عورتوں کے حقوق کا مسئلہ

عورتوں کے حقوق کا مسئلہ
عورتوں کے حقوق کا مسئلہ

  

خواتین کا عالمی دن جیسے جیسے نزدیک آرہاہے ویسے ہی ایک مرتبہ پھر پاکستان میں خواتین کے حقوق کو لے کر بحث و مباحثہ کا سلسہ شروع ہو چکا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو گا کہ کیا عورتوں کے حقوق کا مسئلہ صرف صنف کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے؟یعنی کیا پا کستان میں خواتین کو صرف اس لئے حقوق نہیں ملتے کہ وہ عورت ہیں؟ پاکستانی اشرا فیہ کے طرز زندگی کو دیکھا جائے تو اس اشرا فیہ کا ایک حصہ تو ضرور ایسا ہے جو آج بھی اپنے طبقے کی خواتین کو سماجی حقوق دینے کو تیار نہیں، مگر اس کے ساتھ اسی اشرا فیہ کے اندر ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے کہ جن کی خواتین کو مغرب کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے،اپنی مرضی کاذریعہ معاش اپنانے، اپنی مرضی کا لباس پہننے، اپنی مرضی کا جیون ساتھی چننے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ اشرافیہ کے اس حصے کی خواتین کو لگ بھگ اسی طرح کی آزادیاں حاصل ہیں جتنی مغرب کے طبقہ اعلیٰ کی خواتین کو۔جہاں تک پا کستان کے متوسط طبقے کا تعلق ہے تو اس طبقے کے اندر بھی بہت سے حصے پائے جاتے ہیں۔ متوسط طبقے کی کئی خواتین ڈاکٹری اور درس و تدریس کے شعبوں میں اپنا بھر پور کر دار ادا کر رہی ہیں، مگر متوسط طبقے میں ایسے حصے بھی ہیں جو عورت کو تعلیم دلوانے کے حق میں ہیں مگر ان کی ملازمت کو اچھا تصور نہیں کرتے۔ اب اگر ہم غریب طبقات کی عورتوں کی طرف دیکھیں تو یہ حقیقت واضح طور پر ہما رے سامنے آتی ہے کہ ایسے طبقات میں خواتین کے حقوق نہ ہونے کے برا بر ہیں۔

ایسی خواتین جن کو جبری طور پر کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے، یا ایسی خواتین جو کارخانوں یا بھٹہ مزدوری کا کام کرتی ہیں، یا گھروں میں ملازمت کرتی ہیں ایسی خواتین کے حقوق کا واقعی کوئی پرسان حال نہیں ہے،جبکہ جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ایسے علاقے جہاں پر ابھی بھی قبائلی اورجا گیر داری نظام کے اثرات مو جود ہیں انمیں تو عورت کو سرے سے انسا ن ہی نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان کی اس سماجی صورت حال کے ذریعے ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کی طرح پا کستان میں بھی خواتین کے حقوق کا مسئلہ سر اسر طبقاتی  ہے۔ یعنی جس طبقے کے پاس وسائل کی فرا وانی ہے، اس طبقے کی خواتین کی اکثر یت کو بھی معاشی سیاسی اور سماجی حقوق کا مسئلہ نہیں، مگر جو طبقہ ہر طرح کے وسائل سے محروم ہے اس کی خواتین کے حقوق بھی پا ما ل ہوتے ہیں۔ اس مسئلہ کو سیاسی پہلو سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے خطے کے چار ممالک ایسے ہیں جہاں پر خواتین کو حکمرانی کا موقع بھی ملتا رہا، جیسے پا کستان میں بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیر اعظم بنیں، بھارت میں اندرا گا ندھی لگ بھگ 15سال وزیر اعظم رہیں۔ سری لنکا میں چندریکا کما را ٹنگااور سریما و و بندرا نائیکے سر ی لنکا پر حکومت کر تی رہیں اور بنگلہ دیش کی سیاست تو گزشتہ کئی برسوں سے دوہی خواتین خالدہ ضیاء  اور حسینہ واجد کے گرد گھوم رہی ہے۔ ان چار ممالک  میں جہاں عورتوں کو حکمرانی کے مواقع ملتے رہے ہیں دنیا کے لگ بھگ ڈیڑھ ارب انسان بستے ہیں۔

اور کیا وجہ ہے  کہ ان چاروں ممالک میں خواتین کی اکثریت بھی نہ صرف بنیادی حقوق سے محروم ہے بلکہ ان چا روں ممالک سے آئے روز ایسی خبر یں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ کسی خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا، کسی کو  ونی،کسی کو کاروکاری کا نشانہ بنا یا گیا کسی عوت کو جہیز نہ لانے پر زندہ جلا دیا گیا وغیرہ وغیرہ۔اگر خواتین کے حقوق کا مسئلہ صرف صنفی مسئلہ ہی ہو تا تو پھر اس اعتبار سے تو ان ممالک میں عورتوں کے پاس مثالی حقوق ہونے چاہئیں تھے، مگر ایسا نہیں ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ان ممالک میں جن خواتین کو حکمرانی کا موقع ملا یا  جن خواتین کو سیاست میں مقام ملا ان سب کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اشرافیہ کے طبقات سے ہی رہایہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت ان ممالک میں خواتین  کی اکثر یت بنیادی حقوق سے ہی محروم رہی۔کیونکہ خواتین کی اکثر یت کو معاشی ترقی کے مواقع نہیں دیے گئے، بلکہ پاکستان میں تو عورتوں کے سیاسی حقوق کے نام پر اسمبلیوں میں خواتین کے لئے نشستوں کو بھی مخصوص کیا گیا، مگر آپ تحقیق کر لیں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جما عتیں اکثر ایسی خواتین کو ہی رکن بنواتی ہیں جن کا  تعلق اشرافیہ کے طبقے سے ہو تا ہے۔ محروم طبقے کی خواتین کو رکن بننے کا موقع بہت کم ملتا ہے۔

آج ہمارے ہاں کے مغرب نواز طبقے عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ مغرب میں عورتوں نے سب سے پہلے معا شی حقوق حاصل کئے اور معاشی حقوق حاصل ہونے کے بعد ہی ان کو سیاسی اور سما جی حقوق ملے۔پوری دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ طبقے اپنے طبقات کا ہی معاشی، سماجی اور سیاسی تحفظ کرتے ہیں۔اگر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ پا کستان میں اشرا فیہ کے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی این جی اوزعلامتی نوعیت کے مارچ اور نعرے لگا کر محروم طبقات کی خواتین کو حقوق دلوا پائیں گی تو یہ اس کی خام خیالی ہو گی۔ ایسے علامتی ما رچز سے اشرا فیہ کی خواتین کا تو بھلا ہو جا تا ہے، مگر جس طبقے کی خواتین کو حقیقی معنوں میں حقوق کی ضرورت ہوتی ہے اس کا کوئی بھلا نہیں ہوتا۔ خواتین کی حقیقی آزادی کے لئے ضروری ہے کہ اس طبقاتی نظام کو سمجھ کر اس میں تبدیلی لانے کی جدو جہد کی جائے۔ خواتین کے حقیقی حقوق طبقاتی مسائل کے حل کے ساتھ ہی مشروط ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -