آغا سراج درانی کی پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آمد، صدارت کی، سیاسی میدان گرم

آغا سراج درانی کی پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آمد، صدارت کی، سیاسی میدان گرم

  

ڈائری۔کراچی۔ مبشر میر

سندھ اسمبلی کے اسپیکر پیپلزپارٹی کے اہم رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی آغا سراج درانی کی اسلام آباد میں نیب سندھ کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر پروڈکشن آرڈر کے بعد سندھ اسمبلی میں ان کی بحیثیت اسپیکر تقریر سے سیاسی میدان بہت گرم ہوچکا ہے۔ پیپلز پارٹی اور خود آغا سراج درانی نے زیادہ ترنیب کی جانب سے طریقۂ گرفتاری پر اعتراض کیا ہے۔ ان پر لگنے والے الزامات کا جواب یقیناًان کو خود دینا ہے۔ آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی نے سکھر اور حیدرآباد سے وفاقی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ سکھر میں پیپلز پارٹی کے لیے بڑا عوامی اجتماع منعقد کرنا قدرے آسان ہے۔ آغا سراج درانی کا اپنا حلقۂ انتخاب بھی ضلع شکارپور، سکھر ڈویزن میں شامل ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنے خلاف ہونے والی منی لانڈرنگ کے حوالے سے انکوائری کے بعد سکھر میں ہوتے ہوئے ہی جلسے منعقد کیے تھے ، اب بھی سندھ حکومت کے تعاون سے پیپلز پارٹی ایک آدھ جلسہ کرے گی لیکن وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں نہیں آسکتی۔

حیدرآباد میں بھی پیپلز پارٹی کو بڑے عوامی اجتماع کے لئے بہت کوشش کرنی پڑے گی 2007ء میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا حیدرآباد میں جلسہ بہت ز یادہ کامیاب نہیں ہوا تھا۔ جس پر وہ مقامی قیادت پر برہم بھی ہوئی تھیں۔ کراچی پیپلز پارٹی کے لیے ہمیشہ مشکل شہر رہا ہے، لیاری کی پوزیشن اب وہ نہیں جو پہلے تھی، اگر چہ پیپلز پارٹی گذشتہ گیارہ برسوں سے مسلسل سندھ میں حکومت کررہی ہے، اپنا پورا زور لگانے کے باوجو دکراچی میں اپنا ووٹ بینک حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملیر ضلع کے علاوہ پانچوں اضلاع میں فقط ایک ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوا۔ سعید غنی اس وقت وزیربلدیات ہیں، پیپلز پارٹی کی ضلعی تنظیمیں بھی کراچی میں بڑے اجتماع یا تحریک میں معاون ثابت نہیں ہوسکتیں۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ حکومتی عہدے کی حد تک طاقتور ہیں ، لیکن عوامی سطح پر وہ یہاں سے الیکشن لڑنے کی ہمت نہیں کرسکے۔ لہٰذاپیپلز پارٹی کی جانب سے تحریک شروع کرنے کے اعلان سے تحریک انصاف کے لیے پریشانی نظر نہیں آتی ، اسی وجہ سے آئندہ آنے والے دنوں میں نیب کی کارروائیاں زیادہ تیز ہوتی ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ کئی موجودہ اور سابق صوبائی وزرا کے علاوہ سید خورشید شاہ اور سید مراد علی شاہ بھی کمزور وکٹ پر نظر آرہے ہیں، اسی وجہ سے پارٹی کے اندر بھی غیر یقینی کی فضاء موجود ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک مرتبہ پھر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ کراچی میں مختلف تقریبات میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوئی تھی اسے عجلت میں پاس کیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ بند کمرے میں ترمیم تیار کرکے پاس کرلی گئی اور ہر سیاسی جماعت کی پسند کی کوئی نہ کوئی چیز شامل کرلی گئی، اٹھارویں ترمیم کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے سینیٹر میاں رضا ربانی کو اعلیٰ ترین حکومتی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ وہ اس ترمیم کے اطلاق کی کوشش بھی کرتے رہے، لیکن چند ہی سالوں میں اس کی خرابیاں کھل کر سامنے آگئیں، سپریم کورٹ نے شیخ زید ہسپتال لاہور وفاقی حکومت کو واپس کیا، کراچی کے تین بڑے ہسپتال بھی وفاق کو سپریم کورٹ کے ذریعے واپس کردیئے گئے، میاں رضا ربانی ہی اس کیس میں وکیل تھے، وہ اعلیٰ عدالت کو اس فلاسفی پر قائل نہ کرسکے کہ صحت کا محکمہ مکمل طور پر صوبے کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اب تعلیم کا محکمہ بھی خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے ادارے بھی وفاق میں جاسکتے ہیں، کیونکہ صوبائی حکومتوں نے اس میں بہتری کی کوئی گنجائش پیدا نہیں کی بلکہ وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

