داعش کے کارکنوں کا علاج کرنے والا شخص بڑی مشکل میں پھنس گیا

داعش کے کارکنوں کا علاج کرنے والا شخص بڑی مشکل میں پھنس گیا
داعش کے کارکنوں کا علاج کرنے والا شخص بڑی مشکل میں پھنس گیا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ سے فرار ہو کر شام جانے اور شدت پسند تنظیم داعش میں شامل ہو کر اس کے کارکنوں کا علاج کرنے والا ڈاکٹر بڑی مشکل میں پھنس گیا۔ میل آن لائن کے مطابق 44سالہ محمد انور میاہ نامی یہ فزیشن برطانوی شہر برمنگھم کا رہائشی تھا جو 2014ءمیں شام جا کر داعش میں شامل ہو گیا تھا۔ داعش میں شمولیت کے بعد اس نے اپنا نام تبدیل کرکے ’ابوعبیدالبریطانیہ رکھ لیا اور بطور ڈاکٹر اپنی خدمات داعش کو فراہم کرتا رہا۔ داعش کی شکست کے بعد دیگر شدت پسندوں کے ساتھ اسے بھی کرد فوج نے گرفتار کر لیا اور اب وہ شام کی ایک جیل میں قید ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب محمد انور واپس برطانیہ جانا چاہتا ہے لیکن برطانیہ اسے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ محمد انور کا کہنا ہے کہ ”میں برطانیہ کا ایک ذمہ دار شہری ہوں۔ میں نے ہمیشہ ٹیکس ادا کیا اور کبھی کوئی بینیفٹ کلیم نہیں کیا۔ اب میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ واپس برطانیہ جانا چاہتا ہوں۔“تفتیش میں محمد انور نے شدت پسندوں کا علاج کرنے کی تردید کی اور بتایا کہ وہ داعش کے زیرقبضہ شام کے شہر میادین میں چار سال تک رہائش پذیر رہا اور وہاں اسسٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن کے طور پر کام کرتا رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ ”میں نے کبھی داعش میں شامل نہیں ہوا۔ میں اگرچہ غیرقانونی طور پر شام گیا لیکن میری مقصد جنگ زدہ ملک کے لوگوں کی مدد کرنا تھا، شدت پسندوں کی مدد میں نے نہیں کی۔“

رپورٹ کے مطابق محمد انور نے شام جانے کے بعد ایک شامی خاتون کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ گزشتہ سال اگست میں جب داعش کو میادین میں شکست ہوئی تو وہ اپنی بیوی اور اس سے پیدا ہونے والی 9ماہ کی بیٹی مریم کو لے کر ایک موٹرسائیکل پر فرار ہواتاہم راستے میں اسے سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے گرفتار کر لیا۔ فورسز نے اسے اس کی بیٹی اور 4ماہ کی حاملہ بیوی سے الگ کرکے ایک جیل میں قید کر دیا۔اس کی بیوی اور بیٹی کو ایک پناہ گزین کیمپ میں پہنچایا گیا جہاں اس کی بیوی نے دوسرے بچے کو بھی جنم دے دیا جس کی عمر اب چند ماہ کی ہے۔ اب محمد انور کا کہنا ہے کہ ”میں اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر برطانیہ واپس جانا چاہتا ہوں اور وہاں ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہوں۔ برطانیہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دے اور ان کی ری ہیبلی ٹیشن کا انتظام کرے۔ “ تاہم برطانیہ نے محمد انور کو واپس ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -عرب دنیا -