اشیائے خورو نوش میں ملاوٹ عوام دشمنی ہے

اشیائے خورو نوش میں ملاوٹ عوام دشمنی ہے
اشیائے خورو نوش میں ملاوٹ عوام دشمنی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


انسان کی کہانی کچھ کھانے سے شروع ہوئی…… جب آدم علیہ السلام نے انسانی تجسس سے مجبور ہو کر ایک پھل چکھا اور عرش سے فرش پر آ پہنچے۔ پھر کیا تھا اللہ تعالیٰ کی زمین پر انواع و اقسام کی نعمتیں حضرت انسان کے ماحضر کے لئے حاضر تھیں۔ دنیا کے کھانے انسان کو اس قدر بھائے کہ من و سلویٰ کو ترک کرکے زمینی کھانوں کا مطالبہ کر بیٹھا۔ انسان کے طعام کی جمالیاتی حس بھی اللہ تعالیٰ نے کمال کی بنائی ہے۔ کھانے کے ذائقے بے شمار ہیں، مگر پھر بھی نئے ذائقوں کی تلاش جاری رہی۔ اللہ کریم بھی اپنی پسندیدہ مخلوق کی ناز برداری کرتے ہیں، حتیٰ کہ قرآن مجید میں جہاں جنت کے مناظر اور مظاہر کی نقشہ کشی کی گئی تو مختلف قسم کے لذیز اور منفرد پھلوں اور میوہ جات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جو اہل جنت کے شکم میں اترنے کے لئے بے تاب ہیں۔

خوش خوراکی صاحب ذوق افراد کی عادت ثانیہ ہے۔ انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بسا اوقات ہجرت کی وجہ کھانے کی ضرورت اور پانی کی دستیابی بھی تھی۔ انسان زمین کے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک پھیل گئے اور ہر خطے میں بسنے والوں نے الگ الگ ذائقے متعارف کروائے، بلکہ بعض مقامات تو کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے شہرت بھی پا گئے۔ کئی دہائی قبل ہر شہر میں بلدیہ کا بابو کبھی کبھار ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دوسری اشیاء کی دکانوں کو چیک کر لیا کرتا تھا،پھر ایسا وقت آیا کہ ہر بازار میں ہر دوسری تیسری دکان اشیائے خور و نوش کی ہو گئی اور اشیائے خور و نوش کی تیاری اور فروخت کرنے والے بعض ستم ظریفوں نے قانون کو گھر کی لونڈی بنا لیا،خوفِ خدا بھی بھلا بیٹھے اور کھانے پینے کی اشیاء میں ایسے ایسے اجزاء شامل کئے گئے کہ آدمی کا جسم کانپ اٹھتا ہے۔


پاکستان میں غذائی اشیاء کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے قانون موجود ہے، مگر اس قانون کا استعمال ندارد، کیونکہ لالچ اور خود غرضی نے انسان کو انسان کا دشمن بنا دیا ہے، اسی لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی بنائی گئی، کیونکہ صحت مند اور معیاری خوراک ہر انسان کا حق ہے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لئے ہوا اور پانی کے بعد غذا کی ضرورت ہے۔غذا بھی کون سی، جو اس کی جسمانی ضروریات کو پورا کرے، لیکن پنجاب میں حیران کن اور پریشان کن حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کوششوں کے باوجود جعلی دودھ سپلائی کرنے کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ دودھ سپلائی کرنے والوں نے اپنا ٹائم اور گاڑیاں بدل لی ہیں، اب وہ خفیہ راستے استعمال کر رہے ہیں۔سپلائی کرنے والی جگہوں پر ٹرک اور گاڑیاں کھڑی کرکے بھی جعلی دودھ تیار کر لیتے ہیں اور بڑی دلیری اور بے خوفی سے جعلی دودھ سپلائی کر رہے ہیں۔

حکومت کی توجہ بھی اس طرف شائد کچھ کم ہو گئی ہے، مگر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ عوام کو جعلی اشیاء کھلانا دشمنوں کا ایک ہتھیار ہے جو آج کل بڑی تیزی اور بے خوفی سے جاری ہے۔ معاشرے میں اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ جان بچانے والی دوائیاں بھی جعلی فروخت ہو رہی ہیں۔ مرچوں میں اینٹوں کا رنگ، چائے کی پتی میں چنوں کے چھلکے ملائے جاتے ہیں، غرضیکہ معاشرے میں جعلی اشیاء تیار کرنے اور سپلائی کرنے والوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ حکومتی ادارے اس طرف توجہ کیوں نہیں دے رہے؟ متعلقہ اداروں کے افسر اپنی ذمہ داریاں پوری کیوں نہیں کر رہے؟ جعلی اور ملاوٹ شدہ اشیاء کھانے کی وجہ سے عوام مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔


ایک رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں غذائیت کی کمی کی وجہ سے 44فیصد بچے جسمانی نشوونما کے عمل میں تعطل کا شکار ہیں۔62فیصد بچے فولاد، 39فیصد زنک کی کمی کا شکار ہیں۔ خواتین میں زنک، آئرن اور فولک ایسڈ کی کمی کا تناسب 39سے 51فیصد ہے، جبکہ مجموعی آبادی کا59 سے 64فیصد حصہ وٹامن اے اور ڈی کی کمی کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔ ان اجزاء کی غیر موجودگی قوت مدافعت میں کمی، بھوک میں کمی، سانس کی بے قاعدگی، نیند کی کمی اور ذہنی تناؤ سمیت درجنوں ایسے امراض کا باعث بنتی ہیں، جن کا آج کل کم و بیش ہر فرد کسی نہ کسی طرح شکار ہو رہا ہے۔ اس صورت حال میں حکومت کو اپنا فرض پورا کرنا چاہیے۔ بلاشبہ حکومت نے فوڈ اتھارٹی کو فعال کرنے کی بہت کوشش کی ہے، لیکن مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ سنا ہے کہ پنجاب میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری وجود میں لائی جا رہی ہے،جو عالمی معیار کی ہو گی۔ اس کی منظوری ہو چکی ہے، اس سے سیمپل بھی خراب نہیں ہوں گے،ان کا رزلٹ صحیح آئے گا اور جعلی اشیاء تیار کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے کر مقدمات بنائے جائیں گے۔

یہ بھی شنید ہے کہ فوڈ اتھارٹی اپنے سپیشل کورٹ بنا کر مقدمات کے جلد فیصلے کروائے گی، جس کی سخت ضرورت ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے جو عوام کو صحیح اور معیاری خوراک اور دوائیاں سپلائی کر رہے ہیں مگر جو لوگ گھروں اور فیکٹریوں میں جعلی اشیاء تیار کرتے ہیں، فوڈ اتھارٹی کو خفیہ طور پر کام کرکے ان کا پتہ لگانے کی ضرورت ہے۔ عوام کو مہنگائی کے ساتھ ساتھ جعلی اشیاء کھلانا بہت بڑا ظلم اور زیادتی ہے۔ آخر کب تک پاکستانی عوام اس ظلم کو برداشت کریں گے؟

مزید :

رائے -کالم -