فائزر کی آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ‘ پیشنٹ بہبود سوسائٹی کے ساتھ شراکتداری

فائزر کی آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ‘ پیشنٹ بہبود سوسائٹی کے ساتھ شراکتداری

  

لاہور(پ ر)فائزر پاکستان لمیٹڈ (فائزر) نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اور پیشنٹ بہبود سوسائٹی برائے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (پی بی ایس) کے ساتھ شراکت داری قائم کرلی ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد مالی وسائل کے بغیر اور دور دراز پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے کینسر کے مریضوں کو معیاری تھراپی ٹریٹمنٹ تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ گیسٹرو انٹیسٹینل سٹرومل ٹیومر(GIST)، میٹیسٹیک رینل سیل کارسینوما (mRCC) اور پینکریاٹک نیورو انڈوکرائن ٹیومرز(pNET) سے متاثرہ مریض اس شراکت داری سے مستفید ہوں گے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں معاہدہ پر دستخط کرنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی۔ یہ شراکت داری فائزر کے مریضوں تک رسائی کے پروگرام ’’مسیحا‘‘ برائے کینسر مریضان کا حصہ ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے سی ای او ہنس کیڈ زیرسکی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ضرورت مند مریضوں کو علاج معالجہ کی خدمات تک رسائی فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے جو مالی مشکلات کی وجہ سے محروم ہیں تاکہ وہ ہمارے ہسپتال کے چارجز ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ جو مریض مالی معاونت حاصل کرتے ہیں ان کا اتنا ہی خیال رکھا جاتا ہے جتنا دوسرے مریضوں کا رکھا جاتا ہے۔ گزشتہ سال ہم نے بہبود کے پروگراموں پر 2.5 ارب روپے سے زائد خرچ کئے۔ ہمارے انکالوجسٹس اور دیگر ماہرین مریضوں کو بہترین دستیاب علاج معالجہ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں اور ہم مزید مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے اپنی استعداد بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔فائزر پاکستان کے کنٹری منیجر سید وجیہہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بڑی مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ ہم آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اور پیشنٹ بہبود سوسائٹی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مریضوں کی رسائی کے پروگرام میں نمایاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

یہ معاہدہ ضروری ادویات تک رسائی نہ رکھنے والے مریضوں کی صحت عامہ اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے سرگرم اداروں کے درمیان تعاون کی بہترین مثال ہے۔

پی بی ایس کے صدر ندیم مصطفیٰ خان نے فائزر پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ فائزر پاکستان جیسے ہمارے شراکت دار کینسر کی ادویات کی بڑی مقدار عطیہ کر کے مستحق مریضوں کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ہمیں جتنا زیادہ زکواۃ اور عطیات وصول ہوتے ہیں ہم اتنا ہی زیادہ ضرورت مند مریضوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔

مزید :

کامرس -