وزیراعظم جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے راجن پور آئے، صحت کارڈ ہی تقسیم کئے، بس؟

وزیراعظم جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے راجن پور آئے، صحت کارڈ ہی تقسیم کئے، ...

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

تحریک انصاف کے قائد اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان آخر کار جنوبی پنجاب کے پس ماندہ علاقے راجن پور میں آہی گئے آئے تو وہ یہاں صحت کارڈز کی تقسیم کے لئے تھے، ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر صحت محمد عامر کیانی، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی میر دوست محمد مزاری اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی تھیں، انہوں نے ’’غربا‘‘ میں علاج معالجہ کی مفت حکومتی سہولت کے کارڈز تقسیم کئے علاقے کے عوام کو توقع تھی کہ وہ چونکہ پہلی مرتبہ یہاں آرہے ہیں تو شاید اس پس ماندہ ترین علاقے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کریں گے اور مقامی آبادی کی صحت کے حوالے سے بات کریں گے روز گار اور پینے کے لئے صاف پانی کا کم از کم ذکر کریں گے لیکن لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیران سوشل آگاہی سے عاری ہیں یا پھر وہ خود ہی ایسی باتوں پر توجہ نہیں کرنا چاہتے اور یہاں بھی وہی تقریر دہرائی جو وہ تقریباً ہر فورم پر کرتے آرہے ہیں، ایک وزیر اعظم سے جو توقع ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آئی شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں پر تنقید کر کے وہ عوامی ہمدردی زیادہ حاصل کر سکتے ہیں حالانکہ اگر وہ خود ذاتی طور پر غور کریں تو اس وقت اپوزیشن جماعتوں کے جو رہنما جیلوں میں ہیں یا پھر بقول ان کے جانے والے ہیں ان کیلئے عدالتیں ہی کافی ہونا چاہئیں نہ کہ ایک وزیر اعظم انہیں زبانی کلامی سزا کا خوف دلاتا رہے کون ہو گا جو کرپشن یا پھر کرپٹ رہنماؤں کی حمایت کرے خیر عمران خان اب وزیر اعظم ہیں اگر وہ اس طرح سوچتے اور بولتے ہیں تو یہ اب ان کی مرضی ہی ہو سکتی ہے البتہ انہوں نے یہ بات پھر دہرائی ہے کہ وہ پاکستان میں مدینہ کی طرز کی ریاست بنانے کے خواں ہیں جہاں عدل و انصاف، مساوات، اخوت اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثالیں قائم ہوں، 65 سال تک اس ملک کو کرپٹ ٹولے نے لوٹا ہے اب پہلی مرتبہ سیاسی تاریخ میں احتساب کا شفاف عمل شروع ہوا تو کرپٹ مافیا کی چیخیں نکل گئی ہیں میاں نواز شریف، شہباز شریف اور ان کا خاندان علاج کے لئے غیر ممالک جاتے تھے اب یہ شکنجہ میں آئے ہیں تو بیماریوں کا بہانہ بنا کر کہتے ہیں ہمیں برطانیہ بھجوایا جائے مگر اب یہ نیا پاکستان ہے یہاں امیر اور غریب کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہی ہو گا ہم سرکاری ہسپتالوں کے معیار کو بلند کریں گے وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کو بھی وارننگ دی کہ سرکاری میٹنگز کی آڑ میں عوام کو گھنٹوں انتظار کرانے کی روش کو فوری ترک کر دیں اور اوپن ڈور پالیسی کو اپنائیں اب سرکاری ہسپتال اپ گریڈ اور سرکاری ملازمین اپنی روش ترک کرتے ہیں کہ نہیں مدینہ کی ریاست کا کام کب شروع ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے شاید توجہ نہیں کی ان 65 سالوں میں آدھے سے زیادہ عرصہ تک طالع آزما برسراقتدار رہے ہیں ان کے بیان کی رو سے کیا وہ بھی اسی کرپٹ مافیا کا حصہ تھے اور اگر تھے تو پھر جنرل (ر) پرویز مشرف نے جو بات کی ہے کہ عمران کابینہ کے آدھے وزیر میری کابینہ کے وزیر ہیں تو کیا یہ تمام اس مافیا میں شامل ہیں اس بارے میں وضاحت ضروری ہے تاکہ کوئی بھی رائے قائم کرنے میں آسانی ہو کیونکہ اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے کہ وفاقی اور خصوصاً پنجاب میں مختلف سرکاری کمیٹیوں کے چیئر مینوں کے لئے پارٹی عہدیداروں کے ذریعہ جو درخواستیں طلب کی گئی ہیں اس کے بارے میں بھی پارٹی قائد کو علم ہو گا کہ اس وقت ان عہدوں کے لئے تحریکی کارکن، عہدیدار اور حتی کہ یونین کونسلوں کے چیئر مین بھی بھاگم پیل میں ہیں جو چاہتے ہیں کہ انہیں کسی بھی اچھی کمیٹی کا چیئر مین بنا دیا جائے تو وہ یو سی چیئر مین کی نشست سے بھی استعفیٰ دے دیں گے اب یہ کیا مدینہ کی ریاست کا ماڈل ہے؟ کیا تحریک انصاف اپنے منشور کے مطابق ایسی تمام عوام سے متعلقہ سرکاری کمیٹیوں پر کوئی بہتر اور کام کرنے والا نہیں لگا سکتی اگر نہیں تو پھر ان میں اور ماضی کی حکومتوں میں کیا فرق رہ جائے گا۔ وہ بھی تو یہیں کچھ کر رہے تھے جس سے کرپشن کو فروغ ملا آپ تو کرپشن روکنے کی بات کر رہے ہیں کم از کم اس پر ہی دھیان دے دیں ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی ایک دن کے لئے مزید اپنے حلقہ انتخاب میں آ گئے جہاں انہوں نے مختلف ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور عمائدین سے ملاقاتیں بھی کیں شہریوں کے مسائل سنے اور موقع پر ہی احکامات جاری کئے اور کہا کہ اب ڈرامے بازیوں کا دور چلا گیا اب صرف کام ہو گا کیونکہ ہماری حکومت عمل پر یقین رکھتی ہے ماضی میں تونسہ سمیت جنوبی پنجاب سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا مگر اب ایسا نہیں ہو گا اور پس ماندگی دور کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں اب یہ عملی اقدامات کب ہوں گے اس کے لئے انتظار کی ضرورت ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک مرتبہ پھر جنوبی پنجاب کا الگ سول سیکرٹریٹ قائم کرنے کا مژدہ سنایا ہے یہ کب ہو گا راوی خاموش ہے اور یہ خاموشی بالکل اس طرح جب جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کے کرتا دھرتا تحریک انصاف کو پیارے ہوئے تو آج تک ان کی آواز نہیں سنائی دی جس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ جس طرح جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ والے گم ہوئے ہیں اسی طرح الگ صوبے کی آواز بھی کہیں دور چلی گئی ہے بہاولپور صوبہ بحالی کے محمد علی درانی بھی شاید اسی وجہ سے چپ ہیں کہ جب ادھر سے آواز نہیں آرہی تو پھر ادھر بھی خاموشی ہی بہتر ہے کیونکہ جنوبی پنجاب کی توانا آواز اب دور تک چلی گئی تھی جس پر کچھ اور قوم پرست بھی اپنے اپنے علاقوں کے حقوق کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں اور ان کا مطالبہ بھی کم و بیش یہی ہے لیکن ان تمام فریقین کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کام اس وقت ہو گا جب آئین پاکستان میں چار اکائیوں یعنی چار صوبوں کی بجائے زیادہ صوبے بنانے کے لئے کوئی سنجیدہ قانون سازی کا عمل شروع ہو گا ورنہ زبانی گولہ باری تو جاری ہی ہے لیکن اب عوام کو سوشل میڈیا نے بہت آگاہ کر دیا ہے کہ دنیا کے باقی معاملات میں ایسے سنجیدہ مسائل اسمبلیوں میں کس طرح ہوتے ہیں اور یہاں کیوں نہیں ہو رہے حالانکہ اس آئین میں ایک اٹھارویں ترمیم بھی کی گئی جس میں صوبائی خود مختاری کے ساتھ ہمیشہ سے دوسری ایشوز بھی صوبوں کے حوالے کئے گئے یہ ترمیم بھی ہو سکتی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی تو پہلے ہی کہہ چکی ہے جبکہ ن لیگ اس پر بل بھی لے آئی ہے اب مسئلہ صرف مل بیٹھ کر حل تلاش کرنا ہے لیکن اگر یہ سنجیدہ ہو تو! ورنہ ان تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اب سرائیکی قوم پرست بھی سیاست بازیوں سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں اور یہ مطالبہ بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ سیاستدانوں کے منہ سے اب جنوبی پنجاب الگ صوبہ کی بات اچھی نہیں لگتی کیونکہ وہ گذشتہ کئی دھائیوں سے محض بیان بازی پر ہی یہاں کے عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -