے دور میں اہلیہ سمیت لاہور کے شاہی قلعہ کے عقوبت خانے میں انسانیت سوز تشدد کا سامنا کیا تھا۔ رانا شوکت کچھ عرصہ تک پارٹی سے اختلاف کرکے الگ بھی رہے۔ تاہم پھر واپس آ گئے اور مرتے دم تک جماعت سے وابستہ رہے۔ اگرچہ ان کو کوئی ذمہ داری نہ سونپی گئی تھی۔

ایک انتہائی پڑھے لکھے، ادیب، ڈرامہ نگار، سیاسی رہنما اور ترقی پسند دانشور جو خود بھی طبیب ہیں، ان دنوں شدید علیل ہیں اور بزرگی کی اس عمر میں گوشہ نشیں ہو کر رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد اپنی علالت کے باعث کراچی سے واپس لاہور اپنے شہر واپس آ گئے ہیں۔ ان کی علالت اور گوشتہ نشینی کی اطلاع چاہنے والوں پر برق بن کر گری اور لوگ حیران ہیں کہ ان کی سابق جماعت (پیپلزپارٹی) حکام بالا، ادب اور کلچر کے حلقوں اور ان کے احباب کو اب بھی ان کی عیادت کا خیال نہیں آ رہا، ان کی عیادت اور ان سے بات چیت ان کی حوصلہ افزائی کا سبب ہو گی۔ اللہ ڈاکٹر انور سجاد کو صحت مند اور توانا کر دے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -