کورونا وائرس کا مشتبہ مریض بھاگ کر عدالت پہنچ گیا، کمرہ عدالت میں افراتفری پھیلا دی

کورونا وائرس کا مشتبہ مریض بھاگ کر عدالت پہنچ گیا، کمرہ عدالت میں افراتفری ...
کورونا وائرس کا مشتبہ مریض بھاگ کر عدالت پہنچ گیا، کمرہ عدالت میں افراتفری پھیلا دی

  



کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کے خوف میں پوری دنیا مبتلا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت میں کورونا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کے ہسپتال سے فرار ہونے کی خبر آئی تھی، اب ویسی ہی خبر آسٹریلیا سے آ گئی ہے جہاں ایک چینی شہری طبی قید سے فرار ہو کر عدالت پہنچ گیا اور کمرہ عدالت میں افراتفری مچا دی۔

میل آن لائن کے مطابق اس 24سالہ چینی نوجوان کا نام کنگ لی وین ہے جو حال ہی میں چین سے آسٹریلیا واپس پہنچا ہے۔ کنگ لی کی طبیعت خراب ہوئی جس پر وہ ہسپتال گیا اور وہاں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے شبے میں اسے طبی قید میں رکھنا چاہا لیکن وہ فرار ہو گیا اور وکیل کے ذریعے عدالت سے رجوع کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ آسٹریلوی شہر میلبرن کا ہے اور میلبرن کی ایک عدالت میں کنگ لی نے طبی قید سے بچنے کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے مگر خوف ایسا ہے کہ کنگ لی کے وکیل نے بھی اس سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا، حالانکہ وہ عدالت میں اس کا کیس لڑ رہا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائرس کا مریض نہیں ہے چنانچہ اسے طبی قید میں نہ رکھنے کا حکم دیا جائے۔

کنگ لی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ”میں بھی کورونا وائرس سے بہت خوفزدہ ہوں اور میں نے اپنے موکل سے ہاتھ بھی نہیں ملایا تھا کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں مجھے بھی وائرس لاحق نہ ہو جائے۔ مجسٹریٹ نے بھی اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے آدمی کا عوام کے درمیان رہنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے جس کے متعلق شبہ ہو کہ وہ کورونا وائرس کا مریض ہے۔

مزید : بین الاقوامی