فضائی حملہ بھارت کی طرف سے پاکستان کیخلاف کھلا اعلان جنگ

فضائی حملہ بھارت کی طرف سے پاکستان کیخلاف کھلا اعلان جنگ
فضائی حملہ بھارت کی طرف سے پاکستان کیخلاف کھلا اعلان جنگ

  

عسکری تجزیہ؛لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی خان (ریٹائرڈ)

یہ سطور 26فروری (منگل وار) شام کے چار بجے تحریر کی جا رہی ہیں۔ آپ ان کو 27فروری (بدھ وار) کی صبح پڑھ رہے ہوں گے۔

آج اب تک تین قابلِ ذکر واقعات رونما ہو چکے ہیں۔۔۔ ایک تو صبح سویرے تین بجے انڈین ائر فورس نے لائن آف کنٹرول عبور کی۔۔۔ دوسرے انڈین میڈیا کے مطابق یہ فضائی حملہ بالاکوٹ میں ’’پاکستانی دہشت گردی‘‘ کے کسی ہیڈکوارٹر پر کیا گیا ہے جس میں سینکڑوں دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور ہیڈکوارٹر کو منہدم کیا جا چکا ہے۔۔۔ اور تیسرے وہ مشترکہ کانفرنس ہے جو پاکستان کے تین اہم وزراء نے ٹی وی نیٹ ورکس پر آ کر کی۔ ان میں وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ شامل تھے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ حملہ مظفر آباد (آزادکشمیر) کے ایریا میں ایل او سی سے 5میل اندر پاکستانی علاقے پر کیا گیا لیکن اس میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ انڈین میراج طیارے صرف دو فٹ تک پاکستانی علاقے میں رہے اور ایک بے آباد اور خالی جگہ پر پے لوڈ (بم) گرا کر واپس چلے گئے۔ پاکستان اس مقامِ حملہ کو انٹرنیشنل اور نیشنل میڈیا کو موقع پر لے جا کر دکھانا چاہتا ہے۔

اس حملے کے بارے میں درج ذیل حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے:

1۔ دسمبر 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد (تقریباً 47،48برس بعد) انڈیا نے لائن آف کنٹرول اگر عبور کی ہے تو پاکستان بھی فروری، مارچ 1999ء میں کارگل دراس بٹالک ایریا میں ایسا کر چکا ہے۔ لہٰذا یہ نہ سمجھیں کہ انڈیا نے متنازعہ کشمیری علاقہ میں اپنی ائر فورس بھیج کر لائن آف کنٹرول کی پہلی بار خلاف ورزی کی ہے۔

2۔ 14فروری کو پلواما میں جو حملہ ہوا تھا اس کے ثبوت میں کوئی شواہد نہیں دیئے گئے کہ وہ پاکستان کی طرف سے کس ریگولر فوج (آرمی، ائر فورس، نیوی) نے کیا ہے جبکہ یہ حملہ انڈیا نے بہ بانگِ دہل اپنی ریگولر فضائیہ سے کیا ہے۔

3۔پاکستان اس حملے کا جواب دے گا اور ضرور دے گا۔ لیکن وہ جوابی حملے کا وقت اور مقام اپنی مرضی سے منتخب کرے گا۔۔۔ یہ وہی بیان ہے جو یکم ستمبر 1965ء کو اس وقت کے انڈین وزیراعظم لال بہادر شاستری نے اس وقت دیا تھا جب آپریشن گرنیڈ سلام میں اکھنور کا سٹرٹیجک اہمیت کا شہر معرضِ خطر میں آگیا تھا۔ اگر پاکستان اس وقت اکھنور پر قبضہ کر لیتا تو اس1965ء کی جنگ کا نتیجہ شائد مختلف ہوتا۔ شاستری نے بھی کہا تھا کہ ہم اس آپریشن (گرنیڈ سلام) کا جواب دیں گے لیکن جوابی حملے کا وقت اور مقام خود طے کریں گے۔ اس کے 5 روز بعد انڈیا نے 6ستمبر 1965ء کو واہگہ پر حملہ کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان آل آؤٹ وار شروع ہو گئی تھی جو 17روز جاری رہی۔

4۔ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہہ رکھا ہے کہ پاکستان پر اگر کوئی ناگہانی وار کیا گیا تو پاکستان اس کا جواب ایسی ناگہانیت سے دے گا کہ انڈیا ششدر رہ جائے گا۔۔۔۔ کیا اس جوابی وار کا وقت آن پہنچا ہے؟

5۔آج 27فروری کو وزیراعظم کی زیر صدارت سیکیورٹی معاملات پر جو اہم ترین اجلاس ہو رہا ہے، اس کی تفصیلات کچھ دیر میں ہمارے سامنے آجائیں گی۔

6۔ابھی تک کسی دوست ملک نے اس انڈین جارحیت پر انڈیا کی مذمت نہیں کی۔ شائد وہ انتظار کر رہے ہیں کہ پرنالہ کس طرف گرتا ہے۔

7۔اگر یہ جنگ، لائن آف کنٹرول سے نکل کر بین الاقوامی سرحدوں تک آ پہنچی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ تاہم پاکستان کو جوابی اقدام ضرور کرنا پڑے گا۔ اور وہ جوابی اقدام لائن آف کنٹرول پر ہی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاک فضائیہ اس جوابی حملے میں متنازعہ اور مقبوضہ کشمیر کے کس علاقے کو نشانہ بناتی ہے۔

8۔ قوم کو تیار رہنے کا انتباہ مل چکا ہے۔ جیسا کہ راقم السطور بارہا اپنے کالموں میں عرض کر چکا ہے کہ دو جوہری قوتوں کے درمیان کھلی جنگ کا تصور انتہائی ہولناک ہے۔ دیکھتے ہیں کون کون سے ملٹری اور نان ملٹری اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

9۔گزشتہ روز کے حملے میں پاکستان کا اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اخلاقی اور نفسیاتی نقصان ضرور ہوا ہے اور وہ تب تک پورا نہیں ہوگا جب تک پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دور تک اندر جا کر جوابی حملہ نہیں کرتا۔

10۔دونوں ملکوں کی سویلین آبادیاں آنے والی جنگ کے لئے تیار نہیں۔جنگ کا بخار اور چیز ہے جو انڈیا کی ہندو آبادی کو فوراً ہی چڑھ جاتا ہے۔ لیکن ایسا بخار فوراً ’’اتر‘‘ بھی جاتا ہے۔۔۔ پاکستانیوں کو اس ’’بخار‘‘ سے بچنا چاہیے۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا رول اس آنے والی ممکن جنگ میں بہت اہم ہو گا۔ افراتفری اور اس چیخ و پکار سے ہم پاکستانیوں کو باز رہنا چاہیے جو قوم پرست ہندوؤں نے پلواما کے بعد دو ہفتوں سے مچا رکھی ہے۔

عسکری تجزیہ

مزید :

تجزیہ -