شرانگیز مودی صبر نہ آزمائے ، جنگ شروع کی تو دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرائے گا: سیاسی قیادت، بھارت کو مدعو کرنے پر او آئی سی کے بائیکاٹ کا مطالبہ

شرانگیز مودی صبر نہ آزمائے ، جنگ شروع کی تو دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرائے گا: ...

  

اسلام آباد،پشاور ،لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ،سٹاف رپورٹر نیوزایجنسیاں )سیاسی رہنماؤں نے بھارتی جارحیت اور دراندازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار جنوبی ایشیاء میں شر انگیزی کی علامت بن چکی ہے ،بھارت نے جنگ شروع کی تو نئی دہلی پر پاکستان کا پرچم لہرائے گا۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہاکہ بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے اورجنوبی ایشیا ء کے امن کواپنے ہاتھوں سے آگ میں نہ دھکیلے، ہمیں اپنے بیٹوں، مادر وطن کے سجیلے جوانوں پر ناز ہے، مادر وطن کے تحفظ کی خاطرخون بہانے محاذ جنگ پر جانے کے لئے تیار ہوں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے سے باز رہے۔ پاکستانی قوم ملک کے دفاع کیلئے پاک افواج کے ساتھ ہے۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ مودی انتخابات جیتنے کیلئے خطے کا امن تباہ نہ کرے، بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، پاکستانی قوم کا ہر فرد مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اقتدار کا بھوکا انتہاپسند بھارتی حکمران ٹولہ پورے خطے کے امن کیلئے خطرہ بن چکا، عالمی برادری گجرات کے قصائی کو لگام دے، امن کے دشمن کسی صورت انسانیت کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے،مودی اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور کشمیری عوام کی تحریک سے توجہ ہٹانے کیلئے ڈرامہ بازی پر اتر آیاہے ۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہاکہ بلا تفریق و اختلافات پاکستان کے مسئلے پر پوری قوم ایک ہے، حکومت بھارتی دراندازی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے۔سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہاہے کہ بھارت کی امن کو کمزوری سمجھنا ناقص العقلی ہو گی جو ملک اقوام متحدہ کی نیشنل سیکورٹی کا ممبر بننا چاہتاہو وہ کتنا غیر ذمہ دار ملک ہے مودی انڈیا کو انتہاپسندی کی جانب لے جانا چاہتاہے اس وقت انڈین کے خلاف متحد اور قوم کے ساتھ کھڑا ہے ۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ بھارتی ائیرفورس کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی مودی کے جنگی جنون کو ثابت کرتی ہے، بھارتی ائیرفورس کی خلاف ورزی واضح کرتی ہے کہ پلوامہ واقع خود مودی سرکار نے کروایا ہے،پاکستانی افواج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے،مودی کا جنگ جنون پورے خطے اور عالمی دنیا کی امن و اماں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے بھارتی فضائی حملے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار اپنے وقتی سیاسی مقاصد کیلئے خطے کا امن خطرے میں ڈال رہی ہے ،بھارتی اوچھے ہتھکنڈے پاکستان کو کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا کہ نریندر مودی جنوبی ایشیا کے امن کو اپنی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائے،بی جے پی کو بھارت میں سیاسی ناکامی کا سامنا ہے تو نریندر مودی اس کا بدلہ پورے جنوبی ایشیا سے نہ لے،بھارت ایسی غلطی نہ کرے جس پر اسے صدیوں پچھتانا پڑے،پاکستان کی بہادر مسلح افواج مادر وطن کے دفاع کیلئے سر بکف ہیں۔سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ بھارت کوعلم ہوناچاہیے کہ ہماری افواج پوری طرح چوکناہیں، یہ حرکت صرف بھارتی عوام کے سامنے چھاتی چوڑی کرنے کیلئے تھی،بھارت میں الیکشن جیتنے کا آسان نسخہ پاکستان کے خلاف طبل بجاناہے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہر قسم کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ، پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے ، بھارت ہمارے صبر کو مت آزمائے ۔تحریک انصا ف کے مرکزی سیکرٹری جنرل ارشدداد نے کہاکہ مودی سرکار جنوبی ایشیا میں شرانگیزی کی علامت بن چکی ہے۔ اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے بھارت کی جانب سے دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے ک کیلئے متحد ہے، پاکستانی افواج کے حوصلے بلند ہیں ہر قسم کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ، شاہی سید نے کہا پاک فوج کے بروقت جواب نے بھارتیوں کا غرور خاک میں ملادیا ،پاک فوج ملک کے دفاع میں ہر قسم کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سیاسی قیادت کا ردعمل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کسی تفریق کے بغیر بھارت کی جارحیت کیخلاف متحد ہو گئیں۔ ملک کا مستقبل خطرے میں ہے۔ پاکستان کی آزادی و خودمختاری سلامتی اور علاقائی سالمیت دوٹوک متفقہ قومی پالیسی وضع کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ عزت سے جینا ہے یا نہیں، قوم اور فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سرحد پر فرنٹ لائن میں فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بشمول متحدہ مجلس عمل نے دفاعی تعاون کیلئے حکومت کیساتھ مکمل تعاون کا اعلان کر دیا۔ بھارت کو او آئی سی میں مدعو کرنے پر اجلاس کے بائیکاٹ کی بھی تجویز دیدی۔قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ رات کی تاریکی میں بھارت نے بزدلی کی ہے۔ پاکستان تا قیامت قائم رہے گا۔ پاکستان پرامن ایٹمی ملک ہے۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ متحد ہو کر فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھارت کو او آئی سی کا مہمان خصوصی بنانے پر اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ سیاست کا وقت نہیں ہے۔ ہمیں اتحاد کی علامت بننا چاہئے۔ قومی سلامتی پر اکٹھا ہونا چاہئے۔ پاکستان کی عوام جغرافیائی حدود کا تحفظ اور عزت اور مقام چاہتے ہیں۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی فخر امام نے کہا کہ مودی تنگ نظر آدمی ہے جو نظر اٹھائی گئی ہے اس کا جواب دینگے۔ ۔سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے او آئی سی میں بھارت کو مدعو کرنے پر اس کا بائیکاٹ کرنے کے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی متعدد بار کشمیر پر قراردادیں منظور کر چکا ہے۔ پاکستان کی سالمیت کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے۔ 40 کلومیٹر کی حدود میں آ کر ان لوڈ کر کے بھاگ گیا۔ او آئی سی کو کس نے اختیار دیا کہ وہ بھارت کو مدعو کرے ان سے پوچھنا چاہئے بھارت کو مدعو کیا۔ رکن ممالک میں پاکستان کے وفود بھجوائیں۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا اسعد محمود نے کہا کہ متفقہ قومی پالیسی وضع کرنی چاہئے بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر میں ان کے مظالم کے خلاف متحد ہیں۔ مکمل آزادی تک کشمیریوں کے حق کے لئے آواز ہر فورم پر بلند کرتے رہیں گے۔ بھارت او آئی سی کا ممبر نہ ہے۔ پاکستان کی عدم شرکت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ بائیکاٹ کرتے ہوئے جواب طلب کرنا چاہئے۔ خالد مگسی نے کہا کہ بات آگے بڑھ گئی ہے۔ پاک فوج اکیلی نہیں ہے ہم شانہ بشانہ ہیں جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ٹھوس جواب نہ دیا تو وہ بڑھتے رہیں گے۔امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پاکستان کے لئے یکجا ہیں۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے۔ سید اعجاز شاہ نے کہا کہ دانش مندی سے جواب دیا۔ بھارت کے جنگی جنون میں نہ آئیں۔ سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ او آئی سی کے حوالے سے خود کو تنہا نہ کریں۔ اگر پلوامہ واقعہ کے لئے بھارتی وزیر خارجہ کو او آئی سی میں مدعو کیا گیا تو یہ ہماری ناکامی ہے۔ بائیکاٹ کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما امین الحق نے تجویز دی کہ اسلام آباد میں موجود غیرملکی سفیروں سے رابطے کئے جائیں۔ سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے کہا کہ جنگی جواب، سفارتی جواب اور رائے عامہ کے حوالے سے ایسا ریسپانس کی ضرورت ہے۔ منتخب نمائندے یکجا ہیں۔ فہمیدہ مرزا نے کہا کہ بزدل نے رات کی تاریکی میں ایل او سی کی خلاف ورزی کی سخت مذمت کرتی ہوں۔اس ایوان سے جانیوالی بات کا وزن ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء آغاء حسن بلوچ نے بھی پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہم کوجنگ سے ڈرنے والے جان لیں ہم تو جنگوں میں پل کر جوان ہوئے ہیں پی پی پی کے رہنماء عبد القادر پٹیل نے کہا کہ بھارت نے غلطی کی تو بھارت کا وجود مٹ جائے گا اور تاریخ لکھے گی کہ ایک مودی اور ایک ملک بھارت تھا بھارت کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کیاجائے۔ عربوں سے صاف صاف کہہ دیں کہ بھارت سے دوستی رکھنی ہے تو ہم آپ کے دوست نہیں ہو سکتے۔ بھارت کشمیریوں کا قاتل ہے او آئی سی والوں کا ہمیں بھی سلام،قاتل بھارت سے بھی مراسم ۔

مزید :

صفحہ اول -