ٹی وی اینکر کا پیمرالاہورکے دفتر پر دھاوا،سینئر عہدیدارکومہمانوں سمیت یرغمال بنالیااور پھر۔۔۔ میڈیا انڈسٹری کا سب سے بڑا سکینڈل سامنے آگیا

ٹی وی اینکر کا پیمرالاہورکے دفتر پر دھاوا،سینئر عہدیدارکومہمانوں سمیت ...
ٹی وی اینکر کا پیمرالاہورکے دفتر پر دھاوا،سینئر عہدیدارکومہمانوں سمیت یرغمال بنالیااور پھر۔۔۔ میڈیا انڈسٹری کا سب سے بڑا سکینڈل سامنے آگیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی عمر چیمہ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں جو کہ سب سے پہلے دی نیوز پر شائع ہوئی میں انکشاف کیا ہے کہ ایک اینکر نے پیمرا کے ایک اعلیٰ عہدیدار کوواٹس ایپ کال کی۔ اس اینکر نے لاہور میں پیمر کے دفتر پر دھاوا بولتے ہوئے نہ صرف چیخ وپکار کی بلکہ اپنے ساتھیوں سے کہاکہ وہ دفتر کا محاصراکر لیں ۔انہوں نے دفتر کے دروازے بند کر ادیے اور کہا کسی کو اندر یا باہرآنے جانے سے روک دیا۔

سینئر صحافی عمر چیمہ کے مطابق اینکر کی سکیورٹی پر مامور تین پولیس اہلکار بھی پیمرا لاہور کے دفتر پر قبضے میں اس کی مددکرتے رہے۔جبکہ اینکر کے ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس دو ایسے افراد بھی ساتھ تھے جو ہرے نمبرپلیٹ والی ٹیوٹا کرولا گاڑی پر آئے تھے۔

عمر چیمہ کے مطابق اینکر نے شور وغوغا کرتے ہوئے پہلے سی سی ٹی وی کیمروں کا دریافت کیا اوراس کے بعداپنے ساتھیوں کو ڈیٹا قبضے میں لینے کی ہدایت بھی کردی۔نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق اینکر جاتے ہوئے ریکارڈ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس پریشان کن صورتحال میں پیمرا لاہور کے ریجنل جنرل منیجر اپنے دفتر سے باہر نکلے اور پریشان کن صورتحال پیدا کرنے والے اینکر کو دفتر میں آکر تحمل سے بات کرکے اپنی شکایت بتائیں۔

موصوف ریجنل جنرل منیجر کے دفتر پہنچے تو ساتھی پولیس اہلکاروں سے کہا دروازہ اندر سے بند کرکے الرٹ ہوجائیں اور یوں نہ صرف ریجنل جنرل منیجر کو بلکہ ان کے دومہمانوں کو بھی سرکاری دفتر میں یرغمال بنالیاگیا۔

رپورٹ کے مطابق اس ساری صورتحال کے بعد اینکر نے اسلام آباد میں پیمرا کے ایک افسر کو کال کی اور سپیکر کھول کر کچھ یوں گویا ہوئے،”تم اپنی نوکری برقراررکھنا چاہتے ہویانہیں“ دوسری جانب سے جواب آیا،”جی میں کام کرنا چاہتا ہوں“۔

اینکر نے اگلا سوال کیا کہ”اگر میں تم سے کہوں کہ اپنے اختیارات مجھے دے دو تو کیا تم ایسا کروگے؟“ جواب آیاکہ”جی میں کردوں گا“

تیسرا سوال کچھ یوں تھا کہ ،”اگر میں تمہیں فون کال پر ایک گھنٹے کیلئے انتظار کراﺅں توکیا تم کال کاٹ دو گے یا انتظار کرو گے؟“ سرکاری افسر کا جواب آیاکہ،”جی میں انتظار کروں گا۔“

عمر چیمہ کے مطابق اس کے بعد اس سینئر عہدیدار نے نہ صرف اینکر سے پیمرا کو معاف کردینے کی درخواست کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ لاہور آکر ان سے معذرت کریں گے۔بات چیت اختتام پذیر ہوگئی اور ساری کارروائی کے دوران آر جی ایم پیمرا لاہور خاموش تماشائی بنے رہے۔

عمر چیمہ اپنی رپورٹ میں واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مذکورہ اینکر نے ٹی وی پروگرام میں دو صوبائی وزرا پر کرپشن کاالزام لگایا تھا تاہم وہ اسے سچ ثابت نہ کرسکے اس لئے پیمراکی شکایت کونسل (کونسل آف کمپلینٹس) نے دوصوبائی وزراءکی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اس اینکرپرپانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا جس کی چیئرمین پیمرا نے بھی منظوری دے دی۔

رپورٹ کے مطابق تیرہ جنوری کو ہی جرمانے کی دستاویزات اس اینکر پر پہنچی تھیں اور اسی دن ہی اس نے پیمرا لاہور کے دفتر پر دھاوابولا۔

جیسے ہی سینئر پیمرا عہدیدار کی جانب سے سے یقین دہانی کرائی گئی معاملہ ”حل ہوگیا“ ۔ اینکر تین بجے سے شام چھ بجے تک اسی دفتر میں ہی رہا، دس پیزا منگوانے کے آرڈرزدیئے جن کی تعمیل ہوئی اور سب نے ملکر کھایا۔

اس دوران اینکر نے تمام لوگوں سے پریشانی کی وجہ بننے پر معذرت کی اور ”وہاں یرغمال افراد کو اپنی طاقت اور اثرو رسوخ کا بتایا، عدلیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں میں بڑے بڑے لوگوں کے نام لیکر اس اینکر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی وہ بہت ہی با اثر شخص ہے اور اسے مذکورہ اداروں کی حمایت حاصل ہے۔“

عمر چیمہ لکھتے ہیں کہ آر جی ایم کی رپورٹ کوانتہائی خفیہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ”اس اینکر نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اسے سپریم کورٹ نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کو سیل کر سکتا ہے اور اس کے پاس ایسا کرنے کیلئے گاڑی میں مہریں بھی موجود ہیں۔ حوالے کے طور پر اس نے ایک واقعے کا ذکر کیا جس میں اس نے تین دن قبل ایک سپتال کو سیل کر دیا تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی