سیاست، عوام کی خدمت کے نام پر منافع بخش کاروبار

سیاست، عوام کی خدمت کے نام پر منافع بخش کاروبار
سیاست، عوام کی خدمت کے نام پر منافع بخش کاروبار

  

یہ خواب شاید ابھی ہنوز دلی دور است کی طرح بہت نا ممکن ہے کہ سیاست میں آنے والے سیاست کو خدمت کا ذریعہ سمجھیں، سیاست پاکستان میں مال بنانے، چودھراہٹ قائم کرنے اور خود کو قانون سے بالا تر رکھنے کی غرض سے کی جاتی ہے۔ عوام کی خدمت کرنے والا سیاستدان آپ کو کہیں نظر آ جائے تو مجھے بھی بتائیں آج گھوم پھر کے بات اس نکتے پر آ رکتی ہے کہ تحریک انصاف تو کرپشن کے خلاف نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی تھی، کپتان تو سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ کہتے تھے، پھر یہ کیا ہوا کہ کرپشن بھی ختم نہیں ہوئی، قومی خزانے سے بندر بانٹ کی کہانیاں بھی سامنے آ رہی ہیں اور سرکاری فنڈز اسی طرح جاری ہو رہے ہیں، کاغذی سکیمیں بن رہی ہیں، عوام کے مسائل وہیں کے وہیں موجود ہیں۔ ترقیئ معکوس کا عالم یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے دور میں کم از کم ارکانِ اسمبلی عوام کو جھوٹی سچی تسلی دینے کے لئے اپنے ڈیروں پر مل تو جاتے تھے۔ اب تو ان تک عوام کی رسائی ہی نا ممکن ہو گئی ہے ارکانِ اسمبلی سے پوچھو تو وہ یہ دہائی دیتے ہیں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ تو رہے ایک طرف وزیر و مشیر بھی ان کی بات نہیں سنتے، یہ تو چار دن کی چاندنی ہے کہ سینٹ کی وجہ سے ارکانِ اسمبلی کو حکمرانوں کے شرف دیدار کا موقع مل رہا ہے۔ مگر سب جانتے ہیں کہ سینٹ انتخابات کے مکمل ہوتے ہی پھر وہی اندھیری رات طاری ہو جانی ہے اور ارکانِ اسمبلی پھر عوام سے منہ چھپاتے پھریں گے۔

ایک بار نوجوانوں کے فورم میں مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ انتخابات میں کروڑوں روپے لگانے والے کیا ایسا صرف عوام کی خدمت کے لئے کرتے ہیں شکر ہے ان دنوں سینٹ الیکشن کا غوغا نہیں تھا، وگرنہ کروڑوں روپے صرف ٹکٹ حاصل کرنے پر خرچ کرنے کی خبریں اس سوال کا جواب دینے کو مزید مشکل بنا دیتیں میں نے بہتیرا سمجھانے کی کوشش کی مگر بات نہیں بنی۔ ایک طالب علم نے کہا کہ اگر ذاتی جیب سے پیسہ لگا کے عوام کی خدمت کرنی ہے تو اس کے لئے رکن اسمبلی بننا کیا ضروری ہے۔ یہی پیسہ جو امیدواران الیکشن مہم میں لگاتے ہیں، براہ راست عوام کی فلاح پر خرچ کریں تو لوگ انہیں اپنا بے تاج بادشاہ مان لیں۔ اس سے کہیں زیادہ عزت کریں جتنی یہ امیدوار رکن اسمبلی بن کر کروانا چاہتے ہیں بات سادہ سی ہے کہ خدمت خلق سے کسی کو کچھ نہیں ملتا،

پولیس پر ٹہکا اور نہ انتظامیہ پر گرفت، اپنے ہر جائز ناجائز کام کے لئے قانون کی بے توقیری اور کروڑوں روپے کے سرکاری وسائل کا حصول، جہاں انتخابات کو اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بھی ان میں حصہ لینے کا سوچ ہی نہیں سکتا تو یہ سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے کہ سیاست پاکستان میں عوامی خدمت کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ آپ نے ارکانِ اسمبلی کو اس بات پر تو اپنی قیادت سے جھگڑتے یا ناراض ہوتے دیکھا ہو گا کہ اسے فنڈز نہیں دیئے جا رہے، مگر اس بات پر وہ کبھی ناراض نہیں ہوگا کہ اس کے حلقے میں نوکریاں نہیں دی جا رہیں، عوام کے روز مرہ مسائل حل نہیں کئے جا رہے۔  آج سے نہیں عشروں سے ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دیئے جاتے ہیں۔ ان ترقیاتی فنڈز کا مجموعی تخمینہ لگایا جائے تو شاید ہندسے ختم ہو جائیں۔ مگر ملک کی جو حالت ہے، جو پسماندگی اور غربت ہے، وہ اس بات کی چغلی کھا رہی ہے کہ سیاست کو خدمت کہنے والے لوٹ مار کر کے غائب ہوتے رہے اور عوام کی حالت جوں کی توں رہی۔

