اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 99

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 99
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 99

  

حضرت منصور حلاجؒ عبادت دریاضت کے دور میں مسلسل ایک ہی گدڑی میں زندگی گزارتے رہے اور جب لوگوں کے اصرار پر مجبور ہوکر اس گدڑی کو اتارا تو اس میں تین رتی وزن کے برابر جوئیں موجود تھیں۔

کسی شخص نے آپ کے قریب ایک بچھو کو دیکھ کر مارنے کا قصد کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو مت مارو۔ کیونکہ یہ بارہ برس سے میرے ہی ساتھ ہے۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 98 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

منصور حلاجؒ حجاز میں ایک سال قیام کرنے کے بعد بغداد واپس آئے اور وہاں حضرت جنیدؒ سے نہ معلوم کس قسم کا سوال کیا جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا ’’کہ تو بہت جلد لکڑی کا سر سُرخ کرے گا۔‘‘

حضرت منصورؒ نے جواب دیا ’’جب مجھے سولی دی جائے گی تو آپ اہل ظاہر کا لباس اختیار کرلیں گے۔‘‘

چنانچہ ایسا ہی ہوا جب علماء نے متفقہ طو رپر حسین منصورؒ کو قابل گردن زدنی ہونے کا فتویٰ دیا تو خلیفہ وقت نے کہا کہ حضرت جنیدؒ جب تک فتویٰ پر دستخط نہیں کریں گے مَیں منصور کو پھانسی نہیں دے سکتا۔‘‘

جب یہ اطلاع حضرت جنیدؒ کو پہنچی تو آپ نے مدرسہ میں جاکر پہلے علماء ظاہر کا لباس زیب تن کیا اور اس کے بعد یہ فتویٰ دیا’’ہم ظاہر کے اعتبار سے منصورؒ کو سولی چڑھانے کا فتویٰ صادر کرتے ہیں۔‘‘

***

ایک مرتبہ علاؤالدین خلجی نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خدمت پانچ سو اشرفیاں نذر بھیجیں۔ اس وقت ایک فقیر آپ کے پاس بیٹھا تھا۔ اس نے کہا ’’بابا! اس میں نصف حصہ میرا ہے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’نہیں، بلکہ سب تمہارا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر تمام اشرفیاں اُسے دے دیں۔

***

ایک شخص روزانہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو گالیاں دیتا تھا۔ آپ اس کے بدلہ میں روزانہ ہی اسے دو اشرفیاں دیا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ لوگوں نے اسے غیر ت دلائی تو اس شخص نے آپ کو گالیاں دینا ترک کردیا اور وعدہ کیا کہ ’’میں اب آپ کی شان میں گستاخی نہیں کروں گا۔‘‘

چنانچہ جب اس روز آپ کی خدمت میں گیا تو چپ رہا مگر جب چلنے لگا تو اپنا وظیفہ مانگا۔

آپ نے فرمایا ’’میرا حق بھی مجھے دے دو۔‘‘

کہتے ہیں، ایک مدت کے بعد جب اس کا انتقال ہوا اور آپ کو اطلاع ہوئی، تو آپ اس کی قبر پر گئے اور یہ دعا کی ’’اے پروردگار! اس کو بخش دے۔ میں نے اس کی غلطیوں کوبخش دیا ہے۔

***

حضرت شیخ علی ہجویریؒ کشف المحبوب میں ایک روایت نقل کرتے ہیں۔

’’بصرہ کا ایک رئیس اپنے باغ میں آیا تو ایک بہت خوبصورت عورت پر نظر پڑی۔ یہ باغبان کی بیوی تھی۔ اور خوبصورت ہونے کے علاوہ خدارسیدہ بھی تھی۔ لیکن رئیس اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اس نے عورت کی ظاہری غربت سے فائدہ اٹھانے کے لیے باغبان کو کسی بہانے باہر بھیج دیا اور جب عورت اکیلی رہ گئی تو اس سے مخاطب ہوکر بولا ’’سارے دروازے بند کردو۔‘‘

باغبان کی بیوی بولی ’’مَیں سارے دروازے تو بند کردوں گی لیکن ایک دروازہ نہ تو مجھ سے اور نہ ہی کسی اور سے بند ہوسکے گا۔‘‘

رئیس نے غصے سے پوچھا ’’وہ کون سا دروازہ ہے؟‘‘

باغبان کی بیوی نے جواب دیا ’’وہ دروازہ جو ہمارے اور ہمارے خدا کے درمیان ہے۔‘‘

رئیس اس جملہ سے اس قدر متاثر ہوا کہ پہلے تو اس عورت سے معافی مانگی پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر اپنے گناہ سے توبہ کرنے لگے۔

***

ایک شخص دس برس تک حضرت جنیدؒ کی خدمت میں رہا۔ ایک دن اس نے عرض کیا۔ 

’’حضور! اتنی مدت تک آپ کی خدمت میں رہا ہوں مگر آپ کی کرامات نہیں دیکھ سکا۔‘‘ حضرت جنید ؒ نے فرمایا ’’کیا تم نے اس مدت میں کوئی خلاف شریعت کام مجھ سے سرزد ہوتے دیکھا ہے۔‘‘ یا کوئی ایسا عمل دیکھا ہے جو سنت رسول ﷺ کے مطابق نہ ہو۔‘‘

اس نے عرض کیا ’’نہیں۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’تو اس سے بڑی کرامت اور کیا ہوسکتی ہے۔‘‘(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 100 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اللہ والوں کے قصے -