”اجزاء کی پریشانی“

”اجزاء کی پریشانی“
”اجزاء کی پریشانی“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 بروز ہفتہ13جنوری2021ء اذّیت ناک خبروں میں اضافہ کرتے ہوئے ایک اورتکلیف دہ خبراخبارمیں شائع ہوئی کہ ایبٹ آباد میں ایک خاندان کے پانچوں افراد گیس کے اخراج کی وجہ سے دَم گھٹنے پراللہ کو پیارے ہو گئے۔ بظاہر یہ خبراپنے جیسی بے شمارخبروں میں سے ایک تھی،مگر میری نظربار بارخبر کے درمیان میں موجود الفاظ ”دَم گھٹنے“ پر مرکوز ہو جاتی رہی۔ موت بلاشبہ دَم گھٹنے سے ہی واقع ہوتی ہے، دَم چاہے گیس کے اخراج سے گھٹے،گلے میں پھندا ڈالنے سے،دل کادورہ پڑنے سے یاکسی بھی اور وجہ سے گھٹے۔ ہر صورت میں سانسوں کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے تو موت واقع ہوتی ہے۔ شاعر نے زندگی اور موت کے درمیان اس فرق کو اپنے الفاظ میں یوں سمویا ہے۔    ؎


زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
اجزاء کی اِس ترتیب کا قائم رہنا یا اس میں فتور کا پیدا ہونا ہر سُو گونج رہا ہے۔ایک خبر کے مطابق ایک باپ نے اپنی حقیقی بیٹی کو بداخلاقی کا نشانہ بنایا۔ آئے روز، معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کی کتنی خبریں ہماری نظروں سے گزرتی ہیں۔ان میں سے اکتوبر 2020ء میں ایک دو سال کی معصوم کَلی کو بعدازتسکین ِ ہوس قتل کرنے کا واقعہ سُن اور پڑھ کر ”دَم گھٹتا“ہے۔اسی طرح اکتوبر 2019ء میں خبر سامنے آئی کہ اسلام آباد میں اٹھارہ سالہ نوجوان نے مرضی کی لڑکی سے شادی سے انکار پر سگی ماں کو خون میں نہلا دیا۔ایسی بیسیوں خبریں آئے روز اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں اور ٹی وی چینلز کی ریٹنگ بڑھانے کا موجب ٹھہرتی ہیں۔ یہ تمام خبریں ایک ہی محور کے گِرد گھومتی ہیں اور وہ ہے ”دَم گھٹنے“ سے موت واقع ہوتی ہے۔ جسے شاعر نے اجزاء کی پریشانی کا نام دیا ہے۔اِن تمام واقعات میں ہمیں ”اجزاء“ پریشان دِکھائی دیتے ہیں۔”باپ سَردے تاج محمد“ ہوتا ہے۔بیٹیوں کی عِصمت، اُن کے ارمانوں اوراُن کے دوپٹے کی لاج کہلاتی ہے، جب وہ خود بیٹی کے سر سے دوپٹہ نوچتا ہے تو یقینا اِس کے پیچھے ”اجزاء کی پریشانی“ مضمر ہوتی ہے،جس سے پڑھنے، سننے والے کا”دَم گھٹتا“ ہے۔ماں کے پاؤں تلے خالقِ کائنات نے جنت رکھ دی۔ اس کی ایک بار کی زیارت کو مقبول حج کا درجہ دے دیا۔ جب اس کی تحقیر اور جان کشی،اُس کا لخت ِ جگر اپنے ہاتھوں سے کرتا ہے تو ”اجزاء کی پریشانی“ اس کاواضح سبب ہوتی ہے۔ 


اجزاء کی پریشانی اور دَم گھٹنے کاآپس میں گہرا تعلق ہے۔ ہم آئے روز اپنے چار سُو رُونُما ہونے والے”دَم گھٹنے“ کے واقعات کے چشم دِیدگواہ ہیں۔مختلف اَشکال میں موت ہر جگہ َرقص کِناں ہے۔ دل مردہ ہیں، احساسات مردہ ہیں، سوچیں ہوس کی دَبیز کڑیوں میں جکڑی ہیں۔ ”اجزاء“ ترتیب بھول چکے ہیں۔ کوئی شعبہئ زندگی تو ایسا ہو، جہاں یہ ترتیب اپنی اصل صورت میں دعوتِ نظارہ دیتی ہو۔مذہبی اداروں سے لے کر ایک ادنیٰ پیشہ تک اجزاء کی پریشانی اذانِ زیاں دے رہی ہے۔ کَلیسا ہو، مسجد ہو، مدرسّہ ہو،سکول ہو، بچوں کی زنجیروں میں جکڑی، اُلٹی لٹکتی، ظلم اور بربریت میں گُندھی جامد اور حرکتی تصاویر ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر رونگٹے کھڑی کرتی رہتی ہیں۔پارسا چہرے، دِیدہئ زِیب لباس پہنے اپنے ہم جنسوں کو ایک ہی وار میں درجنوں اورسینکڑوں کی تعداد میں بوٹی بوٹی کرتے ملتے ہیں۔

ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں اندرونی اور بیرونی زخموں سے چُور،بے کَس و بے بس مریض،ذہنی و طبّی داد رسی کیلئے ہسپتالوں کے برآمندوں میں لڑکھڑاتے نظر آتے ہیں، جہاں محدودِ چند، خدا ترس انسانوں کے،”مسیحاؤں“ کی لاپرواہی،زبان زدگی اور عدم حاضری الگ طُرفہ تماشہ ہے۔ سرکاری دفاترکی غلام گردشوں میں سائلین پیکر ِ سوال دِکھائی دیتے ہیں۔ کچھ اور ”عَرفہ“ اداروں میں سائلین کے چہروں پر حسرت و یاس بوند بوند ٹپکتی دِکھائی دیتی ہے۔ جدھر نظر اُٹھائیں ”دَم گھٹنے“ کا وافر سَماں موجود ہے ”دَم گھٹنے“ کے یہ مناظر معاشرے کی حالت ِ نزع کی تصویر کشی کرتے ہیں۔دَم گیس کے اخراج سے ہی نہیں گھٹتا،بلکہ جب اہل ِ معاشرہ کے دِل مردہ ہو جائیں۔احساسات دم توڑ جائیں اور سوچیں زہر آلود ہو جائیں، تو ”اجزاء کی یہ پریشانی“ ”دَم گھٹتے“ معاشرے کی نشاندہی کرتی ہے۔


 میرے گاؤں کے وارث بھٹی کو کسی اہم کام کے سلسلہ میں دور دراز کے گاؤں جانا تھا۔ وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے گاؤں کو جانے والی آخری بس نکل گئی۔ کام کی اہمیت کے پیش ِ نظر اُس نے رات کی تاریکی میں پیدل رخت ِ سفر باندھا۔ گاؤں کے قریب پہنچا تواُس کے پیچھے پالتوکتوں کا ایک غول لگ گیا، جن میں ایک بُولی کتا بھی تھا۔بقول وارث جب وہ پہلے اُس گاؤں میں جاتا تھا تواُس بُولی کتے کے مالکوں کے ہاں کھاناکھاتے ہوئے روٹی کا ٹکڑا اُس کتے کو ڈال دیاکرتا تھا۔ آج جب وہ کتے اُس پر حملہ آور ہوئے، تووارث نے، دیہاتی سمجھ بوجھ کے مطابق، کتوں کو پچکارا۔شاید بُولی کتے کو اُس کے ہاتھوں سے کھائے ہوئے روٹی کے ٹکڑے یاد آگئے۔ وہ پہلے وارث کے پاؤں پر لوٹ پوٹ ہوا،پھردوسرے کتوں کے پیچھے پڑ گیا اور اُن سے بحفاظت وارث کو اپنے مالکوں کے ڈیرے پرلے گیا۔لگتا ہے ابھی کتوں کے دِل، سوچیں اور احساسات ”اجزاء کی پریشانی“ سے دو چار نہیں ہوئے۔بطورِ انسان ہمیں اپنا تجزیہ کرنا ہے کہ اجزا ء کی پریشانی سے ہمارا دَم گھٹ چُکا ہے یا ابھی ہماری رگوں میں زندگی کی رمق باقی ہے۔  بقولِ شاعر    ؎
خدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے
مُردہ دل کیا خاک جئیا کرتے ہیں 

مزید :

رائے -کالم -