قطر میں امریکہ، طالبان مذاکرات خوش آئند، مثبت اشارے، پاکستان کے کردار کی تعریف

قطر میں امریکہ، طالبان مذاکرات خوش آئند، مثبت اشارے، پاکستان کے کردار کی ...

  

یہ امر خوش آئند ہے کہ طالبان کے امریکہ کے ساتھ دوحہ قطر میں باقاعدہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں اور پہلے ہی مرحلے میں مثبت اشارے دیکھنے کو ملے ہیں، ہر امن پسند شخص کی خواہش ہے کہ یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، اس صورت میں ہی افغانستان سمیت گرد و نواح میں امن کا بول بالا ہو سکتا ہے۔ ہم ان سطور میں کئی بار یہ لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کا امن بالعموم اور خیبرپختونخوا میں امن و امان بالخصوص افغانستان سے جڑا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی افغانستان میں امن و امان کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اس کے اثرات سرحد پار بھی دیکھے جاتے ہیں،پاکستان نے اسی بنا پر امریکہ طالبان مذاکرات میں سہولت کار کا اہم کردار بھی اپنے ذمے لیا ہے جسے ہر سطح پر سراہا بھی جا رہا ہے، قطر مذاکرات کی ابتدا میں ہی مریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے پاکستانی کردار کو سراہا اور افغان طالبان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کے دوران زلمے خلیل زاد نے اپنے ٹوئٹ میں مذاکرات کی میزبانی پر قطر اور ان کے سفر میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر اور ان کی ٹیم کے ساتھ کھانا کھایا، اس موقعہ پر ان کا کہنا تھا کہ ملا برادر سے میری پہلی ملاقات ہے، اب مذاکرات کی طرف بڑھیں گے۔طالبان کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی کوششوں میں افغان عمائدین اپنے ایک جلاس میں کابل حکومت کی طرف سے ’سرخ لکیروں‘ کا تعین کریں گے۔

اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے افغان باشندوں کے بارے میں جو حالیہ اعلان کیا ہے وہ بھی نیک شگون ہے انہوں نے ملک میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا حکم جاری کیا اور کہا کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین بینک اکاؤنٹس کھلوا کر باضابطہ طور پر ملکی معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھاتے وقت عمران خان نے پاکستان میں مقیم 15لاکھ افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ 1979 میں سابقہ سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی، تاہم یو این ایچ سی آر کے مطابق 2002 سے اب تک 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔اس کے باوجود پاکستان اب بھی 14 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین سمیت تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہے کیونکہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کا عمل کافی سست ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ افغانستان میں عدم استحکام، بنیادی سہولیات کا فقدان اور بیروزگاری ہے۔

دوسری اہم خبرخیبر پختونخوا میں انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات کے حوالے سے جہاں صوبائی حکومت معاملات درست کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ ابھی گزشتہ روز وزیر اعلیٰ محمود خان نے اس حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کیا اور اس بارے میں رات گئے تک میڈیا کو بریف کیا جاتا رہا، یہ اجلاس متعلقہ سینیٹرز اور ایم این ایز پر مشتمل ایڈوائزری کمیٹی کا تھا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کیلئے سب کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ضم شدہ علاقوں اور وہاں کے عوام کو ترقی کے قومی دہارے میں لانے اور اْن علاقوں کے معاشی ، سیاسی اور قانونی طور پر مکمل انضمام کی کامیاب تکمیل کے عمل کو آسان اور پرسہولت بنایا جاسکے۔ سب کمیٹی ہر سطح پر سٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گی تاکہ اْن کے خدشات دور کئے جا سکیں اور بہتر اور تیز رفتار طریقے سے انضمام کی کامیاب تکمیل کی طرف بڑھا جا سکے۔ اجلاس میں صوبا ئی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، شوکت یوسفزئی، مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل خان وزیر اور ضم شدہ اضلاع سے سینیٹرز اورنگزیب، ہدایت آ خان، مرز ا محمد آفریدی، سجاد حسین طوری، تاج محمد آفریدی، شمیم آفریدی اور ایم این ایز گل ظفر خان، محمد اقبال خان، مومن خان، اورنگزیب ، سجاد حسین طوری، جواد حسین، محسن داوڑ، محمد جمال الدین ، علی وزیر، عبد الشکور اور گل داد خان نے شر کت کی۔ اجلاس میں طے پایا کہ کمیٹی سابق فاٹا کی روایات کی روشنی میں انضمام کے عمل میں تیزر فتار اور کامیاب تکمیل کیلئے سفارشات مرتب کرے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے لیویز اور خاصہ دار کی جاب سکیورٹی اور اْن کی باقاعدہ پولیس میں شمولیت ، 10 سالہ ترقیاتی پلان ، سہولیات کی تخلیق ، سروے دوبارہ شروع کرنا ، نوکریوں کی تخلیق ، آئینی ترامیم ، ترقیاتی حکمت عملی ، منصوبوں میں کرپٹ سرگرمیوں کے حوالے سے قبائلی عوام کے تحفظات وغیرہ پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور ضم شدہ اضلاع اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے وزیراعلیٰ کے اخلاص اور کوششوں کو سراہا گیا۔صوبائی حکومت اس سلسلے میں جس جانفشانی سے لگی ہوئی ہے امید کی جا سکتی ہے کہ انضمام شدہ قبائلی اضلاع کو جلد شہری حقوق حاصل ہو جائیں گے ۔ خیبرپختونخوا میں احتساب کے عمل میں بھی کچھ تیزی دکھائی دے رہی ہے اور گزشتہ دنوں نیب نے صوبائی اسمبلی کے سپیکرمشتاق غنی کو بعض بیورو کریٹس سمیت طلب کیا، قابل تحسین امر یہ ہے کہ وہ پیش بھی ہو گئے

سپیکر مشتاق احمد غنی پر پاک آسٹریا انسٹیٹوٹ ہری پورمیں اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے جس پر قومی احتساب بیورو نے سپیکر اسمبلی اور سابق چیف سیکرٹری امجد علی خان کو تحقیقات کیلئے طلب کیا تھا۔ قومی نیب کی تفتیشی ٹیم نے سپیکر مشتاق احمد غنی اور سابق چیف سیکرٹری سے مذکورہ کیس کے حوالے سے مختلف سوالات کیئے۔

صوبے میں اعلیٰ انتظامی افسروں کی تبدیلی کے مثبت اثرات دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں ، بالخصوص لا اینڈ آرڈر کی صورت حال میں خاصی بہتری آ رہی ہے، صوبائی دارالحکومت میں پولیس موبائلوں کے گشت میں اضافے سے ڈکیتی ، چوری اور رہزنی جیسی وارداتوں میں کمی خوش آئند ہے۔ خیبرپختونخوا کے نئے انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر نعیم خان ہر روز ماتحت افسروں سے چھوٹے اہلکاروں تک خصوصی میٹنگز کر رہے ہیں جن میں ان کا موقف بڑا واضح دکھائی دے رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر امن کا گہوارہ اور کرائمز ڈرگ فری صوبہ بنانے اور خیبر پختونخوا پولیس کو کرپشن فری پولیس فورس بنانے کے لئے نئی حکمت عملی بنا لی گئی ہے، مجرموں کا دن رات ہرجگہ پیچھاکیا جائے گا۔ان کے خفیہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جائیں گے اور ان کو کسی بھی جگہ چین سے بیٹھنے نہیں دیا جائے گا۔ عملی طور پر ثابت کیا جائے گا کہ پولیس حقیقی معنوں میں عوام کی محافظ اور خادم ہے عوام اب چین کی نیند سو ئیں گے۔ جبکہ پولیس ساری رات جاگتی رہے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -