حاجی عبدالرزاق کی قابل ِ فخر خدمات 

حاجی عبدالرزاق کی قابل ِ فخر خدمات 

  

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم مالیات حاجی عبدالرزاق وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

آپ نے پہلی مرتبہ لاہور کے صوبائی حلقہ PP-121 سے عام انتخابات 1993ء میں حصہ لیا۔ آپ کے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار جہانگیر بدر تھے، جن کا شمار اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ جن کو آپ نے واضح اکثریت سے شکست دی اور ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسی طرح آپ 1997ء کے الیکشن میں دوبارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صوبائی حلقہ PP-121  سے میدان میں اترے۔آپ نے اپنے حلقے کے عوام کی بہتری میں بھر پور کردار ادا کیا۔ ہمیشہ جائز کام کیے اور خدمت خلق کو فروغ دیا۔ کبھی مالی بدعنوانی نہ کی۔ بطور MPA آپ کے پاس حلقہ سے بلکہ پاکستان بھر سے جماعتی لوگ اپنے مسائل لے کر آتے، آپ نے ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور بہترین رویہ اپنایا۔

کوئی سائل آتا تو آپ نے کبھی اسے خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ نیکی اور خوف الٰہی کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی امیر، ناظم اعلیٰ صاحب کے حکم پر ان کے ہاں چندہ کی غرض سے حاضر ہوئے۔ مجھے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔ سلام دعا کے بعد جب آپ نے سائل سے غرض پوچھی تو انہوں نے تعارف کرانے کے ساتھ ان کی مسجد میں اپیل پر اصرار کیا۔ آپ نماز ظہر ادا کرنے ان کے ساتھ چل دیئے۔ نماز ادا کرنے کے بعد مولانا موصوف نے چندہ کی اپیل کی اور پیچھے، یعنی مسجد کے گیٹ پر اپنی چادر بچھا کر بیٹھ گئے۔ حاجی عبدالرزاق مرحوم سنتیں ادا کرنے کے بعد ان کے پاس آئے اور پچاس ہزار روپے نکال کر چادر میں رکھ دیئے تو مولانا موصوف نے کہا کہ آپ چندہ جمع کرنے کی غرض سے یہاں میری جگہ بیٹھیں، مَیں نماز ادا کر لوں۔ آپ وہاں بیٹھ گئے اور لوگوں سے چندہ وصول کرتے رہے۔ یہ آپ کی سادگی اور نیکی تھی کہ آپ نے اللہ کے دین کے لیے اس کام میں عار یا شرمندگی محسوس نہ کی۔

اسی طرح حاجی عبدالرزاق مرحوم نے ساری زندکی اللہ کے خوف اور ڈر میں گذاری اور دین اسلام پر کاربند رہے۔ خوفِ الٰہی کبھی ان کے دنیاوی کاموں میں حائل نہ ہوا۔ انہوں نے ہمیشہ دین کو اول درجہ دیا، وہ اللہ کے دین اور مسلک اہل حدیث کی خدمت کرتے رہے۔ آپ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ ایام بیض کے روزے (چاند کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ کو) باقاعدگی کے ساتھ رکھتے اور تسلسل کے ساتھ سوموار اور جمعرات کے روزے کا بھی اہتمام فرماتے۔ اسی طرح آپ ہر سال عمرہ ادا کرنے سعودی عرب جاتے، آپ نے بے شمار حج اور عمرے ادا کیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حسنات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ آپ حسد وبغض سے پاک شخصیت کے مالک تھے۔ کبھی کسی سے جھگڑا ہو جاتا تو اس اختلاف کو دل میں نہیں رکھتے تھے، بلکہ معاف فرما دیتے۔

مَیں 17 جولائی 2009ء کو بطور اکاؤنٹینٹ مرکز اہل حدیث 106 راوی روڈ لاہور میں شامل ہوا۔ اس دن سے حاجی صاحب کی رفاقت نصیب ہوئی جو کہ 11 اکتوبر 2020ء تک رہی۔ آپ کو مَیں نے ایک ایماندار، جماعتی جذبے سے سرشار اور مالی بدعنوانی سے پاک ہستی پایا۔ آپ نے ہمیشہ میری تربیت کی اور مجھے وعظ ونصیحت اور دعاؤں سے نوازا۔ آپ دفتری عملے سے حسن سلوک اور نرم دلی سے پیش آیا کرتے تھے۔ کبھی دل میں بغض، حسد اور عناد کو پیدا نہیں ہونے دیا۔ ہمیشہ جماعت اور اس کی بہتری کا سوچا۔ کوئی بھی دفتری ملازم عرضی لے کر آتا تو آپ ضرور اس کی داد رسی کی اور فوری احکامات صادر فرماتے۔ مَیں نے ان کو قول وفعل میں بھی صادق پایا۔ ہمیشہ جو کہا اس پر کار بند رہے اور اس سے کبھی روگردانی نہ کی۔

آپ نے اپنے تمام بچوں کو بہترین دنیاوی ودینی تعلیم سے آراستہ کیا۔ آپ کے بیٹوں میں عالم دین، تاجر، بیوروکریٹ، وکیل، ڈاکٹر ہیں۔ آپ کے تمام بیٹے نمازی، صوم وصلوٰۃ کے پابند، جماعت کے ساتھ گہری محبت رکھنے والے اور مالی تعاون کرنے والے ہیں۔

آپ نے مختصر علالت کے بعد 11 اکتوبر 2020ء کی صبح تقریبا 1:24 پر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی۔ آپ اس دنیائے فانی میں 84 سال 9 ماہ 9 دن زندہ رہے۔

مزید :

رائے -کالم -