پاکستان میں سیاست کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اور ان کے پیرو کاروں کی مجبوری یہ ہے کہ انہوں نے عوامی خدمت کا راگ ضرور الاپنا ہے۔ غریبوں کی حالت بدلنے کا نعرہ ضرور لگانا ہے، یہ کام فوجی آمر بھی کرتے رہے اور جمہوری حکمرانوں نے بھی اس دستور کو نہیں چھوڑا البتہ سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں عوام کو یہ بڑی خوش فہمی ہوئی تھی کہ غریبوں کی سنی گئی ہے۔ انہیں پہلی بار احساس ہوا تھا کہ عوام کی خدمت پر یقین رکھنے والا حکمران آیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنی ہر تقریر میں یہی کہتے تھے کہ پیپلزپارٹی غریبوں کی، مزدوروں کی پارٹی ہے اور ہمارا مشن عوام کی خدمت ہے۔ مگر پھر سب نے دیکھا کہ اس نعرے سے ذوالفقار علی بھٹو جیسا لیڈر بھی کس طرح دور ہو گیا یا دوسرے لفظوں میں حالات نے انہیں دور ہونے پر مجبور کر دیا۔ وہ سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے جو سیاست کو نظام پر غلبے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے، انہوں نے بھٹو کی عوامی خدمت کے سارے تاج محل مسمار کر دیئے۔

عوام کو حقوق تو کیا ملنے تھے ان کے رہے سہے حقوق بھی چھن گئے۔ پھر ضیاء الحق آ گئے۔ نعرہ ان کا بھی یہی تھا کہ عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے وہ سیاست کو صاف ستھرا کر کے عوامی خدمت کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے۔ مگر سب نے دیکھا کہ انہوں نے اپی مجلس شوریٰ میں چن چن کر ایسے لوگ شامل کئے جو عوام کو غلام بنانے کا دھندہ شروع دن سے جاری رکھے ہوئے تھے صرف یہی نہیں بلکہ سیاست کو عوامی خدمت کی بجائے مال بنانے کے عمل کو ضیاء الحق نے سیاست میں متعارف کرایا۔ بے دریغ فنڈز دیئے اور اس بات کا بالکل خیال نہیں رکھا کہ فنڈز عوامی فلاح پر خرچ ہو بھی رہے ہیں یا نہیں۔  کیونکہ مقصد یہ تھا ہی نہیں۔ مقصد تو صرف یہ تھا کہ جو طبقے عوام کو غلام بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنے ہاتھ میں رکھا جائے۔

یہ مال بناؤ نظام کس قدر ہماری سیاست میں سرایت کر چکا ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ عمران خان جب اپوزیشن لیڈر تھے تو بڑی دھواں دھار تقریروں کے ذریعے اس پر تنقید کرتے تھے کہ ارکانِ اسمبلی کو اربوں روپے کے فنڈز رشوت کے طور پر دیئے جاتے ہیں۔ سیاست میں لوگ اسی لئے آتے ہیں کہ پیسہ بنا سکیں۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر اس رسم بد کو ختم کر دیں گے، مگر صاحبو! جن لوگوں کے سہارے آپ کی حکومت کھڑی ہو آپ ان کی مخالفت کیسے مول لے سکتے ہیں ارکان اسمبلی روٹھنے لگے،فارورڈ بلاک بنانے کی دھمکی دینے کی روش پر چل نکلی تو گویا اس غبارے سے ہوا نکل گئی جو سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنانے کے نام سے پھوک بھر کے بنایا گیا تھا۔ اب تو صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑنے کے لئے بھی کروڑوں روپے درکار ہیں قومی اسمبلی اور سینٹ کا معاملہ تو بہت اونچا چلا گیا ہے۔ سو ان حالات میں یہ توقع رکھنا کہ اسمبلیوں میں ایسے سر پھرے افراد آ جائیں گے جو خدمتِ خلق پر یقین رکھتے ہوں، ایسا احمقانہ خواب ہے جس کی تعبیر کے بارے میں سوچنا بھی کسی بڑی حماقت سے کم نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -