پاک فضائیہ ہمی وقت تیار، جارحیت کا جواب دینا حق، قوم کو مایوس نہیں کرینگے، وفاقی وزراء

پاک فضائیہ ہمی وقت تیار، جارحیت کا جواب دینا حق، قوم کو مایوس نہیں کرینگے، ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ پاکستان ایئر فورس کسی بھی ایڈونچر کیلئے ہمہ وقت تیار ہے اور ہماری فضائیہ کی بروقت مداخلت سے بھارت کو پسپا ہونا پڑا۔دفتر خارجہ میں وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی متفقہ رائے ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف جارحیت ہے اور پاکستان اس کا جواب دے گا۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اس حوالے سے تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں مجھ سمیت وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر دفاع پرویز خٹک شامل ہیں، کمیٹی پارلیمانی رہنماؤں سے رابطہ کرے گی تاکہ سیاسی قیادت کو اس اہم صورتحال پر اعتمادمیں لیکر مشاورت کی جائے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا کو موقع پر لے جایا جائے گا تاکہ وہ خود دیکھیں اور بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کریں۔شاہ محمود قریشی کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے جائیں گے۔انہوں بتایا کہ پارلیمانی رہنماؤں کو بریفنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پارلیمانی رہنماؤں کو ڈی جی ملٹری آپریشن اور ایئر ڈیفنس کے حکام صورتحال سے آگاہ کریں گے، پاکستانی قوم کو باخبر رکھنا ہماری ذمہ داری اور درست حقائق بتانا ہمارا فرض ہے، موجودہ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کو کئی ہفتے پہلے بتاچکے تھے کہ مودی سرکار سیاست کی ضروریات اور الیکشن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی نہ کوئی مس ایڈونچر کرنے کی ضرورت محسوس کررہی ہے کیونکہ پانچ ریاستوں میں جو انتخابی نتائج سامنے آئے اس میں بی جے پی کو مسترد کیا گیا، بھارت میں الیکشن سے پتا چل رہا ہے کہ بی جے پی کو سیاسی بقاء کیلئے کوئی نہ کوئی حرکت کرنا ہے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان ایئر فورس کسی بھی ایڈونچر کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، ہماری فضائیہ کی بروقت مداخلت سے انہیں پسپا ہونا پڑا، کچھ جہازوں نے اندر گھس کر فائر کیا، 2 بج کر 55 پر وہ داخل ہوئے اور جب ہماری فورس نے کارروائی کی تو 58 منٹ پر وہ نکل گئے، وہ ایل او سی سے ہی نکل فرار ہوئے اور اس کی وجہ ہماری فوج کی مستعدی ہے۔او آئی سی اجلاس کے بائیکاٹ سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جدہ میں ہونے والے اجلاس میں سیکریٹری خارجہ پاکستان کی نمائندگی کررہی ہیں، اس حوالے سے گزشتہ روز یو اے ای کے وزیر خارجہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی انہیں پاکستان کے نقطہ نظر اور تشویش سے آگاہ کردیا تھا، بھارتی وزیر خارجہ کو صرف او آئی سی کے افتتاحی سیشن میں مدعو کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سے بلا مشاورت ایک غیر ممبر کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی، او آئی سی کے ممبر پر جارحیت کی گئی، وہ ادارہ جو مسلمانوں کی آواز ہے وہ کس طرح آج کی کیفیت میں ایسے ملک کو جو جارحیت کررہا ہے اور مسلمانوں پر ظلم کررہا ہے جس نے او آئی سی کی متواتر قراردادیں ردی کی ٹوکری میں پھینکیں، آج کی کیفیت میں اسے مدعو کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، او آئی سی سے درخواست کرتے ہیں کہ صورتحال کو سامنے رکھ کر پھر سے غور کرکے فیصلہ کریں۔وزیر دفاع پرویزخٹک نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوج اور عوام وطن عزیز کے دفاع اور حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں، بھارت کی بزدلانہ کوششوں کو ہم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ منگل کو وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پرویز خٹک نے کہا کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اور عوام وطن عزیز کے دفاع اور حفاظت کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی بزدلانہ کوششوں کو ہم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے ہرقیمت ادا کرنے کیلئے تیارہیں۔

وفاقی وزراء

اسلام آ باد، واشنگٹن ،جدہ ( مانیٹرنگ ڈیسک،آ ئی این پی ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے چینی سفیر یاؤجنگ نے ملاقات کی اورخطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی سفیر کو پلوامہ واقعہ کے بعد ہندوستان کے بے جا الزامات اور آج لائن آف کنٹرول کی صریحاً خلاف ورزی پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا ۔منگل کوپاکستان میں چین کے سفیر یاؤجنگ نے وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اورخطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کی گیا۔دوسری طرف وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ٹیلفونک رابطہ کیا اورخطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت سیاسی مقاصد اور انتخابات کے لیے جنوبی ایشیا کے امن شدید خطرات سے دوچار کر رہا ہے،پاکستان نے پلوامہ واقعہ کے بعد ھندوستان کی طرف سے دھمکیوں کے باوجود، انتہائی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے،بھارت کا یہ جارحانہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے اور ہم توقع کرتے ہوں کہ امریکہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ علاو ہ ازیں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھارتی جارحیت کی مذمت کی ہے۔او آئی سی کے جنرل سیکریٹری نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی اور بم گرانا تشویشناک ہے۔تنظیم کی جانب سے زور دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس سے امن و امان اور خطے کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوں۔انہوں نے اپیل کی کہ پاکستان اور بھارت ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کا پر امن حل تلاش کریں۔دوسری جانب وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور ہندوستان کو او آئی سی کے اجلاس میں مدعو کرنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔وزیر خارجہ نے ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ ہندوستان کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی انتہائی قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان پاکستان میں دراندازی کر رہا ہے اور نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کو او آئی سی کے اجلاس میں مدعو کرنا ہمیں کسی صورت گوارا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر سشما سوراج اوآئی سی اجلاس میں شریک ہوئیں تومیں شرکت نہیں کروں گا۔

سفارتی رابطے

مزید :

صفحہ اول -