صوبہ سندھ میں کچھ ہی عرصہ قبل ضیاء الدین ایجوکیشن بورڈ کا بل صوبائی اسمبلی سے پاس کیا گیا ہے اس کا دائرہ کار صرف کراچی ہی نہیں بلکہ صوبہ سندھ کے تمام اضلاع ہیں۔ آغا خان بورڈ کی طرز پر اس کا بل پاس کروایا گیا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر عاصم حسین سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی جو ضیاء الدین یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، اب میٹرک اور انٹر کے لیے ضیاء الدین بورڈکے بھی مالک ہیں ۔ اس میں قانون سازی کرتے وقت ’’Conflict of Inerest‘‘ کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ اس میں ان کی راہنمائی سابق چیئرمین انٹربورڈ پروفیسر انوار احمد زئی کررہے ہیں، جن کا اس شعبے کا وسیع تجربہ ہے وہ سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے بھی دستِ راست تصور کیے جاتے تھے۔بات یہیں ختم نہیں ہورہی بلکہ سندھ اسمبلی میں سندھ ایجوکیشن اتھارٹی کا بل لانے پر کام ہورہا ہے۔ انتہائی باوثوق ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ سندھ کے ساتوں ایجوکیشن بورڈز اس کے ماتحت کردیئے جائیں گے۔ ان بورڈز کی خودمختار حیثیت نہ صرف ختم کرنے کا ارادہ ہے، بلکہ ان بورڈز کی پراپرٹی اور فنڈز پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا۔

اساتذہ کی تنظیمیں اس حوالے سے احتجاج کررہی ہیں، انٹربورڈ کراچی کے چیئرمین کو بھی الزامات کی زد میں رکھا گیا ہے، ان پر مسلسل دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔ گویا سیاستدان خاص طور پر موجودہ سندھ حکومت تعلیمی سرگرمیوں پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی پراپرٹی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ شہر کراچی میں تعلیمی اداروں کی زمین اربوں روپے مالیت کی ہوچکی ہے۔ شہر کراچی کی پولیس کی نااہلی اپنی جگہ پر بھرپور نظر آئی جب میڈیکل کالج کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرہ بیگ ایک بے تکے پولیس مقابلہ کی زد میں آگئی، کئی شہری اب تک پولیس کی ہی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں، پھر بعد میں پولیس اپنی غلطی کو چھپانے کے لئے واقعہ کو نیا رخ دینے کی بھی کوشش کرتی ہے۔ پولیس میں ایسے افراد موجود ہیں جن کو واقعی بہتر ٹریننگ کی ضرورت ہے، ٹریننگ کا معیار بہت گھٹیا ہے، ٹریننگ کے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد کام کرنے کا انداز بھی پیشہ وارانہ معیار سے گرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے شہری اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں ۔

پاک بھارت کشیدگی کے آثار صوبہ سندھ اور خاص طور پر کراچی میں کہیں نظر نہیں آرہے، البتہ کاروباری سرگرمیوں پر ضرور اثرانداز ہورہے ہیں، ایم کیو ایم نے پاک بھارت کشیدگی اور دفاع وطن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ریلی نکالی، کراچی پریس کلب کے باہر میئر کراچی وسیم اختر نے بھی خطاب کیا ۔ کراچی سے ہی تعلق رکھنے والے اقلیتی راہنما جن کی وابستگی اب تحریک انصاف کے ساتھ ہے رامیش کمار ، بیک چینل ڈپلومیسی میں کردار ادا کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

پاکستان کے دیرینہ دوست ملک اور عرب لیگ کے اہم رکن کویت کا 58واں قومی دن منایا گیا جس میں کراچی کی اہم ترین شخصیات کے علاوہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی شریک ہوئے۔ پروگرام کا انعقاد کویت قونصل جنرل کراچی نے کیا تھا۔ کویت اور پاکستان کے تعلقات میں سردمہری، سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں آئی تھی، پاکستانیوں کے لیے ویزوں کا حصول بھی مشکل ہوگیا تھا بلکہ گذشتہ دس برسوں سے ویزے بند کردیے گئے جو لوگ وہاں کام کررہے ہیں ان کے لئے بھی دشواری رہتی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی بہت کوشش کی لیکن پاکستانیوں کے لئے راستے بند ہی رہے۔ اب ایک گرم جوشی دیکھنے میں آرہی ہے ، امید کی جارہی ہے کہ کویت پاکستانیوں کے لئے روزگار کے مواقع مہیا کرے گا اور ویزوں کا حصول بھی جلد ممکن ہوجائے گا۔ جسے موجودہ حکومت کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -