شرپسند عناصر کون تھے اور کہاں سے آئے تھے ؟دہلی فسادات کےحوالے سےاب تک کا اہم انکشاف سامنے آگیا

شرپسند عناصر کون تھے اور کہاں سے آئے تھے ؟دہلی فسادات کےحوالے سےاب تک کا ...
 شرپسند عناصر کون تھے اور کہاں سے آئے تھے ؟دہلی فسادات کےحوالے سےاب تک کا اہم انکشاف سامنے آگیا

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں  ہندو انتہا  پسند جماعتوں آر ایس ایس اور بھارتیہ   جنتا پارٹی  کے  شر پسندوں کی جانب سے نئی دہلی میں مسلمانوں کے خلاف    ہونے والے حملوں میں  اب تک کی اطلاعات  کےمطابق  36افراد جاں بحق جبکہ250   سےزائد  زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دہلی فسادات  کےحوالے سے  ہر گذرتے  دن کے ساتھ ایسے انتہائی  ہولناک انکشافات منظر عام پر  آ رہےہیں جنہیں  جان کر مودی سرکار دنیا میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ  رہے گی ۔

بھارتی  میڈیاکے مطابق  دہلی فسادات کے حوالےسے کئی طرح کے انکشافات سامنے آرہے ہیں،دہلی پولیس  کاکہنا ہے کہ شرپسند عناصر جنہوں نے قتل و غارت  اور لوٹ مار کا بازار  گرم کیا وہ باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ آئے اور شرپسند عناصر کا  تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش سے  سامنے آیا ہےجہاں کے وزیر اعلیٰ اور  نریندر مودی کے قریبی ساتھی    یوگی آدتیہ  ناتھ کی دہشت گردی  اور مسلم دشمنی کسی سے بھی چھپی ہوئی نا ہے ۔دہلی پولیس کا کہنا تھا کہ  فسادات کے دوران شرپسند  عناصر  واٹس ایپ پر متحرک تھے اور کئی واٹس ایپ گروپوں اور مشتبہ کرداروں کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ 

دہلی پولیس کا کہنا ہےکہ سوموار کےروز  سے شروع ہونے والے فسادات پوری    منصوبہ بندی کے ساتھ سرانجام دیئے گئے،پولیس  نے فسادات کولےلیکر 18  ایف آئی آرز درج کرتے ہوئے 110شرپسندوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔بھارتی   میڈیا کے مطابق دہلی فسادات  کے دوران پولیس  کو شرپسندوں  کےقبضے سے ملنے والے موبائل فونز سے  اہم انکشافات سامنے آئےہیں جن کے مطابق مسلمانوں کے خلاف تشدد  باقاعدہ منصوبہ بندی سے شروع کیا گیا  اور شر پسندعناصر  اپنے ساتھ  مار  پیٹ کا سامان بھی لائےجبکہ فسادات سے   قبل  واٹس ایپ  پر مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز  تقریروں اور ویڈیوز  کا بھی  سہارا لیا گیا ۔دہلی  پولیس کے  مطابق فسادات میں ملوث شرپسندوں  کی بڑی  تعداد دیگر ریاستوں سے  دہلی آئی تھی جبکہ  اترپردیش سے بڑی تعداد میں شرپسند  عناصر دہلی آئے اور مسلمانوں کا  قتل عام،لوٹ ماراور گھیراؤ جلاؤ میں ملوث پائے گئے ۔یاد رہے کہ بھارتی ریاست اترپردیش  کے وزیر اعلیٰ یوگی  آدتیہ ناتھ  ہندوستان بھرمیں اپنی مسلم دشمنی اور  انتہا  پسندی کے حوالے سےمشہورہیں جبکہ  وہ نریندر مودی کے بھی انتہائی بااعتماد ساتھیوں  میں شمار ہوتے ہیں ۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دہلی فسادات کے دوران شرپسند  ہندو   قتل عام  کرنے کے ساتھ  ساتھ  لوٹ مار اور سرکاری عمارات میں ڈکیتیاں بھی کرتے رہے جبکہ  دہلی فسادات میں اب تک کی  اطلاعات کے مطابق   36 افراد جاں  بحق اور 250 سےزائد شدید زخمی ہیں ۔ 

مزید : بین الاقوامی