ٹرائل تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ہائیکورٹ

 ٹرائل تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ہائیکورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرنے کے اپنے تحریری  فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ٹرائل مکمل ہونے میں غیر معمولی وقت لگنے کے نکتہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ملزم کو سٹرنے کیلئے جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔ جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں بنچ نے باور کرایا کہ ملزم کو استغاثہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا. احتساب عدالت کی کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ ملزم عدالت میں باقاعدگی سے پیش ہو رہے ہیں. اگر وکلا کے پیش نہ ہوں تو اسکا قصوروار ملزم کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا عدالت نے قرار دیا کہ  ریفرنس میں حمزہ شہباز مرکزی ملزم نہیں ہیں. مرکزی ملزم شہباز شریف ہیں جو سلاخوں کے پیچھے ہیں. فیصلے میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز کو جیل میں رکھنے کیلئے کوئی  غیر معمولی جواز نہیں ہے اور عدالت اس نکتہ سے قائل ہے کہ ان کی ضمانت منظور کی جائے لاہور ہائیکورٹ نے ایک، ایک کروڑ کے دو مچلکوں کے عوض حمزہ شہباز کو رہا کرنے کا حکم دے رکھا ہے اس بابت عدالتی حکم ہے کہ حمزہ شہباز ایک ایک کروڑ کے دو مچلکے متعلقہ  عدالت میں جمع کروائیں حمزہ شہباز ہر تاریخ پر عدالت میں پیشی کو یقینی بنائیں جب تک انکے خلاف ریفرنس کا فیصلہ نہ ہو وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوتے رہیں عدالت نے شریک ملزمان فضل داد عباسی اور شعیب قمر کی ضمانت کا بھی تحریری حکم جاری کردیا گزشتہ روز بھی حمزہ شہباز کی رہائی کے لیے روبکار جاری نہ ہو سکی ان کی طرف سے چودھری مسعود اختر اور ادریس رفیق نے ضمانتی مچلکے جمع کروادیئے ہیں ان کی آج رہائی کا امکان ہے۔
 تحریری فیصلہ 

مزید :

صفحہ آخر -