پولیس جنگلات کی زمینوں پر قبضہ ختم کرانے میں انتظامیہ سے تعاون کرے: مراد علی شاہ

پولیس جنگلات کی زمینوں پر قبضہ ختم کرانے میں انتظامیہ سے تعاون کرے: مراد علی ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کے ساتھ جنگلات کی زمینیں خالی اور ہندو کمیونٹی کے اراکین کی دیگر املاک پر چند لوگوں کی جانب سے غیر قانونی قبضوں کو ختم کرانے کے سلسلے میں تعاون کرے۔ انھوں نے کہا کہ جنگلات کی 70 ہزار ایکڑ رقبہ پر تجاوزات ہیں اور اس میں سے ابھی تک 25 ہزا ر ایکڑ زمین خالی کروائی گئی ہے ، اب محکمہ جنگلات کو بقایا زمین خالی کرانے کے لیے پولیس فورس کی مدد کی ضرورت ہے لہذا انہوں نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اس مقصد کے لیے محکمہ جنگلات کے ساتھ تعاون کریں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ چند ہندو کمیونٹی کے اراکین نے اپنی زمینوں پر غیر قانونی قبضوں سے متعلق شکایتیں درج کرائی ہیں ۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ان زمینوں کو خالی کروا کر ان کا قبضہ قانونی وارثوں کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو ہفتہ وار امن و امان کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئی کہی مگر اس بار یہ اجلاس دو ہفتوں کے بعد منعقد ہوا ہے۔اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ، وزیراعلی سندھ کے مشیر اطلاعات،قانون و اینٹی کرپشن مرتضی وہاب، آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر ، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی، ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ، ایڈیشنل آئی جی اسپشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دل، کراچی کے مختلف زونز کے ڈی آئی جیز اور ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے آئی جیز نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ نمرہ اور قصرناز جہاں پر پانچ معصوم بچے جان بحق جیسے واقعات انکے دل پر بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس قسم کے واقعات کے روک تھام کے لیے مثر اور ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس پانچ مقدمات کے ساتھ شروع ہوا جس میں نمرہ بیگ جوکہ کراس فائرنگ کے وجہ سے جان بحق ہوئی، قصرناز کا سانحہ جہاں پانچ بچے ہلاک ہوگئے، ملیر میں عمارت کا گرنا ، لاڑکانہ میں رونما ہونے والا واقعہ جس میں باجوڑ کے تین محنت کش قتل ہوگئے اور ارشاد رانجھانی قتل کیس شامل ہیں۔ وزیراعلی سندھ کو نمرہ کیس کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس حوالے سے انکوائری جاری ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے رپورٹ وزیراعلی سندھ کو پیش کردی جائے گی۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ فائنل ایئر ایم بی بی ایس کی معصوم طالبہ جس کی عمر بیس سال تھی کے قتل کا واقعہ ایک تکلیف دہ بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بھی کچھ خواب ہونگے اور اسکے خاندان والوں کے بھی مگر یہ تمام خواب بکھر گئے۔ انہوں نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اس واقعہ کی تفصیلی انکوائری کرائیں اور ڈاکوں اور چوروں سے مارکیٹ اور اہم سڑکوں پر نمٹنے کے حوالے سے پولیس کو ضروری تربیت دینا شروع کریں۔ کمشنر کراچی نے وزیراعلی سندھ کو قصرناز میں پانچ جان بحق ہونے والے بچوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لیب رپورٹس کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے والد کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے اہلیہ کو اسپتال لے کر گئے تو انکے بچے بھی تکلیف میں مبتلا تھے مگر وہ ان پر توجہ نہ دے سکے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اللہ تعالی مرحوم بچوں کے والدین کو صبر کی توفیق دے جنہوں نے اپنے بچوں کو کھویا۔ وزیراعلی سندھ نے چیف سیکریٹری کو حکم دیا کہ وہ سندھ فوڈ اتھارٹی کو مزید مضبوط بنائیں اور انہیں ہدایت کریں کہ وہ ریسٹورینٹس اور دیگر کھانے پینے کے مقامات کو چیک کرتے رہیں۔

مزید :

صفحہ اول -